جمعۃ المبارک‘ 27؍ ذیقعد 1434ھ ‘ 4؍ اکتوبر2013ء

برطانیہ میں اسلامی شعائر کے نفاذ کا الزام،مسلم سکول بند کردیا گیا۔
مسلم سکول نے برطانیہ میں طالبان والا کام شروع کردیاہوگا۔طالبان نے یہ کام ضیاء الحق سے سیکھا تھا۔ جناب…ہمارے ہاںتو سکولز اور مدارس میں ایسی سرگرمیاں چل سکتی ہیں لیکن برطانیہ والے تو یہ بوٹا نہیں اُگنے دیں گے۔ وہاں پر تو آپ نہ صرف اپنے سکول کو بلکہ اپنے آپ کو بھی انکے رنگ میں رنگیں گے تو چڑھاوے چڑھیں گے۔ برطانیہ میں سینکڑوں مسلم ادارے چل رہے ہیں لیکن آج تک کسی کی بندش کی خبر نہیں آئی‘ اگر مسلم سکول کی بندش کی خبر آئی ہے تو یہاں دال میں کچھ کالا کالا ضرور ہوگا۔ہمارے ہاں بھی اگر کوئی غیر ملکی سکول اپنے ملک کے قوانین نافذ کرے گا یا پھر اپنے مذہبی شعائر کی تبلیغ کرے گا تو فوراً سے پہلے مذہبی تنظیمیںمال روڈ پر اُمڈ آئیں گی اور حکومت گھٹنے ٹیک کر سکول بند کردے گی برطانیہ میں  مذہبی تنظیمیں تو نہیں بلکہ انکا قانون حرکت میں آیا ہے اس کی چھان بین ضرور ہونی چاہئے اور اگر محض الزام تراشی ہے تو سکول کو فوراً کھول دیاجائے۔مسلم سکول کی انتظامیہ کے ذریعے عالم اسلام میں برطانیہ کا اچھا امیج قائم ہو گا۔ ویسے جس انداز سے ہمارے پاکستانی برطانیہ میں پھیل چکے ہیں تو برطانیہ کو پاکستان بننے میں مزید دس پندرہ سال ہی درکار ہیں۔من حیث القوم ہم میں یہ خرابی اتم درجہ کی ہے۔دوسروں کی بربادی کے بارے سوچتے رہتے ہیں اگر دوسروں کو چھوڑ کر اپنی خوشحالی کے بارے اسقدر سوچتے تو آج ہم بھی آسمان پر سیریں کر رہے ہوتے۔
٭…٭…٭…٭…٭
 پاکستانی دنیا کے 10 ناپسندیدہ ترین ممالک کے لوگوں میں شامل۔
ہم اپنے تیئں تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ہم بڑے تیس مار خان ہیں پوری دنیا ہم پر ہی مر مٹتی ہوگی اور ہمیں دیکھنے اور ملنے کیلئے بیرونی دنیا کے لوگ تڑپ رہے ہونگے لیکن ہینلی اینڈ پارٹنرز ویزرو ٹیکشنز انڈیکس کی رپورٹ نے ہماری سوچوں پر پانی بہادیا ہے۔ آخر ہم کیوں ناپسندیدہ لوگ ہیں؟ ہم ناپ تول میں کمی کرکے غریبوں کی جیبوں پر شب خون مار کر پیسے بٹورتے ہیں‘ اسکے باوجود لوگوں کے دلوں میں اچھا مقام بنانے کی امید بھی رکھتے ہیں۔ ہم پان کھا کر اس کا تھوک ہمسائیوں کی دیواروں پر پھینکتے ہیں اور پھر ان سے نفیس ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی مانگتے ہیں ہم بیرون ملک سے آنے والے سیاحوںکو پہاڑوں پر ہی گولی ماردیتے ہیں اور پھر بیرونی دنیا سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاسپورٹ کی عزت کریں اور ہمیں ائیر پورٹ پر مشکوک نگاہوں سے نہ دیکھیں اور ہم ملالہ اور اس جیسی بچیوں پر حملہ کرکے انہیں ملک سے باہر منتقل ہونے پر مجبور کردیتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ لوگ ہمیں وحشی اور درندہ کہہ کر ہم سے ہاتھ ملانے سے کیوں کتراتے ہیں۔ ہم نے تو پوری دنیا کے سامنے ایسی تصویر پیش کرنی تھی کہ عورت کی عزت محفوظ ہوتی ا س کو ا سکا مقام دیاجاتا لیکن ہم دنیا کے سامنے اپنی تصویر کا بُرا رخ پیش کرکے ان کی نظروں میں صرف ناپسندیدہ  ہی نہیں بلکہ ناپسندیدہ ترین بن چکے ہیں…؎
 اب بھی دلکش ہے تیرا حسن مگر کیاکیجئے۔۔۔  لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے
٭…٭…٭…٭…٭
 بلوچستان:زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں فوجی جوانوں پر5حملے،4 جاں بحق،3زخمی
 امدادی قافلوں پر حملے کرنے والے انسانیت کے دشمن ہیں، زخموںسے چور اور  تڑپتے انسانوں کو دیکھ کر تو دشمن   بھی منہ میں پانی ڈالنے آجاتا ہے لیکن تخریب کار عناصر زلزلہ متاثرین کی مدد تو کجا انکی مدد کرنے والو ں پر حملہ آورہورہے ہیں۔تخریب کاروں میں اگر دم خم ہے تو بہادر بن کر سامنے آئیں اور مقابلہ کریں،چھپ چھپ کر وار کرنا بزدل اور مکار لوگوں کا شیوہ ہے۔حلالی انسان کبھی بھی کراہتے انسانوں کی مدد کرنیوالوں کا خون نہیں بہاتا لیکن ہمارا پالا تو پتھر کے زمانے والے انسانوں سے پڑا ہے۔زلزلہ متاثرین کی مدد تو حکومت جس انداز سے کر رہی ہے وہ سب کے سامنے ہے لیکن اب امدادی قافلوں پر پے درپے حملوں کوسامنے رکھتے ہوئے تو حکومت بھی کہہ سکتی ہے کہ ہم زخمیوں کی مرہم پٹی کیسے کریں۔ وہاں تو قافلوں پر حملے کیے جارہے ہیں۔ حملہ آوروںسے کسی قسم کی اپیل کرنا تو بھینس کے سامنے بین بجانے کے مترادف ہے کیونکہ جنہیں معصوم زخمی بچے اور عورتیں نظر نہیں آرہیں ‘وہ اپیل کو کیا سمجھیں گے۔بہرحال حکومت اب زخمیوںکی مدد کے ساتھ ساتھ اس علاقے میں شدت پسندوں کا بھی صفایا کرے تاکہ وہاں کے باسی سُکھ کا سانس لے سکیں۔

٭…٭…٭…٭…٭
ملک میں زلزلہ زدگان امداد سے محروم ہیں اور حکومتی وفد کے ارکان حکومتی خزانے کے لاکھوں روپے نیویارک کے سیر سپاٹوں پر خرچ کر رہے ہیں اس لئے کسی نے خوب کہا ہے ’’مالِ مفت دلِ بے رحم‘‘ 
ایک غریب ملک کے فاقوں، مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کے ہاتھوں خودکشی پر مجبور قوم کے یہ نمائندے اور خادم کس منہ سے عوام کی خدمت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اگر یہی عیاشیاں اور اخراجات اپنی جیب سے انہیں ادا کرنا پڑیں تو نیویارک کجا یہ تو کبھی لاہور میں بھی دھیلا خرچ نہ کریں، یہ تو سب سرکاری خزانے کی برکات سمیٹ رہے ہیں۔ 
ہزاروں زلزلہ زدگان کھلے آسمان تلے گرم و سرد موسموں کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں،بد قسمتی سے شورش زدہ علاقہ ہونے اور ذرائع آمد و رفت کی قلت کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹوں کا سامنا ہے تو ایسے میں دوا، روٹی اور سائبان سے محروم قوم کے وفد کے ارکان کی یہ سیر و تفریح اور خریداری وہ بھی ’’سرکاری خرچے‘‘ پر زیب نہیں دیتی کیونکہ …؎
دُکھائے دل جو کسی کا وہ آدمی کیا ہے  ۔۔۔  کسی کے کام نہ آئے وہ زندگی کیا ہے