اتوار ‘ 3 ربیع الاوّل 1435ھ 5 جنوری 2014ئ

حکومت گیس یا بجلی جلانے کیلئے کچھ تو دے، لکڑی ایک ہزار روپے من ہے عام آدمی کیا کرے گا : چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ !
عدالتوں کا کام انصاف فراہم کرنا ہے اور اگر انصاف کی فراہمی عوام کیلئے ہو جو بے زبان اور کمزور تصور کئے جاتے ہیں تو اس کا اجر و ثواب دوگنا ہو جاتا ہے کیونکہ بااثر طبقات اور لوگ تو کسی نہ کسی طرح فوائد سمیٹ لیتے ہیں مگر مخلوقِ خدا یعنی عوام کے پاس تو کچھ اور ایسا نہیں ہوتا جس سے وہ فائدہ اُٹھا سکیں۔ گیس اور بجلی دونوں آئے روز مہنگے ہونے کے باعث عوام کی پہنچ سے دور ہو رہے ہیں اوپر سے سردیوں میں جب گیس کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ گیس سے کارخانے چلانے کی اجازت دیکر حکومت نے غریبوں کے دن اور مشکل کردئیے کیونکہ متبادل ایندھن کے طور پر ان کے پاس مٹی کا تیل اور لکڑی ہی رہ جاتے ہیں جن کے ریٹ سُن کر غریب آدمی انہیں خریدنے کا حوصلہ نہیں کر پاتا۔ ملک بھر میں بجلی اور گیس کے بحران نے جینا محال کر رکھا ہے۔ غریبوں کے علاقوں میں یہ دونوں کسی پردہ نشین کی طرح ایک لمحہ جھلک دکھلا کر غائب ہو جاتے ہیں اور عوام ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔ اب امید ہے عدالت اس بارے میں غریب عوام کو ریلیف دے گی مگر کیا اس کے فیصلہ پر عمل بھی ہو گا یا یہ بھی دوسرے احکامات کی طرح ہَوا میں تحلیل ہو کر رہ جائے گا۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
پاکستان کو اسلامی نہیں مسلم جمہوریہ ہونا چاہئے : اعتزاز احسن !
ایسے عالمانہ، فاضلانہ اور غائب دماغانہ بیانات دراصل انسان اپنی اہمیت اور علمی و عقلی قابلیت ظاہر کرنے کیلئے دیتا ہے اور یہی کام غالباً اعتزاز احسن کر رہے ہیں اور بزعم خویش بہت ”دانا“ بن رہے ہیں ایسے لوگوں کو کوئی کیا سمجھائے ....
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہئے
کہ دانہ خاک میں مل کر گلِ گلزار ہوتا ہے
اب ہم اعتزاز کو یہ مشورہ تو نہیں دے سکتے اور بھلا مسلم اور اسلام میں اب اعتزاز نے کون سے دقیق و عمیق فرق یا نکتہ تلاش کر لیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو مسلم جمہوریہ پاکستان بنانے پر تُل گئے ہیں یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی ان سے ہی پوچھ لے کہ بھائی آپ مسلم ہیں یا مسلمان؟ بے شک فراغت بڑی نعمت ہے مگر اس نعمت کو اس طرح کے فضول کاموں اور بے نکتہ لاینحل اور بیکار کاموں پر صرف کرنے کی بجائے اس قیمتی فراغت سے کچھ اور کام بھی کئے جا سکتے ہیں۔ جن میں ایک یہ بھی ہے کہ ملک کو کیوں نہ جمہوریہ اعتزاز بنالیاجائے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
ایک ماہ میں صفائی کا نظام بہتر نہیں ہُوا تو دھماکے کریں گے : ڈی سی او شیخوپورہ کو طالبان کی دھمکی !
واہ بھئی واہ، کیا خوب طریقہ سمجھا دیا طالبان نے عوام کو اصلاح احوال کا۔ کاش یہ کام طالبان خودکش حملوں اور بم دھماکوں کی بجائے پہلے سے شروع کر دیتے تو خدا کی قسم ہمارے سارے شہر صاف سُتھرے ہو چکے ہوتے۔ اسی طرح اگر ہر محکمہ کو رشوت لینے، فراڈ کرنے، بے ایمانی کرنے پر ایسے ہی ایمان افروز خط لکھے گئے ہوتے تو ان محکموں کے بھی دن پھر جاتے اور وہاں بھی نخوت و تکبر میں ڈوبے سگریٹ کے دھوئیں میں چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے ٹھنڈے اور گرم کمروں میں بیٹھے فرعون نما افسران اور بھیڑیے نما کارندے کب کے سر پر ٹوپی اوڑھ کر تسبیح ہاتھ میں لئے پکے نمازی بن چکے ہوتے اور ہر طرف ان اصلاحی خطوط کے اثرات دیکھے جاتے۔ عوام کی عزت اور خدمت جو سرکاری اداروں کا کام ہے خیر و خوبی سے انجام پاتا، کسی کمزور شہری کو خوار نہ ہونا پڑتا، ہر کام میرٹ پر ہوتا مگر ”اے آرزو بسا کہ خاک شُد“ ایسا نہیں ہُوا بلکہ طالبان نے ناحق اِدھر اُدھر دھماکے اور خودکش حملے کر کے بے گناہ عوام کو ہی نشانہ بنایا جو بیچارے پہلے ہی غربت، بیروزگاری اور مہنگائی کے ہاتھوں زندہ درگور ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ طالبان کے اس اصلاحی بیان نما خط کے نتائج کب ظاہر ہوتے ہیں اور وہ مطالبہ پر عمل نہ ہونے کے بعد کچرے کے ڈھیرکو نشانہ بنائیں گے یا کسی اور کو اس کا بھی انتظار ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
گورنر ہی یونیورسٹی کے چانسلر ہوں گے، اختیارات منتقل کرنے کا فیصلہ واپس !
جس نے بھی یہ احسن فیصلہ کیا وہ واقعی کوئی تعلیم دوست ہستی ہو گی ورنہ خطرہ تھا کہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر اگر وزرائے تعلیم بن گئے تو پورے نظام کا ”بولو رام“ ہو جائے گا۔ گورنر کی حد تک تو سب کو علم ہے کہ کوشش ہوتی ہے کوئی بے ضرر سا سوشل، سیاسی، عوامی یا پڑھا لکھا بندہ بنایا جائے جبکہ وزیر تعلیم کیلئے ہمارے ملک میں ایسی کوئی کوالٹی ضروری نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسمبلی ممبران کیلئے عائد بی اے پاس ہونے کی شرائط کا بھی ”کریا کرم“ ہو چکا، اب تو ہر قسم کی صلاحیت والا، علم والا، ہُنرمند، غیر ہُنرمند، پڑھا لکھا یا اَن پڑھ سب اسمبلی ممبر بن سکتے ہیں۔ اب اگر کوئی بااثر تعلقات و سیاسیات والا بے عِلمہ یہ وزارت حاصل کر لے تو سوچ کر اندازہ لگائیں کہ ہمارے نظامِ تعلیم کا ، سکولوں کالجوں، یونیورسٹیوں کا کیا حال ہو گا۔ اس لئے یونیورسٹی جیسے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو کم از کم سیاسی مفادات اور تعلقات کی بھینٹ چڑھانے سے بہتر ہے کہ اس کا انتظام ایسے لوگوں کے پاس رہے جو کم از کم صاحبِِ علم، غیر جانبدار ہوں اور یونیورسٹی کے معاملات میں کم از کم مداخلت کریں۔ میرٹ اور انصاف سے کام لیں۔ باقی رہ کیا گیا ہے ہمارے نظامِ تعلیم کے انتظامی ڈھانچے میں، سکولوں میں اساتذہ کسی کی نہیں سُنتے، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی کوئی نہیں سُنتا۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭