بدھ ‘ 4؍ ربیع الثانی 1435ھ‘ 5؍ فروری 2014ء

 کوئٹہ کی خصوصی عدالت نے میڈیکل رپورٹ مسترد کرتے ہوئے اکبر بگٹی قتل کیس میں مشرف کو طلب کرلیا۔گذشتہ روز راولپنڈی اسلام آبا د کی عدالت کے سمن کی بھی پولیس نے مشرف سے تعمیل کرائی اور مشرف صاحب ہیں کہ آرام سے ہسپتال میں بیٹھے تمام کھیل سے لطف اندوز ہورہے ہیں اور اُنکے وکلاء ہر صورت انہیں علاج کیلئے باہر بھجوانے کے درپے ہیں، ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ جو حضرات مشرف کو بہرصورت باہر بھجواناچاہتے ہیں کیا انہیں معلوم نہیں کہ مشرف صاحب نے خود تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار اور ملازمت میں کوئی پیسہ نہیں بنایا گویا انکی مالی حالت زیادہ بہتر نہیں تو اس حالات میں سمجھ سے بالاتر ہے کہ باہر ان کے اتنے مہنگے علاج کیلئے رقم کہاں سے آئیگی۔ کیا انکے حمایتی یہ رقم اکٹھی کرکے دینگے یا آرمی ایکس سروس مین سوسائٹی اسکے اخراجات برداشت کریگی۔ پاکستان میں دل کے علاج کی بہتر سہولتیں دستیاب ہیں تو ان سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایاجارہا آخر اب تک بھی یہ پاکستانی ڈاکٹروں کا ہی اعجاز ہے کہ سابق صدر کے دل کا شافی علاج کر رہے ہیں اور انہیں بہت سی مشکلات سے بھی انہوں نے بچارکھا ہے۔ مگر کیا کریں یہ وقت کا جوچکر ہے اس سے کسی کو نجات نہیں یہ بدلتا رہتا ہے۔کل کا کمانڈو آج کا قیدی بنا ہوا ہے دوسروں پرحکم چلانے والا آج خود عدالتی احکامات کا محتاج ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود ہمارے حکمران عبرت حاصل نہیں کرتے کیونکہ وہ بھی وقت کے اسی چکر کے قیدی ہیں بقول شاعر…؎
 وقت کی پابند ہیں آتی جاتی رونقیں
 وقت ہے پھولوں کی سیج وقت ہے کانٹوں کا تاج
٭…٭…٭…٭
 گجرات میں پولیس نے ایک سالہ بچے کووال چاکنگ کے الزام میں عدالت میں پیش کردیا۔ عدالت کا اظہار برہمی، سماعت 26فروری تک ملتوی کردی۔ ’ ’ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات‘‘ والی بات تو ہم نے سنی تھی پولیس نے اسے سچ کر دکھانے کی ٹھان لی ہے اس سپر مین بچے کی تصویر دیکھ لیں کتنا معصوم اور بھولا نظر آتا ہے مگر اصل میں تو بڑا کائیاں نکلا کہ اس عمر میں ایسی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہورہا ہے تو آگے چل کر نجانے کیا کچھ کرے گااور سادگی دیکھو عدالت میں بھی باپ کی گود میں لیٹا فیڈر سے دودھ پی رہا تھا۔الزام تو ہے الیکشن کے موقع پر وال چاکنگ کرنے کا مگر اب یہ معلوم نہیں کہ اس برخوردار نے اشتہار لکھا یا لگایا۔ یا پھر اشتہار لگے دیوار کی طرف سو، سو کرتے ہوئے پولیس نے دھر لیا اور دھڑ سے پرچہ کاٹ لیا، ہماری پولیس کی تیزی تو ویسے ہی مشہور ہے۔اس کا تو یہی کمال ہے کہ ہاتھی انہیں نظر نہیں آتا سوئی کی نوک نظر آجاتی ہے۔ گجرات پولیس اب اگر چاہے تو سوہنی کیلئے کچا گھڑا تیار کرنیوالوں کیخلاف بھی اقدام قتل کا مقدمہ درج کرسکتی ہے۔اسے کون روک سکتا اس خبر سے ایک اطمینان ضرور ہوگیا کہ گجرات میں امن و امان کی صورتحال مثالی ہوگی جبھی تو پولیس نے کوٹہ پورا کرنے کیلئے ایسے نایاب و نادر مقدمات کھولنا شروع کردئیے ہیں اب عدالت کو چاہئے کہ وہ بچے پر مقدمہ درج کرنیوالوں کیخلاف مقدمہ درج کرے کیونکہ یہاں تو سب کچھ الٹا ہے…؎
ہم الٹے تم الٹے یار الٹا
یہاں کا ہے کاروبار الٹا
اس الٹے دیار میں جہاں سب کام الٹے ہورہے ہیں کسی سے شکوہ شکایت کرنا بھی الٹا نظر آتا ہے۔
٭…٭…٭…٭
 قومی اسمبلی میں چوہوںکی بھرمار، یہ خبر پڑھ کر ہمیں بہت حیرت ہورہی ہے کیونکہ ابھی تک ہم تو قومی اسمبلی کو دودھ کی رکھوالی پر بیٹھی بلیوں کا مسکن سمجھ رہے تھے مگر اب پتہ چلا کہ وہاں ہر طرف چوہے دندناتے پھر رہے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری قومی اسمبلی ابھی تک قومی وقار اور خود مختار قوم والی پالیسیاں مرتب نہیں کرسکی اور یہا ں مٹر گشت کرنیوالے خود ہی جمہوریت اور ملک کی جڑیں کرید رہے ہیں کتررہے ہیں۔ اسی اسمبلی میں کبھی جمہوری تماشہ لگتا ہے کبھی ضیا کی مجلس شوریٰ سجتی ہے کبھی مشرف کی نیم جمہوری نیم مارشلائی سیاست کا ڈرامہ سٹیج ہوتا ہے۔آج تک کوئی قومی امنگوں کی ترجمان اسمبلی وجود میں ہی نہ آسکی جو ملک و قوم کی ڈٹ کر ترجمانی کا حق ادا کرے۔یہاں سب مفادات کے تابع، اپنی سیاسی و مالی مفادات کے اسیر آتے جاتے رہے ہیں۔اس لحاظ سے یہاں چوہے دندناتے پھریں یا بلیاں ایک دوسرے کو نوچتی کھسوٹتی رہیں عوام نے ان پر توجہ دینا چھوڑ دیا ہے جس دن عوام نے قومی اسمبلی میں آنے جانے والوں پر نظر رکھنا شروع کردیا اس روز خود بخود قومی اسمبلی سے بلیوں اور چوہوں کا راج ختم ہوجائیگااور انکے خاتمے کیلئے لاکھوں کروڑوں روپے فنڈز خرچنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
٭…٭…٭…٭
اسلام آباد میں ٹریفک پولیس اہلکار کی طرف سے گاڑی روکنے پر وزیر داخلہ کی برہمی، حکام کو طلب کر لیا !
یہ ہے ہمارے عوامی حکمرانوں کے تھانیداری طور طریقے۔ اب اس بیچارے ٹریفک کانسٹیبل کا قصور یہ تھا کہ اس نے غیر ملکی کورین وفد کی آمد کے موقع پر ٹریفک روکی ہوئی تھی بدقسمتی سے اس میں وزیر داخلہ کی گاڑی بھی تھی جسے جانے کی اس نے اجازت نہ دی، اس پر یہ ہمارے نازک مزاج وزیر داخلہ برہم ہو گئے اور اعلیٰ حکام کو اپنی اس تذلیل پر طلب کر کے انکے لتے لئے، اب دیکھنا یہ ہے اس بیچارے پر کیا گزرتی ہے۔
ایسے فرزانے اور دیوانے ہمیشہ ہر جگہ پائے جاتے ہیں یہ نہ ہوں تو ہماری تاریخ کے افسانے پھیکے رہ جائیں، ان میں نثار جیسے وزیروں کے قصوں اور جھوٹی کہانیوں کے سوا کچھ باقی نہ رہے۔ یہ سرمد اور منصور جیسے دیوانے ہی تو ہیں جو تاریخ کے ہر موڑ پر کہیں نہ کہیں اچانک نمودار ہو کر وقت کے ظالموں کی جھوٹی عوام دوستی کو بے نقاب کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں وزراء اور حکمران جب نکلتے ہیں شہر میں سڑکیں سنسان ہو جاتی ہیں، کاروبارِ حیات معطل ہو جاتا ہے۔سنا ہے چودھری نثار پروٹوکول نہیں لیتے۔ اگر وہ پروٹوکول کے بغیر آرہے تھے تو پھر چن ماہی کے روکنے پر غصہ اور اشتعال بلاجواز ہے۔ چودھری صاحب! چھڈو جی جانے دیں۔ اس بے چارے کو ایمانداری سے نوکری کرنے پر جزا نہیں دے سکتے تو سزا بھی نہ دیں۔