پیر ‘ 14؍ رجب المرجب 1436ھ ‘ 4؍ مئی 2015ء

پیر ‘ 14؍ رجب المرجب 1436ھ ‘ 4؍ مئی 2015ء

جماعت اسلامی نے ملک میں ’’کسان راج‘‘ تحریک کا آغاز کر دیا۔ 

کیا اس سے یہ سمجھا جائے کہ جماعت اسلامی نے بھی اپنا نعرہ ’’اسلامی انقلاب‘‘ سے تبدیل کر کے اب ’’کسان راج‘‘ رکھ لیا ہے کیونکہ ’’اسلامی انقلاب‘‘ کے نام پر کئی دہائیوں سے جماعت اسلامی والے صالحین کی جماعت کی مدد سے اسلام آباد پر قبضے کا سوچتے سوچتے اب لگتا ہے تھک گئے ہیں اور اب وہ اپنا خواب ملک کی 70 فیصد آبادی کی مدد سے ’’کسان راج‘‘ کے نام پر پورا کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ عرصے سے سراج الحق صاحب جس طرح رکشے والوں کے ساتھ رکشہ چلا کر، قلیوں کے ساتھ کھانا کھا کر جماعت اسلامی کا مزاج عوامی بنانے کی سعی کر رہے ہیں اس سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اب بھٹو ازم معاف کیجئے بھٹو کے نعرے ’’روٹی کپڑا اور مکان‘‘ کے قائل ہیں کیونکہ ملک کی 80 فیصد آبادی کی ساری تگ و دو انہی تین چیزوں تک سمٹ گئی ہے اور بقول شخصے…؎
مانگ رہا ہے ہر انسان
روٹی کپڑا اور مکان
کا نعرہ اب ہر طرف بوتل سے نکلے ہوئے جن کی طرح ناچ رہا ہے۔ جب ہر طرف روٹیوں کے لالے پڑے ہوں تو اس بزم سامری میں جانے کا کون سوچ سکتا ہے جو ہمارے معاشرے کے اشرافیہ کے دم قدم سے آباد ہے جہاں عام مسلمان اور صالحین کا فرق قدم قدم پر ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ اب یہ بھوکے ننگے لاچار مزدور کسان دیکھنا ہے سراج الحق صاحب کی تحریک میں شامل ہوتے ہیں یا اپنی روزمرہ ضروریات کے حصول کیلئے صبح سے شام تک کھیتوں اور کھلیانوں میں، ملوں اور کارخانوں میں گلیوں اور بازاروں میں خون پسینہ ایک کرتے ہوئے اپنے بال بچوں کیلئے روٹی پانی کا بندوبست کرتے ہیں۔ کیا ہماری اشرافیہ نے ان پسے اور کچلے ہوئے انسانوں کے بارے میں کبھی سوچا ہے، انہیں مشکل حالات سے نکالنے کی سعی کی ہے؟ یہ لوگ ایسا کر بھی نہیں سکتے کیونکہ یہ سب جاگیردار، سرمایہ دار اور صنعتکار ہی خود کو اشرافیہ کہلاتے ہیں۔ ہاں البتہ اپنے مفادات کیلئے مزدوروں اور کسانوں کے نعرے بھی لگاتے ہیں۔
…٭…٭…٭…٭…
پی سی بی عہدیداروں کے غیرملکی دورے۔ بورڈ کو لاکھوں روپے کا ٹیکہ۔
ایک طرف قومی کرکٹ ٹیم کی یہ حالت ہے کہ مسلسل کئی برسوں سے خدا جھوٹ نہ بلوائے تو گذشتہ 2 دہائیوں سے شکستوں کے ہار جس طرح ان کے گلے کی زینت بن رہے ہیں اس کے بعد ان عیاشیاں کا تصور ہی کیسے کر لیا گیا۔ یہی پیسے اگر ٹیم کی حالت بہتر بنانے پر خرچ کئے جاتے، ملک میں کرکٹ اکیڈمیوں کی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے کھیلوں کے میدانوں کو بہتر بنانے پر صرف ہوں تو ہر طرف بلے بلے ہو جائے اور اس طرح کھیل کے ہر میدان میں تھلے سے تھلے جانے کا سفر بھی رک جائے۔ جب تک ہمارے کرتا دھرتا اپنی منجی تھلے ڈانگ نہیں پھیریں گے، برسوں سے پی سی بی کی اہم عہدوں پر قابض من مرضی کرنے والے عیاروں سے، سفارش و سیاسی دبائو یا پھر نظر کرم سے بھرتی ہونے والے ناکارہ افراد سے نجات کی راہ نہیں نکالیں گے اس وقت تک ہار پر ہار کی ذلت اس طرح ہماری قومی کرکٹ ٹیم کا پیچھا کرتی رہے گی جس طرح بیماریاں کمزور کا اور بلی چوہے کا پیچھا کرتی ہے۔ اب پی سی بی سے لے کر ہمارے بزرگ کھلاڑیوں اور سفارش سے بھرتی ہونے والوں تک سب کو خدا حافظ کہنا ہو گا۔ ملک بھر میں کرکٹ گرائونڈز اور اکیڈمیوں کو فعال کرنا ہو گا، تب کہیں جا کر یہ مریض بستر سے اٹھ پائے گا ورنہ زمبابوے کا ہمارے ہی پیسوں پر ہمارے گھر کا دورہ بھی اس کھیل میں جان نہیں ڈال پائے گا کیونکہ عارضی اقدامات سے اب اس تن مردہ میں جان نہیں پڑ سکتی اس کے لئے طویل المدتی پلان کی ضرورت ہے۔ سکولوں، کالجوں، شہروں اور دیہات سے پاکستانی ٹیلنٹ کو سامنے لانا ہو گا، کرکٹ پر چند شہروں کی اجارہ داری ختم کرنا ہو گی۔
…٭…٭…٭…٭…
الطاف نے معافی مانگ لی، اس پر مزید بات نہیں کرنی چاہئے: خورشید شاہ۔
لگتا ہے شاہ جی معافی تلافی کے معاملے میں خاصے دیالو ہیں، آخر شاہ جو ٹھہرے مگر یہ معافی تلافی صرف اپنے سابق حلیف سیاسی پارٹنر کیلئے ہی مخصوص کیوں، کیا آپ نے اور آپ کی جماعت نے بھٹو اور بے نظیر کے دشمنوں کو بھی معاف کر دیا ہے کہ اب آپ دوسروں کیلئے بھی معافی کی بات کرنے لگے ہیں۔ شاہ جی! یاد رکھیں آج بھی گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں ہر سال ’بی بی ہم شرمندہ ہیں… تیرے قاتل زندہ ہیں‘ کے نعرے اسی تواتر سے گونجتے ہیں مگر شاید آپ کی سماعت میں فرق آ گیا ہے کیونکہ آپ کے موجودہ چیئرمین بھی ان نعروں کو ڈرائونے خواب کی طرح فراموش کرنا چاہتے ہیں۔ الطاف بھائی کی تو بات ہی نرالی ہے، اب وہ معافی تلافی کے چکروں سے نکل چکے ہیں۔ جب انہوں نے کبھی اپنے مخالفین کو معافی نہیں دی تو اب ان کے مخالفین انہیں کہاں معاف کریں گے۔ ویسے بھی یہ عجیب منطق ہے، ہر بار بنت انگور کے خمار میں رات کو کسی نہ کسی پر کیچڑ اچھال کر، اس پر الزامات لگا کر گالیاں دے کر صبح صہبا پی کر ہوش میں آتے ہی معافی طلب کر لی اور لگے ’’یارو مجھے معاف کرو میں نشے میں ہوں‘‘ والا گیت سنانے۔ پہلے کیا استعفے دے کر واپس لینے کے افسانے کچھ کم تھے کہ اب معافی ناموں کی سیریل تیار کی جا رہی ہے۔ آخر کب تک کوئی ہذیان برداشت کر سکتا ہے۔ آخر صبر کا پیمانہ چھلک پڑتا ہے اور جب ایسا ہو تو پھر …؎
غم دل کو ان آنکھوں سے چھلک جانا بھی آتا ہے
تڑپنا بھی ہمیں آتا ہے تڑپانا بھی آتا ہے
والی حقیقت سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ اب لگتا ہے تڑپنے کی باری قائد کی آئی ہوئی ہے۔ جبھی تو انہیں کسی پل چین نہیں مل رہا۔ اب انہوں نے جو تاحیات پارٹی کی قیادت نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے وہ ان کی آمرانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہی ہماری سیاست کی بدنصیبی ہے جہاں شخصیت پرستی کا رواج پڑ چکا ہے، ہر قائد اپنے آپ کو لازمی سمجھتا ہے حالانکہ تاریخ گواہ ہے اپنے آپ کو ضروری سمجھنے والے کئی قائد تہہ خاک جا چکے ہیں، اس لئے ایویں شیویں بونگیاں مارنے کی بجائے جو بھی بات کرنی ہو تول کر کی جائے تاکہ بعد میں معافی تلافی کے چکروں میں نہ پڑنا پڑے۔