پیر‘22 ؍ رجب المرجب1431ھ‘ 5؍ جولائی 2010ء

بابر اعوان نے کہا ہے کہ نقلی شیر کہاں چھپے ہیں امن و امان میں ناکامی پر پنجاب حکومت مستعفی ہوجائے۔نواز شریف ایک بار پھر ملک چھوڑ کر فرار ہورہے ہیں۔
کیا زمانہ آگیا ہے شیر نقلی ہوگئے ہیں اور تیر لکیر بن گئے ہیں اگر پیپل پارٹی پنجاب حکومت کو اسی شدومد سے ناکامی کا الزام دے رہی ہے تو اپنی کامیابیاں بھی بیان کرلے اور پنجاب کے خلاف دوسرے صوبوں میں نفرت پیدا کرنے کا کھیل چھوڑ دے مرکزی حکومت میں بابر اعوان ، رحمان ملک اور گورنر پنجاب جیسے مثلث کا وجود کیا مرکزی حکومت کے مستعفی ہونے کیلئے کافی نہیں۔ نواز شریف اپنی اہلیہ بیگم کلثوم کے ریڑھ کی ہڈی کے تکلیف دہ پیچیدہ مرض کے علاج کیلئے ملک سے باہر جارہے ہیں ممکن ہے ان کے بیٹے کو اپنی علیل والدہ کو امریکہ بھی لے جانا پڑے۔ لیکن اس کو ملک سے فرار قرار دینا کیا پیپلز پارٹی کا فراڈ نہیں؟ رحمان ملک پنجابی طالبان کا نعرہ بلند کرکے اپنی اس نا اہلی پر پردہ نہیں ڈال سکتے جو وہ اپنے منصب کے حوالے سے کر رہے ہیں۔ وہ وزیر داخلہ ہیں دہشت گرد باہر سے آتے ہیں اُن کو روکنے کی ذمہ داری وزارتِ داخلہ کی ہے انہوں نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ ہمارے وائس چانسلر کی سطح کے لوگوں کے ساتھ امریکی ہوائی اڈوں پر کیا حشر نشر کیاجاتا ہے اور ہم کس طرح امریکیوں کو سلوٹ مار کر اُنہیں اندر آنے کی دعوت دیتے ہیں۔
٭٭٭٭
پتوکی کے نعت خواں وکیل نے بابر اعوان سے 50 ہزار روپے یہ کہہ کر لینے سے انکار کردیا کہ ہر وکیل برائے فروخت نہیں ہوتا۔
وزیر قانون نے صدر کیلئے وکلاء کی خریداری کا کام شروع کررکھا ہے اُن کو شاید کسی نے سمجھا دیا ہوگا کہ وکیلوں نے ہی اعلیٰ عدلیہ کو آزاد کرایا اسی لئے ان کو غلام بنانا عدلیہ کہ غلام بنانے کے مترادف ہے اُن سے کوئی پوچھے کہ آپ کس کی اجازت سے عوامی پیسے کو اپنے مقاصد پرلُٹا رہے ہیں پنجاب حکومت تو آپ کے بقول ناکام ہے آپ اپنی صدارت میں کہاں تک کامیاب ہیں کہ اپنا کام چھوڑ کر وکیلوں میں ریوڑیاں تقسیم کر رہے ہیں ہم پتوکی کے وکیل یٰسین اکرم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے بابر اعوان صاحب سے پیسے لینے سے انکار کردیا وزیر قانون کا کام پورے ملک میں قانون نافذ کرنا ہے مگر وہ پیپل پارٹی کیلئے بندوں کی خریداری کر رہے ہیں کیا یہ بھی وزارتِ قانون کا فرض ہے حکمرانوں کے سارے کرتوت سامنے آرہے ہیں اور لوگ تنگ آکر خودکشیاں کر رہے ہیں مگر افسوس عوام پر بھی ہے کہ وہ پھر الیکشن میں انہی کو ووٹ دینگے اور انہی عطار کے لونڈوں سے دوالیں گے ۔عوام اپنی تقدیر سے خود کھیل رہے ہیں وہ اپنے لئے کوئی ایسی قیادت کیوں نہیں چُنتے جو اپنے لئے بندے خریدنے کی بجائے لوگوں کے درد خریدے۔
٭٭٭٭
شیخ رشید نے کہا ہے پاکستان کو اندر سے خطرات ہیں باہر سے کوئی خطرہ نہیں۔
اگر پاکستان کو اندر سے خطرہ ہے تو شیخ صاحب اندر تو آپ ہی ہیں۔ہمارے حکمرانوں کو یہی مغالطہ یا تجاہل عارفانہ مارگیا کہ پاکستان کو اندر سے خطرہ ہے پاکستان کو نائن الیون سے پہلے اندر سے خطرہ کیوں نہیں تھا اگر شیخ صاحب کی بات مان لی جائے تو پھر یہ کہاجاسکتا ہے کہ پاکستان کو باہر کے ذریعے اندر سے خطرہ ہے شیخ صاحب کے زمانے میں جب امریکہ کے اشاروں پر وہ اور اُن کے مُرشد ناچ رہے تھے تب پاکستان کو کہاں سے خطر ہ تھا؟ آج پاکستان کی حکومت امریکہ کے ساتھ مل کر نام نہاد دہشت گردی کی جنگ لڑنا چھوڑ دے اور امریکہ کو یہاں سے رخصت کرے تو پاکستان کو اندر بار کہیں سے بھی خطرہ نہیں ہوگا وہی طالبان جو کبھی پاکستان پر جان دینے کیلئے تیار تھے آج پاکستان کی جان لے رہے ہیں آخر کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ پاکستان اور امریکہ کوایک سمجھتے ہیں اور اُنہیں یقین ہوچکا ہے کہ کچھ فرق نہیں اِن دونوں میں باقی کام را، موساد، سی آئی اے پورا کر دیتی ہے۔پاکستان کو اندر سے اگر خطرہ ہے تو اُن8 ہزار لُٹیروں سے ہے جنہیں حکومت تاخیری حربوں کے ذریعے بچاتی چلی جارہی ہے۔شیخ رشید صاحب رجلِ شید بن سکتے ہیں اگر وہ اُن اندر کے خطروں کو جان لیں جو اندر والے باہر سے درآمد کرتے ہیں۔
٭٭٭٭
خبر ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء کے نرخوں میں زبردست اضافہ کے باعث پاکستان خطے کا سب سے مہنگا ملک بن گیا۔
اب حکومت کیا جواب دے گی کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے انکشاف کر دیا ہے کہ پاکستان ،بھارت، بنگلہ دیش ،سری لنکا اور دوسرے ممالک کی نسبت خطے کا سب سے مہنگا ملک بن گیا ہے اس لئے 8ہزار لُٹیرے اور جعلی ڈگریاں لے کر حکومت کرنیوالے اطمینان کا مل رکھیں کہ اُنہیں کچھ نہیں ہونے والا وہ تسلی کے ساتھ اپنا وقت پورا کریں اور مہنگائی کا علاج کرنے کے بجائے زرداری نے جو2نمبر پیپل پارٹی ایجاد کی ہے اُس میں فتحِ عظیم حاصل کرنے کیلئے بلاول کو تیار کریں اور لوگوں کو چھوڑ دیں اُن کی پرواہ نہ کریں اُن کے بارے میں یہ حقیقت سامنے آچکی ہے کہ وہ خودکشی سے آگے نہیں جاسکتے حکومت کشی اُن کے بس کا روگ نہیں اسی لئے راج کرے گا خالصہ باقی نہ رہے کو کے مصداق وہ دندناتے پھریں عدلیہ نے بھی اپنا فرض ادا کردیا ہے قرض ادا کرنے کی کوئی ضروت نہیں اسی لئے بابر اعوان رحمان ملک گورنر پنجاب اور اسی طرح کے دوسرے ’’ قیمتی‘‘ افراد کے ہوتے ہوئے ایوانِ صدر میں تیار ہونے والے سارے منصوبے مکمل ہونگے۔