منگل‘ 16 ؍ ربیع الاوّل 1439ھ‘5 ؍ دسمبر2017ء

منگل‘ 16 ؍ ربیع الاوّل 1439ھ‘5 ؍ دسمبر2017ء

سندھ میں سندھیوں کا استحصال ہو رہا ہے: فاروق ستار

حیدر آباد میں اچانک بیٹھے بٹھائے فاروق ستار کو سندھیوں کی زبوں حالی کا خیال بھی ستانے لگا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ سندھیوں کو وڈیروں کے ظلم و ستم سے نجات دلائیں گے۔ اب کہیں یہ نہ ہو کہ سندھی بے چارے وڈیروں کے چنگل سے نکلتے نکلتے بھتہ خوروں کے ہتھے چڑھ جائیں۔ اب فاروق ستار سے زیادہ کون جانتا ہے کہ ایم کیو ایم کے زیر سایہ بھتہ خوری‘ چائنہ کٹنگ والا کرائم مافیا نہایت برق رفتاری کے ساتھ پروان چڑھا۔ بعدازاں انہی آکاس بیلوں نے پورے کراچی اور حیدر آباد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور آج بھی اس کا سرغنہ لندن میں بیٹھ کر اسی بھتہ کے پیسے پر عیش کر رہا ہے۔ یہ تو کراچی والوں کی خوش نصیبی ہے کہ ان کی اس نحوست سے جان چھوٹ چکی ہے‘ مگر اب بھی اس کی چھوڑی بہت سی خون آشام چمگادڑیں کراچی پر منڈلا رہی ہیںتو چلیں یہ باب تو بندہوا۔ اب ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے عزم کر ہی لیا ہے کہ سندھیوں کو ظلم و ستم سے نجات دلائیں گے۔ چلیں پہل کراچی اور حیدر آباد سے کریں۔ وہاں امن قائم کریں وہاں کے شہریوں کو بھتہ خوروں‘ لینڈ مافیا‘ جرائم پیشہ گروہوں سے ناجائز اسلحہ اور منشیات سے نجات دلائیں۔ سندھی عوام خود بخود آپ کی کارکردگی دیکھ کر آپ کو ووٹ دیں گے۔ وڈیروں اور جاگیرداروں کی سیاست دنیا بھر میں آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے۔ دیکھنا ہے اب سندھ میں ان کی خالی کردہ جگہ کون پُر کرتا ہے۔ ابھی تک تو خود کو سندھ کی وارث کہلانے والی پیپلز پارٹی بھی میدان میں موجود ہے۔ جس نے ہمیشہ سندھ کو اپنی جاگیر سمجھ کر خوب لوٹا اور مفتوح علاقہ سمجھ کر خوب تاراج کیا۔ پھر اسکے علاوہ دیگر قوم پرست جماعتیں بھی ہیں۔ انکے ہوتے ہوئے فی الحال تو مشکل لگتا ہے کہ ایم کیو ایم باآسانی سندھیوں کو استحصالی قوتوں سے نجات دلا سکے۔ تحریک انصاف بھی یہی نعرہ لگا کر سندھ کے قلعے میں داخلے کیلئے پر تول رہی ہے۔ دیکھنا ہے اب یہ سندھ کا قلعہ کون تسخیر کرتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
2018ء میں الیکشن ہوتا نظر نہیں آ رہا: شیخ رشید
پچھلے چار برس سے یہی شیخ جی دن رات الیکشن آج ہوں گے کل ہوں کی درفنطنیاں چھوڑتے پھرتے تھے۔ انکی تو خواہش تھی کہ آج حکومت ٹوٹے اور کل نئے الیکشن ہوں۔ عمران خان کی کوئی ریلی کوئی جلسہ ایسا نہ تھا جس میں شیخ صاحب اگلے چند ماہ یا چند دنوں میں الیکشن کی نوید سناتے نظر آتے نہ ہوں۔ خود انکے مربی اور قافلہ سالار خان صاحب تو الیکشن فہرستوں کو بھاڑ میں ڈالتے حلقہ بندیوں کو چولہے میں جھونکتے ہوئے قبل از وقت الیکشن کے نعرے لگا رہے ہیں۔ انکی ہر تقریر کی تان 2018ء سے پہلے الیکشن پہ ٹوٹتی ہے۔ اب شیخ جی ذرا ان سے تو پوچھیں وہ کس امید پر قبل از وقت الیکشن کا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ کیا انہیں حلقہ بندیوں اور ووٹر لسٹوں کی فکر نہیں ہے۔ اب کہیں وہ شیخ جی کی کلاس نہ لیں کہ میں قبل از وقت کا رونا رو رہا ہوں اور آپ یہ کس منہ سے الیکشن 2018ء میں بھی نہ ہونے کی بدشگونی والے بیانات جاری کر رہے ہیں۔ شیخ جی کی تو اکیلی جان ہے اور تحریک انصاف کی مدد سے ملنے والی اکلوتی سیٹ۔ انہیں الیکشن کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر دوسری جماعتیں جو تیاریوں میں مصروف ہیں انکی تو جان ہی اس جملے سے نکل جاتی ہے کہ الیکشن 2018ء میں ہوتے نظر نہیں آ رہے اسلئے شیخ صاحب سوچ سمجھ کر بولا کریں۔ بلاوجہ بے پرکی اڑانے سے بہتر ہے کہ بندہ خاموش رہے۔
جلال پور جٹاں: خواجہ سراؤں کی قدیم گدی پر رخسانہ عرف شانو گرو مقرر
یہ تو بڑے اعزاز کی بات ہے کہ جلال پور جٹاں میں خواجہ سراؤں کی ایک قدیم گدی بھی ہے۔ یہ گدی گزشتہ ساڑھے 4 سو سال سے اپنی برادری کی خدمت کر رہی ہے اور ساری برادری اس گدی کی خدمت میں مصروف ہے۔ خواجہ سراؤں کی گرو حاجی مستانی کے مرنے کے بعد اب یہاں رخسانہ عرف شانو رونق افروز ہوں گی۔ اب اسکی تاج پوشی کہہ لیں یا گدی نشینی یا گرو بننے کی اس تقریب میں پاکستان کے علاوہ بھارت اور بنگلہ دیش سے بھی سینکڑوں خواجہ سرا شرکت کیلئے جلال پور جٹاں پہنچ چکے ہیں اور دس روز تک گدی نشینی کی تقریبات جاری رہیں گی۔ اس دوران زبردست ڈھول ڈھمکا ہو گا۔ ناچ گانا ہو گا۔ خواجہ سراؤں کے علاوہ ان کے فن کے قدر دان اور مہربان بھی دور دراز سے یہ رنگینیٔ نو بہار دیکھنے کیلئے جلال پور جٹاں آئینگے۔ جو ان دس دنوں میں ’’جمال خواجہ سرا‘‘ بنا ہو گا۔ علاقہ میں میلے کا سماں ہے۔ لاکھوں لٹائے جا رہے ہیں۔ اڑائے جا رہے ہیں۔ کہیں بجلی چمک رہی ہے تو کہیں شعلہ بھڑک رہا ہے۔ کہیں شبنم بھیگ رہی ہے تو کہیں ترنم مچل لگا رہی ہے۔ الغرض اس طوفان رنگ بو سے پورا علاقہ بھرا ہوا ہے۔ دیسی گھی کے مرغن کھانے مہمانوں کی تواضع کیلئے جا بجا پک رہے ہیں۔ پاکستانی خواجہ سراؤں کی بڑی تعداد اپنے بنگلہ دیشی اور بھارتی مہمانوں کو ویلکم ویلکم کہنے کیلئے موجود ہے۔ اور ہر طرف …؎
میں آں حسن دی کلاشنکوف
کہندے نے مینوں اے عاشق لوگ
اک اکھ میٹاں تے ہونے کئی فَیر
دوجی اکھ میٹاں تے ماراں سارا شہر
کے نغمات گونج رہے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
ہاشمی کا دل پی ٹی آئی میں نہیں لگا: یوسف رضا گیلانی
ہاشمی اور گیلانی صاحب کا تعلق ایک ہی شہر سے ہے۔ دونوں صوفی خانوادے کے چشم و چراغ ہیں۔ ہاشمی جی نے بھی ذائقہ بدلنے کی خاطر پارٹیاں بدلی ہیں۔ گیلانی جی نے بھی ذائقہ بدلنے کی خاطر ہی ایسے معرکے مارے ہیں۔ لگتا ہے اب پارٹیاں بھی دل لگانے کیلئے بدلی جاتی ہیں۔ رہی بات ہاشمی جی کی تو وہ اب کچھ ایسی تیزی سے پارٹی بدل رہے ہیں کہ جوانوں سے بھی ایسی پھرتی ممکن نہیں۔ مسلم لیگ (ن) میں اعلیٰ پوزیشن نہ ملنے اور سرد رویوں سے ناراض ہوئے تو تحریک انصاف میں دولہا بن کر چلے گئے۔ وہاں بھی نمبر دو کی لائن میں لگنے والوں نے کہنیاں مار مار کر جو دھکیلا تو ہاشمی صاحب جو اب عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں سب پروٹوکول کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ یہ پروٹوکول نہ ملنے پر ناراض ہو گئے۔ ویسے بھی پی ٹی آئی میں پروٹوکول صرف عمران خان کا ہے یا پھر ان کو لانے لے جانے کیلئے ہیلی کاپٹر دینے والے جہانگیر ترین کا۔ تقریر کرنے میں البتہ شاہ محمود قریشی نمبر دو کی پوزیشن پر ہیں۔ باقی سب اخراجات کا بوجھ اٹھانے کیلئے رہ گئے ہیں ۔ مگر ایک سیاست دان کی قسمت میں چین کہاں آرام کہاں۔ چنانچہ اب ہاشمی صاحب نے اپنی چھوڑی ہوئی جماعت کا دامن پھرتھام لیا ہے۔
اب دیکھنا ہے وہ کب تک یہ دامن تھامے رکھتے ہیں۔ یہ نہ ہو کہ جلد ہی ایک بار پھر ہاشمی صاحب کا دل یہاں سے پھر اکتاجائے۔ لوگ تو پہلے ہی ’’نانی نے کھسم کیا برا کیا کر کے چھوڑا اس سے بھی برا کیا‘‘ والے جملے کس رہے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭