منگل ‘ 2 شعبان المعظم1432 ھ‘ 5 جولائی 2011ئ

جماعت اسلامی نے حکمرانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیرونی دوروں کے مواقع پر عام فلائٹ کے ذریعے سفر کریں۔
جماعت کیوں چھوٹے چھوٹے مسئلے اور مطالبے لے بیٹھتی ہے‘ وہ یہ نہیں جانتی کہ پنجاب کی تین دن سی این جی کی سپلائی بند کردی گئی ہے‘ آخر پنجاب کے ساتھ ہی یہ ”مہربانی“ کیوں؟ تین دن مزدور پیشہ لوگ رزق سے محروم ہو گئے ہیں‘ اسی طرح کئی اور مشکلات قوم کو درپیش ہیں‘ انکے حل پر جماعت توجہ دے لیکن آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کے بیرونی دوروں میں خاص فلائٹ پر جانے کی بات اتنی بری نہیں کہ اسے موضوع تنقید بنایا جائے۔ آج کے زمانے میں اگر ہمارے صدر اور وزیراعظم خاص فلائٹ پر باہر جاتے ہیں تو یہ رعایت و سہولت ان کو ملنا شجر ممنوعہ نہیں ہم کہتے ہیں کہ بے شک ہر دو حضرات خاص فلائٹ پر ہی سفر کریں مگر کم از کم زمین پر سفر کرنےوالے عوام کیلئے بھی وہ سفری سہولتیں پیدا کریں۔ اچھی آرام دہ شہری ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے‘ ٹرامز چلائی جائیں‘ ٹرینوں کو ایک بار پھر فعال اور آرام دہ بنایا جائے اور ریلوے کے محکمے کو نجکاری کے بجائے سرکاری تحویل میں سفر وسیلہ ظفر بنایا جائے اور کرائے اتنے مقرر کئے جائیں جو عام آدمی کی دسترس میں ہوں تاکہ جب صدر اور وزیراعظم خاص فلائٹ پر جائیں تو وہ جماعت کو چبھیں نہیں۔ ویسے جماعت کی پوری بات نہ مانی جائے تو ہمارے حکمران پورے جہاز کے بجائے فرسٹ کلاس کا کیبن اپنے لئے مخصوص کرا سکتے ہیں‘ البتہ سیکورٹی کا مسئلہ بڑھ جائیگا۔
٭....٭....٭....٭
(ق) لیگ پنجاب نے کہا ہے‘ اگر حالات ایسے ہی رہے تو اگلا الیکشن پی پی کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔
قاف لیگ نے بات تو بڑی اچھی کی ہے‘ مگر کچھ تاخیر سے کی ہے اور پھر یہ کہ یہ بات انکشاف کے زمرے میں بھی نہیں آتی کیونکہ ہر خاص و عام پر واضح ہے کہ قاف لیگ صاف لیگ ہے جو کام بھی کرتی ہے‘ ہاتھ کی صفائی سے کرتی ہے اور آج کے آئینے میں کل کے دفینے دیکھتی ہے۔ اس نے اب تک ایسے کتنے ہی ”قدرتی وسائل“ دریافت کرکے سنبھال رکھے ہیں۔ جہاں تک حالات کا تعلق ہے تو وہ تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے رکھیں‘ کہیں اگلے الیکشن میں اسے یہ نہ کہنا پڑے....
کچھ تو دنیا کی عنایات نے دل توڑ دیا
اور کچھ تلخی ¿ حالات نے دل توڑ دیا
ویسے قاف لیگ اگر پیپلز پارٹی کے کوہ قاف سے اتر کر دیکھے تو وہ گرینڈ الائنس میں بھی شامل ہو سکتی ہے جوکہ ابھی زیر تعمیر ہے۔ سیاست کا مطلب ہوتا ہے لوگوں کو صحیح سمت کی طرف لے جانا‘ مگر پاکستانی سیاستدانوں نے ڈکشنری میں ایک ”جائز“ سی تحریف کرکے سیاست کا رخ خود سیاست دانوں کی طرف موڑ دیا ہے اور ”سیاست کہتے تھے جس کو گئی سیاست دانوں کے گھر سے۔“ عوام بھی آخر عوام ہوتے ہیں اگر وہ تھوڑا خواص کا انداز اختیار کرلیں تو اگلے الیکشن سے پہلے الیکشن کمیشن کو آزاد کرائیں اور اسمبلی کو 3 کروڑ 80 لاکھ جعلی ووٹوں سے پاک کریں‘ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں‘ شاید اسکے بعد مقبوضہ کشمیر بھی آزاد ہو جائے‘ بہرحال مسلم لیگ قاف نے خسارے کا سودا نہیں کیا‘ ایک بالکل جداگانہ بات یہ ہے کہ پرویز الٰہی نے جو پنجاب گورنرشپ مانگی تھی‘ وہ انہیں نہیں مل رہی ورنہ وہ پیپلز پارٹی کے بغیر بھی الیکشن جیتنے کا اہتمام کر سکتے تھے۔
٭....٭....٭....٭
امریکی سینیٹر جان میکین نے کہا ہے‘ پاک فوج کو چننا ہو گا کسے دوست رکھنا چاہتی ہے‘ کسے دشمن؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم پاکستان میں پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔
یہ تو پاکستانی فوج کی Sweet Will ہے کہ وہ کس سے دوستی کرنا چاہتی ہے اور کس سے دشمنی۔ لیکن جان میکین کا یہ لفظ‘ لفظ نہیں برچھا ہے کہ ”پاک فوج کو چننا ہو گا“ عساکر پاکستان ایک آزاد خودمختار اسلامی جمہوریہ کی فوج ہے اور اپنے دوستوں دشمنوں کو اچھی طرح جانتی ہے۔ یہ بات تو جان میکین کو زرداری یا گیلانی سے پوچھنی چاہیے کہ وہ کس سے دوستی دشمنی کے خواہاں ہیں۔ فوج صدر کے تابع ہے‘ اس لئے دوست دشمن کا تعین 18 کروڑ پاکستانیوں کے موڈ کو دیکھ کر آصف زرداری ہی کرینگے۔ باقی امریکی سینیٹر نے یہ کیوں سوچ لیا کہ پاکستان کی فوج انکی دشمن ہے کیونکہ انکے بیان کا بین السطور مطلب تو یہی نکلتا ہے۔ امریکی سینیٹر یہ تحکمانہ انداز ترک کر دیں اور سیدھے سیدھے پاکستان کے عوام کو دیکھیں کہ وہ امریکہ کیلئے کیا نیک جذبات رکھتے ہیں۔ باقی یہ بات کہ امریکہ پاکستان ہی میں پاکستان کے ساتھ مل جل کر کام کرنا چاہتا ہے تو اس کیلئے وہ پاکستان سے باہر کوئی جگہ منتخب کرلے ہم تیار ہیں۔ پاکستان میں مل جل کر ڈرون حملے‘ شمالی وزیرستان میں آپریشن‘ بے گناہوں کا قتل عام یہ سب کچھ تو آپکے ساتھ مل جل کر کیا جا رہا ہے اور آپ پاکستان کے ساتھ مل جل کر کیا کرنا چاہتے ہیں؟
٭....٭....٭....٭
اسلام آباد میں ہم جنس پرستوں کیخلاف ملک گیر مظاہرے ہو رہے ہیں‘ امریکی سفارت خانے‘ قونصل خانوں کا گھیراﺅ۔
امریکہ حدود تو کب سے پھلانگ چکا ہے‘ اب وہ ہماری چادر چار دیواری کے بھی درپے ہے۔ جو برائیاں امریکہ نے اپنے ہاں قانوناً رائج کر رکھی ہیں‘ وہ چاہتا ہے کہ ہمیں بھی اسی طرح کے گناہوں کا شکار بنائے۔ کیونکہ کسی معاشرے کو برباد کرنا ہو تو اسکی اخلاقی حدود گرا دو۔ وہ تو کیا پورا ملک ڈھے جائیگا۔ اب امریکہ کی شریف لڑکیوں کو اسلام قبول کرکے کسی بھی اسلامی ملک منتقل ہو جانا چاہیے‘ یہ امریکہ کچھ ہی عرصے میں بانجھ ہو جائیگا۔ پھر وقت گزر چکا ہو گا۔ دراصل امریکہ جو کچھ کر رہا ہے‘ وہ اپنے لئے کنواں کھود رہا ہے۔ پاکستان کے عوام کو اس فتنے کیخلاف پرزور مظاہرے کرنے چاہئیں تاکہ امریکہ کا یہ خطرناک غیراخلاقی وار خالی جائے۔ ہم جنسی کے حوالے سے عزت مآب سفیر امریکہ بھی تو اسی قافلے کے مسافر نہیں؟ اگر نہیں تو پھر یہ سرپرستی اور آﺅبھگت کیوں؟