پیر ‘19 ربیع الثانی 1431ھ‘ 5 ؍اپریل2010ء

صدر آصف زرداری نے وزراء پارٹی عہدیداران کو مخالفین کے خلاف بیان بازی سے روک دیا‘ دوسری جانب گورنر پنجاب نے کہا ہے کہ میرے یا صدر کے اختیارات میں کوئی مسئلہ نہیں۔
مرد حُر نے ثابت کر دیا ہے کہ انہیں واقعی جمہوریت عزیز ہے بلکہ اب تو جمہوریت اُن کی عزیزہ ہے‘ خدا کرے یہ رشتہ قائم رہے‘ اختیارات سے دستبرداری نے اُن کی شخصیت کو اور رنگ عطا کر دیا ہے‘ اور اُن کا سایہ لگتا ہے گورنر پنجاب پر بھی پڑ گیا ہے‘ انہوں نے اختیارات میں کمی کے بارے کہا کوئی مسئلہ نہیں یوں لگتا ہے کہ صدر کا صدر ہونا اور گورنروں کا گورنر ہونا ہی کافی ہے‘ زرداری روز بروز درویش ہوتے جا رہے ہیں امید ہے کہ اُن کے ہوتے ہوئے ساڑھے بارہ ارب ڈالر سیدھے بجلی کی پیداوار بڑھانے پر خرچ ہوں گے اور وہ آئینی پیکیج کے بعد قوم کو لوڈ شیڈنگ سے نجات کی خوشخبری بھی سنائیں گے‘ ہمیں چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی توقع ہے کہ وہ اپنی چھوٹی والی آنکھ اس رقم پر رکھیں گے‘ تاکہ قانون کی نظر بچا کر کوئی یہ رقم غتربود نہ کر سکے‘ اللہ ہی ان ساڑھے بارہ ارب ڈالروں کی حفاظت کرے۔
٭…٭…٭…٭
عدنان سمیع خان نے افغان خاتون سے تیسری شادی کر لی۔
عدنان سمیع خان ہزار واٹ کا یو پی ایس ہیں‘ اگرچہ اُن کی بیٹریاں اب کچھ کمزور پڑ گئی ہیں‘ مگر وہ پیانو اور شادیاں خوب بجا لیتے ہیں‘ اپنے پہلے پیار اور پہلی بیوی کی یاد میں وہ اور فربہ ہوتے جا رہے ہیں‘ بہرحال افغان خاتون اُن کے لئے طالبان ثابت ہوں گی اور وہ اس کے بعد شاید پیانو بھی پہلے کی طرح نہ بجا سکیں۔ عدنان سمیع خان بہت اچھے ہیں مگر انہوں نے محض بالی وڈ کی تتلیوں اور دولت کی چکاچوند دیکھ کر بھارتی شہریت حاصل کر لی۔ شادی ممبئی میں کی اور ولیمہ اسلام آباد میں‘ ممکن ہے افغان بیوی انہیں افغانستان لے جائے اور وہ پشتو میں گانے لگیں‘ بہرصورت عدنان چالاک ہو کر بھی معصوم لگتے ہیں‘ اُن کی شخصیت پر موٹاپے کا ملمع برا نہیں لگتا‘ جب وہ آج سے بھی زیادہ موٹے تھے تب زیبا بختیار کے ساتھ بطور ہیرو نمودار ہوئے تھے یہ خدا کی شان نہیں تو اور کیا ہے‘ ایک زمانہ تھا کہ اُن کے گیتوں میں تنوع اور رس ہوتا تھا مگر شاید چھوڑ کر جانے والی ماہ رخ اُن سے بہت کچھ چھین کر لے گئی‘ اب تو وہ متبادل راستے اختیار کرتا جاتا ہے‘ خدا جانے کہاں جا پہنچے‘ بہرحال اب اُن کے گانوں میں یکسانیت آ گئی ہے‘ شاید پیانو سے عشق نے اُن کا دل لگا رکھا ہے وگرنہ کب کے ٹوٹ پھوٹ چکے ہوتے۔
٭…٭…٭…٭
اتوار بازاروں میں گریڈ بی کے پھل اور سبزیاں گریڈ اے میں فروخت ہو رہی ہیں۔
اس ملک میں استادوں کو تو اگلے گریڈ ملتے نہیں‘ سبزیاں اور پھلوں کو بآسانی مل جاتے ہیں۔ یہ اتوار بازار ہیں یا بے کار بازار کہ جو امریکہ کی طرح رویہ اپنا کر سستی اشیاء فراہم کرنے کی آڑ میں مہنگائی کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اتوار بازار اور یوٹیلٹی سٹور کھول کر مہنگائی پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ پاکستان کے تمام بازاروں کو جب تک صحیح معنوں میں اتوار بازار نہیں بنایا جاتا اور آسمان سے باتیں کرنے والی مہنگائی زمین سے ہم کلام نہیں ہوتی‘ یہاں سے مہنگائی رخصت ہو گی‘ نہ امریکہ۔
آخر حکومت کوئی ایسا نیٹ ورک بنانے میں کیوں ناکام ہے جو اشیاء کے نرخ قائم کرکے انہیں دکانوں پر آویزاں کرکے پھر انکے چیک کرنے کا بندوبست کرکے مہنگائی کو کنٹرول کرے‘ کئی مرتبہ دکانداروں کو حکم دیا گیا کہ وہ حکومت کے مقرر کردہ نرخوں کی فہرست دکانوں کے ماتھے پر لٹکا دیں‘ مگر گاہک اسی طرح مہنگائی سے لٹکے رہے۔ اتوار بازاروں کو ختم کر دینا چاہئے اور ہر بازار کو اتوار بازار بنا دینا چاہئے۔ یہی مہنگائی کے روگ کا مکمل علاج ہے۔ اگر کسی یوٹیلٹی سٹور پر اشیاء قدرے سستی ملتی ہیں تو کیا اس سے دوسرے دکانداروں نے کبھی عبرت حاصل کی؟
جس طرح دکانداروں کی جو چیزیں بے کار ہو جاتی ہیں اور ان میں کوئی نقص پڑ جاتا ہے‘ وہ انہیں سالانہ نمائش میں نکال دیتے ہیں‘ اسی طرح جو بے کار سبزیاں‘ دوسری اشیاء خورد و نوش عام بازاروں میں نہیں بک سکتیں‘ وہ اتوار بازار کی زینت بنا دی جاتی ہیں اور کمال کی بات یہ ہے کہ انہیں آخری گریڈ سے اٹھا کر اے گریڈ دیدیا جاتا ہے۔
٭…٭…٭…٭
گزشتہ ہفتے لاہور کے مختلف علاقوں میںپچاس سے زائد گھروں میںکروڑوں کے ڈاکے پڑے۔
پنجاب کے ایک ہی شہر کے 14علاقوں میں ڈاکے پڑنا‘ یہ ثابت کرتا ہے کہ پولیس کا پورے لاہور میں کہیں وجود ہی نہیں‘اگر یہی صورتحال رہی تو یہاں ڈکیتیوں کو بھی دہشت گردی میں شامل کرنا پڑیگا کیونکہ دھماکوں اور ڈاکوں میں کوئی اتنا زیادہ فرق نہیں۔ پولیس رات ہو یا دن‘ پٹرولنگ نہیں کرتی‘ البتہ پٹرولنگ کیلئے نکلتی ضرور ہے۔ یہ بات ناقابل یقین ہے کہ بیک وقت اتنے ڈاکے پڑیں اور پولیس لاعلم رہے‘ اب یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پولیس فورس خود ڈاکو ہے یا ڈاکوئوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے؟
پچھلے دنوں ایسا بھی ہوا کہ ایک لڑکی نے چور کا تعاقب کیا جس نے منہ ڈھانپا ہوا تھا‘ دوڑتے ہوئے اسکے منہ سے کپڑا گر گیا‘ لڑکی جب رپٹ درج کرانے گئی تو اسنے وہاں ایک پولیس مین کو دیکھ کر کہا کہ رات کو میں نے اسی کو چور کے روپ میں دیکھا تھا۔ اس طرح کے واقعات بے شمار ہیں‘ حکومت پنجاب کہتی تو ہے مگر وہ پولیس کو فعال نہیں کر سکی۔ یہ ڈاکے ثبوت فراہم کرنے کیلئے کافی ہیں کہ صوبائی دارالحکومت کی پولیس کی کارکردگی کیا ہے؟