اتوار ‘ 9 ذی الحج 1435ھ‘ 5 اکتوبر 2014ء

اتوار ‘ 9 ذی الحج 1435ھ‘ 5 اکتوبر 2014ء

زرداری نے لاہور میں ڈیرا ڈال لیا، پنجاب میں فعال پارٹی بلاول کے سپرد کی جائے گی! چلیں ”دیر آید درست آید“ زرداری کو بھی پنجاب کی یاد آئی جو کبھی پیپلز پارٹی کا قلعہ کہلاتا تھا بعد ازاں پارٹی کیلئے ”واٹر لو“ کا میدان بن گیا۔ اب زرداری نے بلاول ہاﺅس لاہور میں خیمہ زن ہو کر جس طرح مختلف سیاسی پارٹیوں اور پیپلز پارٹی کے روٹھے ہوئے رہنماﺅں سے ملاقاتیں شروع کی ہیں ان سے لگتا ہے کہ ”ہو کے رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیوں“ لگتا تھا کہ پنجاب کا میدان اب مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے ہاتھ ہی رہنے والا ہے اور اب تو مولانا کنٹینر کے سیاست میں کودنے کے بعد تو پیپلز پارٹی کی راہ اور مشکل پڑتی دکھائی دینے لگی ہے۔ مگر لوگوں کو آصف زرداری کی ”مفاہمتی سیاست“ کے معجزانہ اثرات کا بھرپور علم ہے کہ وہ کس طرح پہلے نواز نواز شریف کو بڑا بھائی کہہ کر اور اب سراج الحق کو چھوٹا بھائی قرار دے کر رام کر چکے ہیں، کیا پتہ کل کلاں عمران یا قادری کو بھی منجھلا بھائی کہہ کر رام کر لیں۔ اس وقت لگتا ہے لاہور کا ستارہ عروج پر ہے۔ نواز شریف، عمران خان، طاہر القادری کے بعد آصف زرداری کی بھی لاہورپر نظرکرم ہے۔ وہ بھی قلعہ ایک بار پھر رام کرنے یا زیر کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ ویسے بھی یہ حقیقت ہے کہ تخت لاہور کا فاتح ہی پنجاب کی کیا پورے پاکستان کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے ٭۔٭۔٭۔٭۔٭انقلابی و تبدیلی دھرنے کے شرکاءڈی چوک پر ہی عید منائیں گے! اب ظاہر ہے یہ عید سویاں کھانے والی میٹھی عید تو ہے نہیں کہ دودھ میں اُبال کر پکا لیں، یہ عید قربان ہے اور شرکا کا بیان ہے کہ وہ قربانی بھی نہیں کرینگے تو اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ ڈی چوک جو پہلے ہی دھوبی گھاٹ اور عوامی بیت الخلا بن چکا ہے۔ خیموں کو دیکھیں تو کسی بنجارہ بستی کا گمان ہوتا ہے۔ اب یہاں بوچڑ خانہ یعنی مذبحہ خانہ بھی لگے گا، دُنبے، گائے، بکرے چھترے، اونٹ اور بیل ذبح ہونگے، انکی آلائشوں اور انسانی فضلے کی بدبُو بعد ازاںجو یہاں قیامت مچائے گی اسکے اثرات تو کئی برساتوں کے بعد بھی محسوس ہوں گے۔ یہ تو بعد کی بات ہے عید کے روز قصابوں کی کھٹ کھٹ ہو گی، گوشت بنایا جائیگا، کہیں کباب، کہیں شامی، کہیں پلاﺅ، کہیں قورمہ، کہیں بریانی، کہیں روسٹ تیار ہو گا گویا ڈی چوک ایک عوامی اجتماعی کچن یا سرائے کا منظر پیش کریگا اور جب شام کو یہاں محفل موسیقی سجے گی تو جنگل میں منگل کا سماں بن جائیگا۔ آگ کے الاﺅ جل رہے ہوں گے، گوشت بھونا جا رہا ہو گا، میوزک کی تیز لَے پر پشتو، پنجابی اور سندھی نغمے گونج رہے ہوں گے، یارانِ تیزگام ”رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے“ کا مظاہرہ کرینگے۔ صبح علامہ کنٹینر میں نماز عید کے امام ہوں گے تو شام کو عمران خان محفل موسیقی کے صدر نشین۔ خوب ہلا گلا کھابے اڑائے جائینگے ہو گا یوں اسلام آباد کے باسی عید قربان پر ڈی چوک میں قائم بنجارہ بستی کا ایک نیا رنگ دیکھیں گے۔ گورنر پنجاب کی رخصتی قریب ہے : الطاف حسین! اب چودھری سرور تو حیرت سے الطاف بھائی کا چہرہ دیکھ کر ”الطاف توں وی“ کہہ رہے ہونگے کیونکہ ان کی رخصتی کا بندوبست کرنیوالے اسباب میں سے ایک انکے ساتھ گورنر کی ملاقات بھی ہے۔ اگرچہ چودھری سرور لندن میں الطاف بھائی سے ملاقات نہ کرتے، پریس کانفرنس نہ ہوتی اور گورنر کے منہ سے ایسے اُلٹے سیدھے بیانات نہ نکلتے جن سے انہیں گورنر بنانے والوں کے مزاج برہم ہوتے ہیں اسی لئے کہتے ہیں ناں .... پہلے تو اپنی دل کی ادا جان جائیے پھر جو مزاجِ یار کہے مان جائیے دل کی بات لبوں پر لاتے ہوئے اگر احتیاط نہ برتی جائے تو پھر زیست میں ایسے ہی مشکل مرحلے پیش آتے ہیں۔ سادہ لوح گورنر پنجاب بہت جلد سیاسی پنڈتوں کے ہتھے چڑھ کر انکی بولی بولنے لگتے ہیں۔ بے شک وہ غیر سیاسی گورنر ہیں مگر انہیں مقرر تو ایک سیاسی جماعت کے لیڈروں نے کیا ہے وہ اگر انکے مخالفین کیساتھ بیٹھ کر اپنے حکمرانوں، کے بارے میں سچ بولیں گے۔ جماعت اور سیاسی بُرائیوں کو اُجاگر کرینگے تو بھونچال آئے گا ہی۔ ہمارا ملک ہمارا سیاسی نظام اور ہمارے عوام ابھی تک یورپی ممالک کی طرح پکے اور سچے جمہوری نہیں ہوئے ہیں فی الحال یہ کچی پکی جمہوریت کے دور سے گزر رہے ہیں جس کا پھل کبھی کڑوا اور کبھی میٹھا لگتا ہے اس لئے ابھی تک انہیں تنقید برائے اصلاح ہضم نہیں ہو سکتی۔٭۔٭۔٭۔٭۔٭یوکرائن کے صدر پر ”کیک حملہ“ ناکام! آج تک بڑے بڑے سرکاری حکام اور حکمرانوں پر جوتے برسانے کا منظر آنکھوں سے دیکھا بھی اور کانوں سے سُنا بھی مگر یہ ”کیک حملہ“ تو واقعی خاصے کی چیز تھا۔ صدر نے میز کے نیچے پُھرتی سے گھس کر حملہ ناکام بنا دیا اور جلد باز حملہ آور تیزی سے یکے بعد دیگرے 2 کیک ضائع کر کے فرار ہو گئے، کم از کم ان میں اتنی ہمت تو ہونی چاہئے تھی کہ وہ ایک کیک مار کر ٹھہر جاتے اور دیکھتے کہ نشانہ چُوک تو نہیں گیا پھر دوسرا کیک مارتے مگر افسوس ناتجربہ کار حملہ آور تیزی سے دو کیک نشانہ پر پھینک کر فرار ہو گئے اور صاحبِ نشانہ بعد میں .... کتنا میٹھا تھا تیرا کیک رقیب سارا کھا کے بھی بے مزہ نہ ہُواگنگنانے ہوئے آرام سے صحیح سالم بچنے والا کیک چائے کے ساتھ نوش فرما گئے ہونگے اور انکے دشمن پیسے ضائع ہونے پر جل بُھن کر کباب ہو گئے ہوں گے۔ یہ ایک بہترین تبدیلی ہے جو ہمارے ملک میں خاصی مقبول ہو سکتی ہے ۔ ویسے بھی ہمارے ہاں ٹماٹر اور گندے انڈے مارنے کا رواج موجود ہے، آجکل مہنگائی کا دور ہے ہمارے ہاں کیک مہنگے ہیں اگر ہمارے لیڈروں پر بھی ٹماٹر، پیاز اور آلوﺅں کی بارش شہر شہر اور گاﺅں گاﺅں میں ہونے لگے تو بخدا بہت سے غریبوں کا بھلا ہو گا جو اس تقریب سعیدکے بعد اپنے ساتھ گھر میں پکانے کیلئے ہانڈی کا سامان تھیلوں میں بھر بھر کر لے جائینگے یوں احتجاج اور روٹی دونوں کا مسئلہ حل ہو گا اور غریب لوگ بھی روزانہ ایسے ہی بھرپور احتجاج کی دعائیں کرتے رہیں گے۔ ٭۔٭۔٭۔٭۔٭