ہفتہ ‘ 21؍ صفر المظفر1431ھ‘ 6؍ فروری 2010ء

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے دہشت گردی کو شکست دینے کے لئے حکمت عملی بدلنا ہوگی۔ دنیا نے تسلیم کر لیا کہ گولی اور بارود سے دہشت گردوں کو شکست نہیں دی جا سکتی۔
وزیر خارجہ نے یہ بات بہت دیر سے کی ہے اس سے پہلے وہ گولی اور بارود ہی کو دہشت گردی کا علاج سمجھتے تھے شاید مغرب دہشت گردی سے لڑتے لڑتے تھک گیا ہے اور اس نے جو خیال ظاہر کر دیا ہے ہماری وزارت خارجہ نے بھی اپنا بیان بدل دیا ہے ابھی کل کی بات ہے کہ امریکہ نے وزیرستان میں میزائلوں کی بارش کر دی جس سے بے شمار بے گناہ لوگ شہید ہوگئے اب تو انہیں چاہیے کہ وہ بیان دینے کے بجائے خارجہ پالیسی کو بدلیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے ذہن اور دل جیتنا ہوں گے‘ لوگوں کی جگہ اگر وہ امریکہ کا لفظ استعمال کرتے تو زیادہ صحیح ہوتا۔ جہاں تک بین المذاہب ہم آہنگی اور ڈائیلاگ کا تعلق ہے تو یہ آج کی بات نہیں دنیا بھر کے مسلمانوں نے سفاک مغرب کو بارہا یہ یقین دلایا ہے کہ ان کے دل صاف ہیں اور ان کے درمیان کوئی مذہبی تاثر نہیں لیکن یہود و ہنود اور امریکا کا دل خباثتوں سے بھرا ہوا ہے وہ پاکستانی وزیر خارجہ کے ایک بیان سے صاف نہیں ہو سکتا۔ دہشت گردی کی آڑ میں مغربی قوتیں جس طرح کی بے ہودگیاں کر رہی ہیں وہ جاری رہیں گی اگر وزیر خارجہ میں دم خم ہے تو مسلم اُمہ کو یکجا کریں اور سر اٹھا کر مغرب سے بات کریں کہ آپ یہ ظلم و بربریت کا سلسلہ بند کریں۔
٭…٭…٭…٭
شیو سینا نے کہا ہے شاہ رخ پاکستان کی حمایت میں پھر بیان دے کر دکھائیں جبکہ شاہ رخ خان نے کہا ہے میں اپنے مؤقف پر قائم ہوں۔
شیوسینا بھارت کا ایک ایسا موذی مرض ہے جو کبھی کسی طرف کبھی کسی طرف رُخ کرتا ہے اب اس نے شاہ رخ کا رُخ کر لیا ہے صرف اِسی بات پر کہ اس نے پاکستان کی حمایت میں بیان دیا ہے۔ شاہ رخ بنیادی طور پر پاکستانی خان ہیں انہوں نے کہا ہے کہ جو کچھ کہا اُس پر قائم ہوں اور ہرگز کسی سے معافی نہیں مانگوں گا۔ شیوسینا کے ترجمان نے دھمکی ہے کہ وہ ممبئی میں آ کر ایک مرتبہ پھر اپنے الفاظ دہرا کر دکھائیں جیسے وہ ایک دفعہ پر کچھ نہیں کرسکے دوسری دفعہ پر بھی کچھ نہیں کر سکیں گے۔ بھارت جس کے حق میں ہمارے ہاں امن آشا مہم چلائی جا رہی ہے اس کے پیروکاروں کو سبق سیکھنا چاہیے کہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ کس قدر تعصب روا رکھا جاتا ہے اگر یہی بیان کسی ہندو ایکٹر نے دیا ہوتا تو شیوسینا جو ہندو تعصب کی نمائندہ ہے خاموش رہتی‘ فلم سٹار شاہ رخ خان کے لئے بھی اس میں سبق ہے کہ بلاشبہ وہ مسلمان ہیں مگر انہوں نے اپنے گھر میں ہندو بیوی رکھی ہوئی لیکن ہندو تعصب کا پھر بھی کچھ نہیں بگڑا۔
لیاقت بلوچ نے کہا ہے غیر ملکی سفیر مظلوم کشمیریوں کو حق خودارادیت دلوائیں۔
لیاقت بلوچ کے جواب میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں ’’منجھ دار میں نِیا ڈولے تو ماجھی پار لگائے جب ماجھی ہی ناؤ ڈبوئے اُسے کون بچائے‘‘ ہمارے اپنے سفیر بڑے مظلوم ہیں وہ اپنے حق خودارادیت کو بچانے کے لئے دن رات کوشش کرتے ہیں سفیر اسی لئے مقرر کئے جاتے ہیں کہ وہ دوسرے ملکوں میں جا کر اپنے ملک کے حقوق کا تحفظ کریں جب ہمارے اپنے ہی اندھے ہیں گونگے ہیں تو ہم دوسروں کے کانوں سے کیا توقع رکھیں۔ کیا لیاقت بلوچ اتنے بے خبر ہیں کہ دنیا بھر میں مغربی سفراء پاکستان کے خلاف کیا کردار ادا کر رہے ہیں اور وہ کس تندہی سے اپنے ممالک کے غلط مؤقف کو صحیح ثابت کرتے ہیں۔ لیاقت بلوچ کو یہ مطالبہ اپنے سفیروں سے کرنا چاہیے تھا لیکن لگتا ہے کہ ہمیں غیروں سے مانگنے کی عادت سی پڑگئی ہے بلوچ صاحب نے غیر ملکی سفیروں کو خطوط بھی تحریر کئے ہیں اور ان سے سفارتی محاذ پر مظلوم کشمیریوں کی حمایت اور انہیں حق خود ارادیت دلوانے میں اپنے کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ ہمارے سفیر بڑے امیر ہوتے ہیں کیا یہی کوالیفیکشن ان کے لئے کافی نہیں؟ اگر بیرونی سفیر کشمیر کی حمایت نہیں کرتے تو بلوچ صاحب آپ اپنے سفیروں کوخط لکھیں۔
٭…٭…٭…٭
بھارت نے پاکستان کو اطلاع دئیے بغیر متنازعہ کشن گنگا ہائیڈرو منصوبے سمیت 5 میگا پراجیکٹز پر کام شروع کر دیا۔
بھارت نے جب پاکستان کو ٹکڑے کیا تھا کیا اس نے پیشگی اطلاع دی تھی؟ جو اب وہ پانی چھیننے کے مسئلے پر پاکستان کو اطلاع دے کر کام شروع کرے گا۔ ہاں پاکستان نے ایک بڑا ’’معرکہ‘‘ مارا ہے کہ 10 سال سے زیادہ عرصہ ان منصوبوں کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ بھارت نے اپنے پراجیکٹس کی سکیورٹی کے لئے بھارتی فوج کا خصوصی ڈویژن بھی تعینات کر دیا ہے پاکستان نے یہ بھی کمال کردیا ہے کہ بھارت سے دریائے چناب پر بجلی گھر کی تعمیر کی تفصیلات طلب کر لی ہیں اب ہوگا یہ کہ سندھ طاس کے کمشنر سید جماعت علی شاہ اگلے دس روز میں اپنے بھارتی ہم منصب کی سربراہی میں تین رکنی وفد کا استقبال کریں گے۔ بھارت 62 سال سے باتوں سے سیدھا نہیں ہوا وہ لاتوں سے سیدھا ہوگا‘ خدا جانے اس حقیقت کو ہماری حکومتیں ہماری قیادتیں کیوں نہیں سمجھتیں بلکہ شاید وہ سمجھنا بھی نہیں چاہتیں یہ تو ایک مردِ مجاہد مجید نظامی کی آواز ہے جو کشمیر کے بارے میں پانی کے بارے میں گونج رہی ہے اُن کے پاس نہ تو اس ملک کی حکومت ہے نہ قیادت مگر وہ اپنے تنِ ناتواں کو لے کر اس مسئلے پر ہمالہ کی طرح جمے ہوئے ہیں۔
………………………
گلبدین حکمت یار نے کہا ہے غیر ملکی اثر سے آزاد افغان حکومت سے ہی مذاکرات کریں گے۔ امریکا افغانستان میں مزید فوج بھیج کر غلطی کر رہا ہے۔
نیٹو نے تو کانوں کو ہاتھ لگا لئے ہیں امریکہ نے بھی تابوتوں کے ڈھیر لگا لئے ہیں مگر ایک یہودی کی ضد ہے جو اسے وہ کرنے پر مجبور کر رہی ہے جس کے نتیجے میں یہ دنیا تباہ ہو سکتی ہے گلبدین حکمت یار حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ ہیں اور بجا طور کہہ رہے ہیں کہ جب تک افغانستان غیر ملکی تسلط سے آزاد ہو کر ایک اپنی حکومت قائم نہیں کر لیتا وہ کسی سے مذاکرات نہیں کرے گا۔ گلبدین ایک نہایت ذہین افغان لیڈر ہیں اور انہوں نے افغان سیاست کے سارے نشیب و فراز دیکھ رکھے ہیں اُن کو معلوم ہے کہ افغانستان میں امریکی مزید فوج بھیجنے کے سلسلے میں یہودی لابی کے ہاتھوں مجبور ہے اور یہ مجبوری دراصل افغانستان پر امریکی قبضے کی کمزوری ہے جلد یا بدیر افغانستان غیر ملکی تسلط سے آزاد ہوگا اس لئے طالبان تو کجا افغان کہساروں کے چٹان بھی غیر ملکی تسلط کو برداشت نہیں کرتے۔ جتنے ظلم مغرب نے افغانستان پر ڈھائے ہیں اس کی مثال کہیں نہیں ملتی مگر افغان طالبان اور مجاہدین مزاحمت کرتے چلے جا رہے ہیں۔