پیر ‘ 26 رمضان المبارک ‘ 1434ھ5اگست2013

تبدیلی نے اٹک پار نہیں کیا، خیبر پی کے کا نمائندہ میانوالی میں ہے : غلام احمد بلور !
لگتا ہے گذشتہ روز سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر ریلوے حاجی غلام احمد بلور کو شدت سے عوام کے دکھ درد کا احساس ہوا ہے مگر اب وہ کیا کر سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاستدان صرف اس وقت تک عوام کی خدمت کا حق ادا کرتے ہیں جب تک وہ کرسی¿ اقتدار پر براجمان ہوں، جوں ہی سرکاری چھتر چھایا ان کے سر سے ہٹتی ہے وہ بیچارے کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہتے صرف ”اپوزیشن“ رہ جاتے ہیں حالانکہ دورانِ اقتدار انہوں نے اربوں روپے عوام کی خدمت کے نام پر کمائے ہوتے ہیں۔ اب کوئی بلور صاحب کو سمجھائے کہ جناب عالیٰ اگر ”تبدیلی“ اٹک کراس نہیں کر سکی تو جنابِ من آپ بھی تو 5 برس وفاقی حکومت میں وزیر رہے پورا ریلوے ہضم کرلیا، آپ نے اپنے صوبے میں سیلاب سے بچاﺅ کیلئے کون سے اقدامات کرائے ....
بڑا مزہ ہو جو محشر میں ہم کریں شکوہ
وہ منتوں سے کہے چپ رہو خدا کے لئے
اور آج آپ ان سیلاب متاثرین کی اشک شوئی کیلئے کیا کر رہے ہیں صرف فوٹو سیشن کرنے سے ،بیانات دینے سے تو ان غریبوں کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ آپ بزرگ سیاستدان ہیں آپکی زندگی حکومت اور اپوزیشن کی سیاست کرتے گزری ہے، خدارا آگے بڑھیں ان سیلاب متاثرین کے دکھوں کا مداوا کریں ان کی بھرپور امداد کریں۔ اللہ پاک نے آپکو بہت کچھ دے رکھا ہے آج آپ اگر عوام کے دل جیتیں گے تو کل وہ آپ کو پھر جتوا کر اسمبلیوں میں پہنچا دیں گے۔ آپ خود تبدیلی لانے کی کوشش کریں، اچھی تبدیلی اور حکومت خیبر پی کے کی ”میانوالی والی تبدیلی“ کو بھی مجبور کریں کہ وہ بھی آپکی طرح عوام کو اس مشکل مرحلے میں بھرپور ریلیف دے۔ یہی عوامی سیاست میں کامیابی کا درس ہے ....
شکوہ ¿تیرگی¿ شب سے کہیں بہتر ہے
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جائیں
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
کراچی میں نومنتخب صدر ممنون حسین کے گھر بھی پانی داخل ہو گیا، اہلخانہ کو مشکلات کا سامنا !
سچ کہتے ہیں آفاتِ ارض و سماویٰ کسی بڑے چھوٹے کو نہیں دیکھتی، محل ہو یا جھونپڑی سب اسکی زد میں آتے ہیں۔ اب اسی برسات کو دیکھیں ہلکی پھوار ہو تو رِم جِھم، طوفانی ہو تو بلائے ناگہانی بن جاتی ہے۔ اب کراچی میں جو برسات نے اودھم مچائی تو پانی گلی سڑکوں اور مکانوں میں بلا روک ٹوک داخل ہو گیا۔ بقول اقبال ”نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز“ ۔ لیاری ندی کی شکورن کا گھر ڈوبا تو ڈی ایچ اے کے ممنون صاحب کی کوٹھی بھی تالاب کا منظر پیش کرنے لگی۔ کیا اردو زبان میں ”آب آب ہونا“ کا محاورہ یہاں کراچی کی سٹی گورنمنٹ اور سندھ کی صوبائی حکومت کیلئے زیادہ موزوں نہیں ہوتا۔ جو مسلسل کئی برسوں سے عوام کی خدمت کا دعویٰ کرتی رہی ہیں اور شاید وہ کراچی کی یہ صورتحال دیکھ کر خود ہی ”شرم سے آب آب“ ہو گئی ہوں یا کم از کم ”آبدیدہ“ ہی ہو جائیں کیونکہ انکے دورِ حکومت میں تمام تر شور شرابے کے باوجود عوامی خدمت کے دعوے کے باوجود نکاسی آب اور سیلاب سے نمٹنے کیلئے یہ اعلیٰ انتظامات سب کے سامنے آئے ہیں ....
اے چشم اشکِ بار ذرا دیکھ تو سہی
وہ گھر جو بہہ رہا ہے کہیں تیرا گھر نہ ہو
خدا لگتی بات ہے اگر دارالحکومت اسلام آباد منتقل نہ ہُوا ہوتا اور کراچی ہی ہوتا تو صدر کے گھر کے ساتھ کیا مزہ آتا جب ایوان صدر، وزیراعظم ہاﺅس، پارلیمنٹ اور سینٹ کی عمارتیں بھی سیلابی پانی میں جزیرہ بنی ہوتیں اور عوامی نمائندے شلوار اور پتلون کے پائنچے اوپر کر کے، فائلیں سر پر اُٹھائے ربڑ کی بنی کشتیوں میں بیٹھ کر اجلاس میں شرکت کیلئے آتے۔ اسی لئے دنیا بھر کے دارالحکومت گنجان شہر ہیں تاکہ حکمرانوں کو عوامی طرزِ زندگی کا مشاہدہ بھی براہِ راست ہوتا رہے اور وہ انکے مسائل سے بھی آگاہ رہیں۔ ہمارے حکمران تو مارگلہ کی پہاڑیوں میںساون کے مزے لوٹتے ہیں انہیں عوام کی کیا خبر۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
جلال آباد میں بھارتی قونصل خانے پر خودکش حملے میں 19 افراد ہلاک، افغانستان کیلئے سرحد پار خطرہ واضح ہو گیا!
بھارت کی نام لئے بغیر پاکستان کیخلاف الزام تراشی ۔معلوم ہوتا ہے کہ دوستی اور امن کے دلفریب نعرے لگانے کے باوجود بھارت کے ذہن میں پاکستان کیخلاف بھری نفرت کوئی دور نہیں کر سکتا۔ اگر کابل میں کسی کو چھینک آ جائے یا دہلی میں کسی کو کھانسی بھی ہو تو بھارتی حکومت کو فوری طور پر پاکستانی مداخلت کا پروپیگنڈا کرنے کا موقع مل جاتا ہے، گویا کہ ....
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
اس کے نزدیک سب خرابیوںکی وجہ پاکستان ہے ۔اب بھلا بھارتی حکومت کو کون بتلائے کہ مہاراج دھماکے کی جگہ کے قریب ہی پاکستان کا بھی قونصل خانہ ہے اور پاکستان نے فوری طور پر اس حملے کی مذمت بھی کی ہے۔ جس طرح اس نے دہلی اور ممبئی بم دھماکوں کی مذمت کی تھی مگر بھارت نے ان کا الزام بھی پاکستان پر دھر کر کئی بے گناہوں کو پھانسی چڑھا دیا اور جب حقیقت سامنے آ گئی ہے تو سب کو سانپ سونگھ گیاہے، کسی نے بھی اظہار ندامت نہیں کیا۔ دہشت گردی کا دردکیا ہے، دکھ کیا ہے اس کا پاکستان سے زیادہ احساس کس کو ہو سکتا ہے جو افغان جنگ کے بعد سے اب تک دہشت گردی، خودکش بم دھماکوں اور قتل و غارت کا سب سے بڑا نشانہ بنا ہُوا ہے مگر اسکے باوجود وہ ایسی مکروہ کارروائیوں میں کبھی ملوث نہیں ہوا، ہمیشہ اسکے خلاف رہا ہے۔ اب بھارت کے ساتھ بھی پاکستان نے جو دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے تو اسکے جواب میں ہمیں یہ توقع نہیں تھی کہ بھارت ہمارے بارے میں بِنا حقیقت جانے اول فول بیانات داغے گا۔ کہاں وہ امن آشا والی من موہنی بھاشا، پریم کے گیت اور کہاں یہ آگ لگانے والے نفرت پھیلانے والے زبانی حملے --- ایسے پیار کو تو دور سے سلام بہتر ہے کیونکہ ....
کچی کلی کچنار کی کچا ہمارا دل
خاک ایسی دوستی پہ جو توڑے ہمارا دل
٭۔٭۔٭۔٭۔٭