جمعة المبارک‘ 25 شعبان المعظم1434ھ ‘ 5 جولائی2013 ئ

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما جہانگیر بدر نے پی ایچ ڈی کر لی۔ ڈاکٹر بننے کے بعد شاید جہانگیر بدر کا اندازِ گفتگو تبدیل ہو جائے ”سین اور شین“ ”ر‘ ڑ“کے مابین فرق پیدا کرنے کیلئے انہیں ڈاکٹر بننے کی بجائے کسی مدرسے کے قاری کے پاس کلاس لینی چاہئے تھی تاکہ ان کے مخارج بہتر ہو سکتے۔ لیکن اب ڈاکٹر بننے کے باوجود ان کا اندازِ گفتگو پرانا ہی رہے گا۔ ان کے ڈاکٹر بننے سے ان کی شخصیت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا کیونکہ She اور He ان کی زبان میں ایک ہی ہو گا۔ جہانگیر بدر کو بینظیر بھٹو کے موضوع پر پی ایچ ڈی کرنے کی بجائے صدر زرداری کا انتخاب کرنا چاہئے تھا کیونکہ مستقبل کی پیپلز پارٹی کو گڑھی خدا بخش سے کوئی نہیں چلائے گا بلکہ مفاہمتی پالیسی پر زرداری صاحب ہی چلائیں گے۔ جہانگیر بدر اگر ان پر پی ایچ ڈی کرتے تو شاید جنرل سیکرٹری کا عہدہ واپس مل جاتا۔ بینظیر بھٹو تو اگلے جہاں جا چکی ہیں وہ پی ایچ ڈی پر آپ کو کیا انعام دیں گی .... بینظیر بھٹو پر پی ایچ ڈی کے بعد آنجناب کی حالت اس شعر سے مختلف نہیں ہو گی .... 
خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم ۔۔۔ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے 
جناب آپ سے گزارش ہے کہ جس سے بھی آپ نے پی ایچ ڈی کا تھیسس لکھوایا ہے انہیں پیسے پورے دینا تاکہ کل کو وہ وعدہ معاف گواہ بن کر آپ کی ڈاکٹری کو چیلنج نہ کر دے.... یہ پھر ایسا یدھ ہو گا جیسے کچھ عرصہ قبل اداکارہ لیلیٰ نے آپ کی بہو بننے کا ڈرامہ کرکے مچایا تھا۔ جہانگیر بدر کو ڈاکٹر بننے پر بہت بہت مبارک ہو، اب ان سے گزارش ہے کہ وہ کسی منجھے ہوئے ”قاری قرآن“ کی خدمات حاصل کر کے اپنے مخارج درست کرنے کی کوشش کریں تاکہ ان کی باتیں سمجھی جا سکیں کیونکہ ہمارے پاس ایک چوہدری شجاعت ہیں دوسرے کی ضرورت نہیں۔ ٭۔٭۔٭۔٭۔٭سکواش کے ذریعے بیرونی دنیا پر ڈرونز گرانے شروع کر دئیے ہیں : رضی نواب دنیا ہم پر ڈرونز گرا رہی ہے ہم ابھی تک ان ڈرونز کو گرا نہیں سکے سکواش کے ذریعے بیرونی دنیا پر ڈرونز کیسے گرائیں گے؟ رضی نواب نے واقعی نوابوں والی بات کی ہے۔ لگتا ہے بادشاہ مزاج ہیں جو دل میں آیا کہہ دیا۔ ہم بیرونی دنیا کے ڈرونز تو نہیں گرا سکتے البتہ ہمارے بہت سارے نوجوان جہاج اور ڈرونز بن کر بھاٹی چوک پر گرے ہوتے ہیں۔ کھیل صحت مند معاشرے کو جنم دیتے ہیں پاکستان سکواش فیڈریشن بیرونی دنیا پر ڈرون گرانے کی بجائے اپنے گرے ہوئے ڈرون اور جہاجوں کو اٹھانے کا بندوبست کرے تاکہ بیرون دنیا میں ہمارا نام بھی بلند ہو۔ سکواش کے کھیل کو فروغ دینے کیلئے سکولز اور کالجز کی سطح پر پروگرام ترتیب دئیے جائیں، باصلاحیت نوجوانوں کو آگے لانے کی کوشش کی جائے۔ سکواش فیڈریشن کی انتھک محنت سے 2015ءکے عالمی کپ کی میزبانی پاکستان کو ملی ہے اب تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اس ٹائٹل کو اپنے پاس رکھنے کی کوشش کریں اگر آپ ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہو گئے تو پھر یہ واقعی بیرونی دنیا پر ڈرونز گرانے کے مترادف ہو گا۔ اب یہ نہ ہو کہ ڈرونز گرانے کا نعرہ لگانے کے بعد آپ خود ہی گر پڑیں۔ اگر آپ گرے تو پھر تباہی کا اندازہ لگا لینا اور ردعمل کیلئے بھی تیار ہو جانا کیونکہ آجکل ڈرون کے خلاف قوم ایکشن میں ہے‘ گرچہ اس نے ممکنہ ردعمل کے بارے ابھی تک آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ ٭۔٭۔٭۔٭۔٭خیبر پی کے حکومت ایک ہی روز آغازِ رمضان کرنے اور عید منانے کیلئے سرگرم، علماءسے رابطہ کر لیا ! یہ تو کوّے کے گلے میں گھنٹی باندھنے کے مترادف ہو گا۔ دیکھیں خیبر پی کے حکومت گھنٹی باندھنے میں کامیاب ہوتی ہے یا کوّا چونچ مار کر اُڑ جاتا ہے۔ تحریک انصاف کی تبدیلی کی یہ پہلی سیڑھی ہے اگر وہ اس میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر اگلے مراحل آسان ہو جائیں گے کیونکہ متحدہ مجلس عمل بھی اپنے دور میں یہ مسئلہ حل نہیں کر سکی تھی اور چند علماءحضرات کے سامنے پانچ سال تک بے بسی کی تصویر بنی رہی۔ ویسے باقی صوبوں کی نسبت تبدیلی پہلے صوبہ خیبر پی کے میں شروع ہوئی ہے، وہاں کانٹے بکھرے ہوئے ہیں انہیں صاف کر کے پھولوں کی پتیاں بکھیرنا جان جوکھوں کا کام ہے لیکن .... ہمتِ مرداں مددِ خدا کے مصداق پی ٹی آئی کو جہدِ مسلسل میں لگے رہنا چاہئے شاید کچھ تبدیلی آ جائے لیکن کام بہت مشکل ہے پنجہ آزمائی کر لینی چاہئے۔ ویسے کُتے کی ”پوشل“ کو سو سال تک سیدھا رکھیں‘ اسے جب بھی چھوڑیں گے وہ ٹیڑھی ہی ہو گی۔ سونامی ساحلِ خیبر پی کے سے ٹکرا تو گیا ہے لیکن جن لوگوں کے ساتھ اس کا پالا پڑا ہے انہیں تبدیل کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کے۔ ٹو پہاڑ کو سر کرنا مشکل ہے، خیبر پی کے کے عوام مذہبی لوگ ہیں اگر انہوں نے خان صاحب سے یہ سوال کر ہی لیا کہ جناب ہمارے بچے ڈرون کے سائے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور سلمان خان ابن عمران خان کہاں ہیں، تو کیا جواب ہو گا۔ احمد فراز نے کہا تھا .... 
میں صرف ایک بار لاجواب ہوا تھا فراز ۔۔۔ جب کسی اپنے نے کہا تھا کون ہو تم 
ابھی تک وہ عوام میں گئے نہیں اگر کسی نے ایسا سوال کر لیا ہے تو پھر واقعی سونامی خان لاجواب ہو جائیں گے کیونکہ دونوں بچوں کی تربیت کہاں ہو رہی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ٭۔٭۔٭۔٭۔٭