جمعرات ‘ 16 ذیقعد1430 ھ‘ 5 ؍ نومبر 2009ء

صوبہ پنجاب کے طول و عرض میں ڈاکہ زنیوں‘ چوریوں‘ زیادتیوں اور قتل و غارت کے واقعات عہد گزشتہ میں بھی تھے‘ حکمران وعدے کرتے تھے اور وفا نہیں کرتے تھے‘ مگر آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے‘ پنجاب میں نقل و حرکت زیادہ اور عملی کارنامے بہت کم ہیں۔
میاں صاحب چھوٹے خاصے بڑے ہو گئے ہیں اُنہیں چاہئے کہ کوئی چوکا چھکا لگا دیں تاکہ یہ میدان صاف ہو اور کوئی فیصلہ کن منظر طلوع ہوسکے۔ اس وقت پنجاب کے صوبے میں بدامنی اور محکموں کی ناگفتہ بہ حالت یہ بتاتی ہے کہ اگر فوری طور پر بنیادی فیصلے نہ کئے گئے تو معاملہ بنیادوں کو کمزور کرنے کا باعث ہو سکتا ہے۔ پنجاب‘ میں ترقی کے امکانات کا شمار نہیں‘ اگر حکمران ڈٹ جائیں تو صوبے کے وسائل کو کام میں لا کر اس زرخیز زمین میں سے ایک بار پھر سونے کی فصلیں اُٹھائی جا سکتی ہیں‘ ہمت مرداں مدد خدا کے تحت صوبے میں بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔
اس وقت صوبے میں جرائم نے زور پکڑا ہوا ہے ‘ چوری ڈاکے اور راہزنی کی وارداتوں کے علاوہ ایک چھوٹی سی بچی سے لیکر اُس کی ماں تک کوئی بھی محفوظ نہیں‘ متوسط درجے کے لوگوں کے پاس دوچار پیسے اور اپنی سفید پوشی کی پوشش کے سوا کچھ نہیں‘ مگر حیرت ہے کہ اس وقت ٹینشن کا جو بوجھ پوری قوم نے اُٹھا رکھا ہے‘ وہ حد سے باہر ہے لیکن حکمران ہیں کہ اپنے بچائو کیلئے این آر او جیسے کالے قانون میں الجھے ہوئے ہیں‘ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ان کا لایا ہوا این آر او صرف اسی دھرتی پر انکے کام آسکتا ‘ روز محشر ایسا کوئی قانون انہیں نہیں بچا سکے گا۔
٭…٭…٭…٭
ایک خبر کے مطابق بابوصابو انٹرچینچ کے راستے لاہور میں بارود سے بھری گاڑی داخلے کی اطلاع پر شہر میں سیکورٹی الرٹ اور ناکے لگا دیئے گئے ہیں۔
دو روز قبل اسی مقام سے ایک بارود سے بھری گاڑی کو ہماری بہادر پولیس نے اندر داخل ہونے سے روک دیا تھا‘ جس کے نتیجے میں ہماری پولیس کے بہادر جوان شدید زخمی بھی ہوئے لیکن آج اسی مقام سے خودکش بمبار بارود سے لدی گاڑی اندر داخل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
خدا خیر کرے‘ پولیس نے جگہ جگہ ناکے لگا رکھے ہیں‘ سیکورٹی مزید سخت ہو جائیگی‘ جس سے عوام کی شامت آجائیگی اور کارروائی کرنے والے اپنی کارروائی کہیں نہ کہیں کر ڈالیں گے۔
حالانکہ دیکھا جائے تو عوام تو بے خوف و خطر گھوم پھرکر اپنے روزمرہ کے کام میں مصروف رہتے ہیں‘ جبکہ انتظامی مشینری انتہائی خوف میں مبتلا نظر آتی ہے۔ پاکستانی قوم تو ایسی بہادر ہے کہ ایک طرف بم دھماکہ ہوتا ہے تو دوسری طرف کرکٹ میچ کی جیت پر قوم بھنگڑا ڈال رہی ہوتی ہے۔
جو قوم موت سے نہیں ڈرتی‘ اسے کون ڈرا سکتا ہے۔ دھماکے‘ ناکے‘ چوری‘ ڈاکے‘ یہ سب ان کیلئے روز کا معمول بن چکے ہیں‘وہ ان سب کے عادی ہو چکے ہیں‘ جس دن شہر میں ناکے نہ لگیں‘ شہر ویران لگتا ہے‘ جس دن ڈاکے نہ پڑیں‘ تھانے انجان لگتے ہیں۔
کہتے ہیں جو ڈرتا ہے‘ وہ مرتا ہے‘ اس لئے جتنی ہماری سیکورٹی الرٹ رہتی ہے‘ بے چاری اتنی ہی خودکش دھماکوں اور ڈاکہ زنی کا نشانہ بنتی ہے۔
٭…٭…٭…٭
فرقہ واریت بڑی خطرناک بیماری ہے‘ جو ایک دفعہ کسی معاشرے کو لگ جائے تو سارہ معاشرہ ہر لحاظ سے ڈھے جاتا ہے، اسلام ایک دین ہے مذہب نہیں، مسلمانوں کو ہمیشہ فرقہ واریت اور اندرونی اختلافات نے برباد کیا، علماء کرام کوچاہئے کہ وہ اپنے پیروکاروں کو اختلاف کی اصل وجہ بتائیں۔
ایک ہی دین پر ایمان رکھنے والوں میں کبھی کسی مسئلے پر اختلاف ہوسکتا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ایک فروعی اختلاف کو اصولی اختلاف بنا کر دست و گریباں ہو جائیں، فروعی اختلافات کو کسی طرح بھی ایک پوری قوم کو جڑ سے اکھاڑنے کا سبب نہیں بننا چاہئے۔ حضرت امام شافعی اور امام ابوحنیفہ کاآپس میں بہت پیار تھا۔
ہمارے بڑے علماء کرام نے ہمارے سوچنے کیلئے ایک تھنک ٹینک رائج کیا تاکہ امت میں کہیں جمود طاری نہ ہو، وہ دین کے اصولوں کی مدد سے اجتہاد کرکے زندگی سے متعلق ہر طرح کی باتوں کو واضح کردیا کرتے تھے‘ اسلام کا ایک اپنا نظام اخلاقیات ہے، اگر اللہ کے گھروں کو بھی ہم نے یہی رنگ دیا اور دین کو افیون سمجھ کر ایک نفسانی حِس بنا دیا، اسلام سیدھا سادا ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، مگر ہم نے اسکی تحقیقات کرکے ہر بار نیا جوہر دریافت کیا، حدیث میں آتا ہے:
’’اختلاف امتی رحمتہ‘‘ میری امت میں اختلاف رائے کا پایا جانا رحمت ہے۔
٭…٭…٭…٭
ایک یورپین کمپنی نے ہوا سے چلنے والی گاڑی تیار کرلی۔
قدرت نے کائنات میں زندگی کا ساماں اتنا وافر رکھ دیا ہے کہ جوں جوں انسان جنگ و جدل کو چھوڑ کر ایجادات کی طرف رخ کرتا ہے‘ اسے قدرت نواز دیتی ہے۔ ایک ایسے عالم میں جب انسانیت کو پٹرول کے قحط کا سامنا ہے اور پاکستان میں اس کی قیمتوں میں اتنا اضافہ کر رکھا ہے کہ اگر کبھی آٹے میں نمک کے برابر کمی کی جائے تو بھی تیل کے نرخوں میں اضافہ ہی محسوس ہوتا ہے۔
ہوا سے چلنے والی گاڑی کے بارے میں ہمارے حکمرانوں کو سوچنا چاہئے اور یہ درآمد کرکے نہ صرف حکمرانوں کو دی جائے بلکہ مارکیٹ کو فراہم کرنی چاہئے تاکہ اس سستی گاڑی سے ہر کوئی فائدہ اٹھا سکے۔ اگر یہ ہوا سے چلتی ہے تو چلتی ہی رہے گی کیونکہ قدرت کے کارخانے میں لوڈشیڈنگ کہاں؟ البتہ انتہائی حبس کے عالم میں اگر کوئی حکمران بیٹھ جائے توبھی گاڑی چلتی رہے گی‘ یہ کوئی نہیں سمجھ سکا کہ ہمارے ہاں کوئی اقدام انتہائی سنگین حالات میں کیوں کیا جاتا ہے؟