جمعۃ المبارک‘22 ؍ شعبان المعظم‘1431 ھ‘6؍ اگست 2010ء

چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے‘ کالاباغ ڈیم بنا ہوتا تو قوم آج بڑی تباہی سے بچ جاتی۔
اب کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت
بہرصورت چھوٹے چودھری صاحب کو اب جا کر کالاباغ ڈیم کی افادیت و ضرورت کا احساس ہو گیا‘ یہ بھی غنیمت ہے اگر وہ مشرف کو دس بار صدر بنانے کے بجائے کالاباغ ڈیم ہی اپنے ممدوح سے بنوا لیتے تو قوم انہیں تاحیات صدر بنا لیتی اور چھوٹے چودھری کو وزیراعظم۔ گورنر صاحب نے بھی کالاباغ ڈیم بنانے پر زور دیا ہے‘ سیلاب نے خود ہی بتا دیا کہ کالاباغ ڈیم کی کتنی ضرورت ہے…ع
درد اٹھ اٹھ کر بتاتا ہے ٹھکانہ دل کا
ہمیں تو یہ بھی بھنک پڑی ہے کہ خود صدر پاکستان زرداری بھی کالاباغ ڈیم بنانے کے حق میں ہیں‘ اگر وہ یہ کارنامہ سرانجام دے دیں تو انکی مقبولیت کا گراف ایک دم آسمان سے باتیں کرنے لگے گا اور انکے سارے ذنوب دھل جائیں گے۔
وہ مردِ حر ہیں‘ تو مرد حر بن کر دکھائیں اور ’’سیخ پا سیاستدانوں‘‘ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ملک و قوم کو کالاباغ ڈیم کا تحفہ دیکر خود کو 2013ء کے بعد بھی مقبول بنالیں‘ یہ اتنا بڑا کارنامہ ہو گا کہ پاکستان کی ترقی کی تاریخ میں ان کا نام سنہری حروف میں لکھا جائیگا۔ یہ بڑا سنہری موقع ہے کہ پیپلز پارٹی خود کو امر کرے‘ توقع ہے کہ صدر یہ موقع ضائع نہیں کرینگے‘ لوہا گرم ہے‘ بس چوٹ لگانے کی ضرورت ہے۔
٭…٭…٭…٭
وفاق المدارس نے اپیل کی ہے کہ عوام اجتماعی توبہ کریں۔
کہنا تو چاہیے تھا کہ حکمران اجتماعی توبہ کریں‘ عوام تو ڈوب رہے ہیں‘ کبھی پانی کے سیلاب میں اور کبھی مہنگائی و بد انتظامی کے سیلاب میں اور ہر وقت توبہ توبہ کرتے رہتے ہیں‘ یہ وقت اجتماعی مدد اور کوشش کا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ دعا کا بھی ہے مگر دعا کا بھی اپنا وقت ہوتا ہے‘ اگر ہم محنت و مشقت نہ کریں اور صرف دعا سے کام چلانے کی کوشش کرینگے تو دعا قبول نہیں ہو گی‘ اس لئے کہ قرآن حکیم نے پہلے عمل اور پھر دعا کی تلقین کی ہے‘ اسی لئے تو اقبالؒ نے قرآن کی ترجمانی کرتے ہوئے فرمایا:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
یہ وقت ہے کہ جو ساحلوں پر بیٹھے ہوئے ہیں‘ وہ کمر کس کر سیلاب زدگان کی عملی مدد کو پہنچیں اور جس قدر بھی استطاعت ہو‘ ان کیلئے اشیاء خورد و نوش اور دیگر عام استعمال کی چیزیں فراہم کریں‘ جہاں تک حکمرانوں اور سیاست دانوں کا تعلق ہے‘ تو انکے حق میں اجتماعی دعا کی جائے کہ وہ ڈوبنے والوں کو بچانے کی پوری کوشش کریں اور اپنے مال و دولت میں سے جس قدر ممکن ہو‘ وافر حصہ ڈالیں‘ انکو کیا کمی ہے‘ وہ تو مال و متاع پھر سے جمع کرلیں گے‘ کیونکہ یہ ملک عوام کیلئے نہ سہی‘ حکمرانوں اور سیاستدانوں کیلئے بہت دیالو ہے۔
٭…٭…٭…٭
میانوالی میں انتظامیہ نے وزیراعظم کے دورے کے موقع پر جعلی ریلیف کیمپ لگایا گیا۔ جعلی کیمپ میں جعلی مریض لٹائے گئے‘ وزیراعظم کے جاتے ہی بوریا بستر لپیٹ دیا گیا‘ اس موقع پر وزیراعظم نے (جعلی) مریضوں کے علاج کیلئے پانچ ہزار فی کس کے چیک دیئے۔
جعلی ڈگریوں کے بعد جعلی سیلاب کیمپ کا انکشاف میانوالی انتظامیہ کے جعلی ہونے کی دلیل بن جاتا ہے‘ وزیراعظم کے ساتھ بھی انتظامیہ نے ہاتھ کر دیا‘ یہ جرأت بیوروکریسی کی سرکشی اور حکومت کو دھوکہ دہی کی ایک ایسی مثال ہے کہ وزیراعظم کو اسکی تادیب میں مثال قائم کر دینی چاہیے تاکہ آئندہ انتظامیہ کو ایسی بھونڈی حرکت کرنے کی جرأت نہ ہو اور یہ کفن فروشوں کی کھیپ ہی ختم ہو جائے۔
غضب خدا کا کہ ملک ڈوب رہا ہے اور انتظامیہ اپنی جھوٹی کارکردگی دکھانے کیلئے ملک کے وزیراعظم کو بھی دھوکہ دینے سے نہیں چوکتی۔ اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ جعلی ڈگریوں کے ساتھ اب جعلی سیلابی کیمپوں کی بھی چھان بین کرے‘ یہ ملک کیوں ترقی نہ کر سکا‘ اسکی وجہ کرپٹ انتظامیہ بھی ہے جس کو ایک زمانے سے بے لگام چھوڑ دیا گیا ہے‘ اگر اس کا سدباب نہ کیا گیا تو ایک روز جعلی وزیراعظم بھی سامنے لا کھڑا کیا جائیگا‘ ناطقہ سربگریباں ہے‘ اسے کیا کہئے!
٭…٭…٭…٭
بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا ہے‘ پاکستان حافظ سعید کیخلاف کارروائی کرے۔
بھارتی وزیر خارجہ‘ منکر نکیر خارجہ نہ بنیں اور کشمیر کے مسئلے سے کشمیریوں کیخلاف ریاستی دہشت گردی اور سیلابی پانی کا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑنے جیسے کرتوتوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش نہ کریں۔
حافظ سعید کا مطالبہ کرنے سے پہلے وہ وبال ٹھاکرے کو ہمارے حوالے کریں تاکہ ہم اس کی ضروری مرمت کرنے کے بعد ٹھیک ٹھاک کرکے واپس کردیں۔ وہ ایک حافظ سعید کی بات کیوں کرتے ہیں‘ ہر پاکستانی کشمیر کے معاملے میں حافظ سعید ہے۔ وہ کس کس حافظِ کشمیر کو طلب کرینگے؟ بہتر ہو گا کہ وہ ہم سب کو طلب کرلیں‘ مسئلہ کشمیر بھی حل ہو جائیگا اور کرشنا جی کے اور بھی کئی مسائل حل ہو جائینگے۔
ہندو بنیئے یہ سن لیں کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور یہ کہ ہم تقسیم کے نامکمل ایجنڈے کو مکمل کرکے رہیں گے۔ ہماری تو شہ رگ ہے جس کیلئے ہم جان دے سکتے ہیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کرکے جنت جا سکتے ہیں‘ جہاد فی سبیل اللہ ایک ایسی تلوار ہے جو وادی کشمیر پر لٹک رہی ہے‘ اس سے پہلے کہ اس کا پھیلائو بڑھ جائے‘ بھارت شرافت کے ساتھ کشمیریوں کا وطن واپس کر دے‘ پھر ہم حافظ سعید سے بھی بات کرینگے‘ یعنی انہیں مبارک ہو کہیں گے۔