ہفتہ ‘ 26 شعبان المعظم1434ھ ‘ 6 جولائی2013

5 جولائی کو ایک آمر نے جمہوریت پر شبِ خون مار کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ اس روز پیپلز پارٹی والوں نے ”یومِ سیاہ“ منایا جبکہ جنرل ضیاءالحق کی واحد سیاسی باقیات فرزند آمر اعجازالحق نے ”یومِ نجات“ منایا لیکن 4 اپریل 1979ءکو بھٹو کی پھانسی پر مٹھائی تقسیم کرنیوالے بابر اعوان نے ”یومِ فراغت“ منایا ہے کیونکہ وہ اس وقت بیچارے فارغ ہیں، زرداری صاحب نے بھی ”کُٹی“ کر دی ہے جبکہ کسی اور طرف سے بھی بُلاوا نہیں آ رہا۔ پچھلے رمضان میں تو پی ٹی وی پر وعظ و نصیحت کرنے آ جاتے تھے اب وہاں سے بھی کوئی لفٹ نہیں۔ بہرحال ہمیں تو وہ عاشقِ رسول بابر اعوان اچھا لگتا ہے جو اپنے دور میں سب کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو گیا تھا۔ بابر اعوان نے عین جوبن پر آ کر گیلانی کو ”بائے بائے“ کہا۔ امید ہے وہ اپنے فیصلے پر ”ہائے ہائے“ نہیں کر رہے ہوں گے کیونکہ جھوٹی گواہی ایک عاشق کے منہ سے کیسے نکل سکتی ہے۔ اپنے فیصلے پر بابر اعوان بزبانِ حال یوں کہہ رہے ہوں گے ....
اتنی سی خطا پر رہبری چھینی گئی ہم سے
کہ ہم سے قافلے منزل پہ لٹوائے نہیں جاتے
لگتا ہے بابر اعوان نے منزل سے پہلے قافلہ چھوڑ کر مٹھائی کی مٹھاس سے منہ کا ذائقہ تبدیل کیا ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
حج ”کوئٹہ“ میں کمی، حکومت اور پرائیویٹ آپریٹرز میں معاملات طے پا گئے۔
”کوٹہ“ کی بجائے سرخی میں ”کوئٹہ“ لکھا دیکھ کر ہم چونک اُٹھے کہ کوئٹہ کے حجاج کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے۔ دہشت گردوں نے بھی کوئٹہ کا رُخ کیا ہوا ہے جبکہ حکومت نے بھی کوئٹہ کے حجاج کے حق پر ڈاکہ ڈال دیا ہے لیکن جب سرخی سے تھوڑا آگے بڑھے تو پتہ چلا کہ ”کوئٹہ“ کے حجاج نہیں بلکہ حج ”کوٹہ“ میں کمی کی گئی ہے ....
ہم دعا لکھتے رہے اور وہ دغا پڑھتے رہے
ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کردیا
حجاج کرام کا معاملہ ذرا شدت اختیار کر رہا ہے۔ حرم کی توسیع کے پیش نظر سعودی عرب نے حج کوٹہ میں کمی کر دی ہے اب پرائیویٹ آپریٹرز کو بھی حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ضد چھوڑ دینی چاہئے کیونکہ مُنہ سے نکلے الفاظ‘ کمان سے نکلا تیر اور میڈیا پر آنیوالی تحریر واپس نہیں ہو سکتی لہٰذا پچھتاوے سے بہتر احتیاط ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
وزیر جیل سے رشوت، بیورو کریسی کا عملے کو معطل کرنے، انکوائری سے انکار !
ہمارے ہاں بیورو کریسی واقعی سفید و سیاہ کی مالک ہے۔ رنگے ہاتھوں رشوت لیتے پکڑے جانے کے باوجود عملہ معطل ہُوا نہ ہی کسی کے خلاف انکوائری کی جا رہی ہے۔ صوبائی وزیر جیل خانہ جات کو بیورو کریسی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑ رہے ہیں۔ جناب یہ کسی نے مذاق نہیں بلکہ حقیقت میں کہا تھا کہ ”کلرک بادشاہ“ ہوتا ہے۔ صدر، وزیراعظم، وزیر اعلیٰ، گورنر یا دیگر وزراءتو صرف 5 سال کیلئے ٹھاٹھ باٹھ سے رُعب و دبدبہ قائم رکھ سکتے ہیں جبکہ سیکرٹری اور کلرک تو 60 سال کیلئے وزیر ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو اپنی طاقت پر اتنا ہی گھمنڈ ہے تو پھر .... ع
”چلو اِک بار پھر سے اجنبی بن جائیں“
پہلے رشوت دیں، پھر تعارف کروائیں لیکن اسکے باوجود پکے چوروں کی طرح یہ چور پاﺅں پر پانی نہیں پڑنے دینگے۔ بیورو کریسی سفید ہاتھی بن چکا ہے اسکے چرچے چائینہ میں بھی ہو رہے ہیں، چینی سرمایہ کاروں نے بھی وزیراعظم نواز شریف سے پاکستانی بیورو کریسی کے رویے کی شکایت کی ہے جس پر میاں صاحب نے انہیں ذاتی نمبر اور ای میل ایڈریس تھما دئیے ہیں۔ مطلب کہ میاں صاحب بھی بیورو کریسی کو لگام دینے کی بجائے خود معاملات سنبھالنے آگے بڑھ گئے ہیں۔ میاں صاحب کس کس کو نمبر تھمائیں گے ہر معاملے کو آپ خود تو نہیں دیکھ سکتے، بیورو کریسی کے کان کھینچیں، انہوں نے ڈیڑھ فٹ کی الگ حکومت قائم کر رکھی ہے۔ ایک طرف طالبان قانون کو چیلنج کر رہے ہیں دوسری طرف بیورو کریسی قانون کی دھجیاں اُڑا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ چائینہ میں ہیں انہیں وہاں سے واپسی پر ”کیمپ جیل رشوت کیس“ کا خود جائزہ لینا چاہئے کیونکہ یہ وزیر جیل خانہ جات کا کام نہیں۔ رشوت خور مافیا بہت طاقتور ہے یہاں نیچے سے لیکر اوپر تک ہر کسی کے مُنہ کو حرام لگا ہوا ہے، یہ ایک ایسی بیماری ہے جو مرنے کے ساتھ ہی ختم ہوتی ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
رمضان المبارک سے قبل کراچی میں مزید 300 خفیہ کیمرے لگائے جائیں گے!
جیسے پہلے لگے ہوئے ہیں ایسے ہی ہوں گے تو پھر زحمت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسے کیمرے 300 چھوڑ کر 3 لاکھ بھی لگا لیں تو ان کا رزلٹ صفر ہی ہو گا۔ جناب کیمرے چلیں گے تو فائدہ ہو گا۔ کیا بند کیمرے نمائش کیلئے لگانے ہیں۔ دہشت گرد اگر کیمروں میں آ بھی جائیں تو آج تک کیفر کردار تک تو کسی کو پہنچایا ہی نہیں گیا۔ مشکوک افراد کیمروں سے چھپ کر ہی کارروائی کرتے ہیں۔ اگر شکل کبھی کیمرے میں آ بھی جائے تو پہلی فلائٹ سے افریقہ روانگی ہو جاتی ہے۔
جناب حساس مقامات پر کیمروں کے ساتھ ساتھ سکیورٹی والے نوجوان بھی کھڑے کریں۔ کہیں سکیورٹی والے بھی تو تخریب کاروں سے نہیں ملے ہوئے کہ خصوصی پروٹوکول میں محفوظ مقامات تک پہنچایا جاتا ہے۔ کراچی مقتل گاہ سے زیادہ تماشا گاہ بنا ہوا ہے، کبھی بلدیاتی آرڈیننس بحال تو کبھی تبدیل کر دیا جاتا ہے، اتنی جلدی تو کنجری یار نہیں بدلتی جس تیزی سے سندھ حکومت اپنے کئے ہوئے فیصلے تبدیل کرتی ہے۔ کراچی کو مقتل گاہ اور اسمبلی کو گُلی ڈنڈا بنایا ہوا ہے۔ کوئی قول و قرار ہوتے ہیں لیکن یہاں بلیک میلنگ کے باعث سب کچھ تہس نہس کیا جا رہا ہے۔ جناب قانون کو گھر کی لونڈی مت بنائیں، حق سچ کہہ کر اس پر ڈٹ جانا ہی مومن کا شیوہ ہے۔