جمعرات ‘ 16؍ شعبان المعظم 1436ھ ‘ 4؍ جون 2015ء

 جمعرات ‘ 16؍ شعبان المعظم 1436ھ ‘ 4؍ جون 2015ء

سی ڈی اے ملازم 75 کروڑ نقد، 13 پلاٹ اور ہزاروں کنال اراضی کا مالک نکلا

صرف یہی کمال اور مال انکے کھاتے میں نہیں انکی بیوی اور بھانجی بھی سی ڈی اے میں اسسٹنٹ اسٹیٹ مینجمنٹ آفیسر ہیں گویا ’’ایں خانہ ہمہ آفتاب است‘‘ اسسٹنٹ ڈائریکٹر خالد کھوکھر کے پاس جو مال و متاع سمٹ آیا ہے۔ اس پر تو ہمارے وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ بھی رشک کرتے ہونگے کہ یہ قارون کا خزانہ اسکے ہاتھ لگا کہاں سے۔ ورنہ کہاں 50 ہزار روپے تنخواہ لینے والا سرکاری ملازم اور کہاں یہ بادشاہوں والے اثاثے یہ سب اسی لوٹ مار کا شاخسانہ ہے جس کی بدولت اسلام آباد کے پہاڑ تک بیچ دیئے گئے اور سرسبز پہاڑیوں سے مزین یہ خط آج چٹیل میدان کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ جس میں سر سبز گھنے جنگلات کی بجائے کنکریٹ کے جنگل اگایا جا رہا ہے اور شومئی قسمت سے اسے ہم ترقی اور تعمیراتی حسن کا نام دے رہے ہیں۔ اس لوٹ مار میں یہ سنہری تکون میاں بیوی اور بھانجے کی شکل میں دولت کا اہرام کھڑا کر رہی ہے۔ اب عدالت نے ان کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے تو پتہ چل جائے گاکہ یہ کون سے جدی پشتی نواب تھے یا راجے مہاراجے۔ یہ سب اسی لوٹ مار کا کمال ہے کہ ایسے ویسے لوگ آج نواب بن گئے ہیں اور گھوڑوں کی مالش کرنیوالے اصطبل کے مالک۔ اب بھی اگر سی ڈی اے کے دیگر افسران اور عام ملازمین کے کھاتے چیک کئے جائیں جو انہوں نے اپنے اور اپنے گھر والوں کے نام سے کھولے ہیں تو ایسے کئی اور نواب بھی سامنے آ جائینگے اور اب ان کا احتساب ضروری ہے۔ آخر سارا احتساب سیاستدانوں کا ہی کیوں ہو، بیوروکریٹس، صنعتکار، تاجر اور جاگیردار اور وڈیروں پر بھی تو ہاتھ ڈالا جائے کہ یہ ارب پتی کیسے بن گئے۔ ورنہ قیام پاکستان سے قبل تو چند ایک ہی نواب سردار اور خان تھے باقی سب تو بعد میں بنے ہیں۔
…٭…٭…٭…٭…
مدھیہ پردیش کے سبزی خور وزیر اعلیٰ نے سکول کے غریب بچوں کیلئے انڈے بند کر دیئے
اب یہ ان غریب بچوں کی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ انکے صوبے کا وزیر اعلیٰ جین مت سے تعلق رکھتا ہے جو مکمل سبزی خور ہوتے ہیں۔ ویسے تو سارے ہندو گوشت اور انڈے سے پرہیز کرتے ہیں مگر اب وہ پہلے سی بات نہیں رہی وائٹ میٹ کے نام پر پڑھے لکھے نوجوان اور متمول طبقے کے لوگ بلا تکلف مرغی اور مچھلی کے کباب، تکے، بریانی اور روسٹ چٹ کر جاتے ہیں اور مسلمانوں کے چٹ پٹے کھانوں کی وجہ سے بہت سے ہندو بے مزہ دال سبزی کو چھوڑ کر مرغ مسلم پر زیادہ زور دینے لگے ہیں۔
بھارت میں کم آمدنی والے غریب طبقات کے بچوں میں آئرن اور پروٹین کی کمی دور کرنے کیلئے سرکاری سکولوں میں انہیں دودھ اور انڈے مفت فراہم کئے جاتے ہیں جس کیلئے عالمی برادری بھی مناسب امداد دیتی ہے۔ یوں ان غریب بچوں کو بھی مفت خوراک کی شکل میں کچھ اچھا کھانے کو نصیب ہوتا ہے۔ جو اب بند کیا جا رہا ہے ہمارے ہاں بھی کئی مرتبہ سرکاری سکولوں میں بچوں اور لڑکیوں کیلئے دودھ سلائس اور کھانا پکانے کا آئل وغیرہ فراہم کرنے کے منصوبہ اور اعلانات ہوئے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ سب سامان یا ان کیلئے ملنے والی امداد متعلقہ محکمے کے ذمہ داران کے پیٹوں اور جیبوں میں جانے لگی اور طلبہ یہ اس چھوٹی سی مزیدار رعایت سے محروم ہو گئے۔ مدھیہ پردیش کا وزیر اعلیٰ تو چلیں سبزی خور ہندو ہے۔ اس نے مذہبی تعصب کی بنا پر یہ حرکت کی مگر ہمارے ہاں تو سب گوشت خور اور مسلمان ہیں انہوں نے کیا سوچ کر یہ سہولت ختم کی۔ اگرچہ اب سرکاری سکولوں میں مفت یونیفارم اور کتابوں کے ساتھ شاید جوتے بھی مہیا کئے جانے کے بیانات آتے رہتے ہیں مگر ایسا ہوتا کہیں نظر نہیں آتا۔ ذرا ہماری حکومت اس طرف بھی توجہ دے تو شاید ہم بہت سے غریب گھرانے کے بچوں کا بھلا ہو جائے اور یہ لوگ اپنے بچوں کو سکولوں میں داخل کرنے پر تیار ہو جائیں۔
…٭…٭…٭…٭…
بنگلہ دیش حکومت نے مساجد میں کرسیوں پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے پر پابندی لگا دی۔
ساری دنیا میں مسلمان بیماری، بڑھاپے کی معذوری کے سبب مساجد میں کرسیوں پر بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں۔ مگر کہیں بھی ان پر ایسی کوئی پابندی نہیں اب معلوم نہیں بنگلہ دیش کی حکومت نے مفتی کا کام کب سے سنبھال لیا اور حسینہ واجد کی سربراہی میں دینی معاملات میں بھی مداخلت کرنے لگی ہے اور ایسے عجیب و غریب احمقانہ فیصلے کرنے لگی ہے۔
پورے یورپ میں مغربی ممالک کے مکین ہر دم منفی پراپیگنڈے کی وجہ سے مسلمانوں کے بارے میں خاصے حساس ہو چکے ہیں مگر وہاں بھی اذان یا نماز کے حوالے سے کوئی ایسی پابندی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ معذور ضعیف اور بیمار لوگ تو ویسے ہی یورپی ممالک میں خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہیں ہر طرح کی سہولت ہر جگہ دی جاتی ہے۔ اسکے برعکس ایک اسلامی ملک میں نماز ادا کرنیوالے ان ضعیف، بیمار اور معذور افراد پر یہ ناروا پابندی کیوں۔
اس کا جواب تو حسینہ واجد کو دینا ہی ہو گا کیوں کہ وہاں کے علماء اور مسلمانوں نے اس پابندی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ لگتا ہے بنگال کی دھرتی کو سکون اور آرام راس نہیں آتا۔ کبھی سیلاب، کبھی قحط اور کبھی سیاسی ہنگامی آرائی کی بدولت یہاں وقفے وقفے سے بدامنی اور لا قانونیت جاری رہتی ہے۔ اب حسینہ واجد کی شکل میں یہ نئی افتاد نازل ہوئی ہے۔
جو قوم اپنے بنگلہ بدھو کو نشان عبرت بنا سکتی ہے انکے نزدیک حسینہ واجد کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے۔ حسینہ واجد سیاسی میدان میں جو چاہیں کر لیں جسے چاہیں پاکستان سے محبت کے جرم میں پھانسی پر لٹکا دیں۔ وہ یہ یاد رکھیںکہ فی الحال انہیں مفتی اعظم کا عہدہ نہیں مل سکتا۔ انہیں ایسے امور میں ٹانگ اڑانے سے پرہیز کرنا ہو گا جس کے نتیجے میں پیروں کے نیچے سے زمین یا کرسی سرکنے لگے…