پیر ‘ یکم شعبان المعظم1432 ھ‘ 4 جولائی 2011ئ

منموہن سنگھ نے ایک بیان میں کہا: اکثر بنگلہ دیشی بھارت کے خلاف ہیں منموہن کے بیان پر بنگلہ دیش میں شدید ردعمل۔ بھیڑیا ابھی مطمئن نہیں ہوا،ایک پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کے بعد اب وہ بنگلہ دیش کے ساتھ پانی گدلا کرناچاہتا ہے، منموہن سنگھ کے سرپر تو پگڑی کے سوا کچھ بھی نہیں، یہ پاکستان کی اطالوی دشمن اور اُس کی ساڑھی سے بندھے ہوئے کانگریسی نیتاﺅں کی پالیسی ہے، کہ کیوں نہ بنگلہ دیش کو بھی اپنے مقبوضات میں شامل کرلیاجائے، بنگلہ دیشیوں کو اب بھی بھارت کی اس دریدہ قدمی پر غصہ ہے کہ اُس نے سازش کرکے مشرقی پاکستان کو جدا کرکے اُس پاکستان کو دونیم کردیا جس کے وجود میں لانے کا آغازہی بنگلہ دیش کی مٹی سے ہوا تھا،وہ سب کچھ بھول سکتے ہیں مگر1906 کو نہیں بھول سکتے، جب پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی،بھارت کی را جس طرح ہمارے ہاں سرایت کئے ہوئے ہے ویسے ہی ایک ایک بنگلہ دیشی کے دل و دماغ کا بھی جائزہ لیتی رہتی ہے،یہ نفرت جو بنگلہ دیشیوں کو بھارت سے ہے وہ محبت ہے پاکستان سے، اور محبت تو پھر رنگ لاتی ہی ہے، بھارت سخت ذہنی الجھنوں کا شکار ہے، ایک طرف پاکستان،پھر بنگلہ دیش اور شمالی مسلم ریاستیں اور سب سے بڑھ کر چین،اُس کے اعصاب پر سوار ہے، بنگلہ دیشی، نفرت نہ کریں تو کیا اُس بھیڑیے سے محبت کریں جس نے اُس کودھوکے سے زک پہنچا کر پاکستان توڑ دیا، چیزیں اپنی اصل کی طرف لوٹنے لگی ہیں۔ یہی وہ دردِ دل ہے جو ساڑھی اور پگڑی کو لاحق ہے، کہ کہیں دونوں کے بل کھل نہ جائیں۔
٭....٭....٭....٭....٭
سابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب رحیم نے کہا:پیپلز پارٹی نے ہر پارٹی کو استعمال کرکے کام نکالا۔ جب کوئی سابق ہوجاتا ہے تو اس کی بصیرت اور روحانی قوت میں اضافہ ہوجاتا ہے، ارباب صاحب کو بھی یہ رتبہ بلند مل گیا ہے،اب وہ جو کہیں گے وہ غلط ہو بھی تو اُسے غلط تو نہیں کہہ سکیں گے،پیپلز پارٹی کے منشور میں یہ کہیں نہیں لکھا ہوا کہ وہ کسی دوسری پارٹی کو استعمال نہیں کرسکتی، استعمال کرنا ہر شخص کا حق ہے یہ اب اُس کا اپنا ذوق ہے کہ وہ کیا استعمال کرتا ہے، یہاں تک کہ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن تک کو استعمال کرڈالا،تو پھر باقیوں کی کیا پوچھتے ہیں،استعمال کرنے کی لت ایسی خصلت ہے کہ جس میں آجائے وہ نفع و نقصان دونوں اُٹھاتا ہے، پیپلز پارٹی کی سیاسی کاریگری، نون لیگ سے آگے نکل گئی، بلکہ وہ تو متحدہ کو بھی غیر متحدہ کرگئی، کیوں کہ ہم سمجھتے تھے کہ متحدہ خود اپنے وجود میں مکمل ہے، اس وقت، یہ پیپلز پارٹی یعنی مردِ حرّ کا سیاسی سُر ہے جو ق لیگ کے تانپورے پر بج اُٹھا اور یوں قاف لیگ، لیگوں کی شاہراہ سے اتر کر پیپلز پارٹی کے کچے پر چڑھ گئی آخر میں یہی ہوگا کہ قاف لیگ کو کوہ قاف سے صدا آئے گی کہ....ع برون درچہ کردی کہ درون خانہ آئی،لیکن ایک بات جو سچی اور کھری ہے ، وہ یہ ہے کہ حرم والوں نے بھی تو دَر نہ کھولا، بلکہ دونوں بھائی در وازے کو کھلنے سے بچانے کے لئے زور لگانے لگے، ارباب رحیم کوئی اور اعتراض ڈھونڈیں یہ اعتراض برائے اعتراض ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭
امتیاز صفدر وڑائچ نے کہا ہے: پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ کا کوئی امکان نہیں۔ ق لیگ سے اتحاد مزید بہتر بنائیںگے،ایم کیو ایم جلد دوبارہ ہمارے ساتھ ہوگی۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے پنجاب پرنظر رکھنے والے وڑائچ صاحب نے جو کہا درست کہا کیونکہ انہوں نے ایک ہی سانس میں بتا دیا کہ ایم کیو ایم سردست طلاق لے چکی ہے ، گورنر راج قائم نہیں ہوگا کہ اس طرح مہاراج کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے،ق لیگ سے تعلقات مزید بہتر بنا کر بتادیا کہ اتنے بہتر نہیں جتنے ہونے چاہئیں، ایم کیو ایم دوبارہ پیپلز پارٹی کا حصہ بن جائے تو یہ حلالے ہی سے ممکن ہے،اب یہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے سوچنے کی بات ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں، پاکستان میںسیاست عروج پر ہے،مگر یہ نورا سیاست لگتی ہے اسلئے کچھ حقیقی نتائج سامنے آنے والے نہیں،وزراءکرام میں سے کوئی نہ کوئی چند صحافیوں کو بلا کرپُر تکلف کھانا کھلاتا ہے اور ساتھ ساتھ بریفنگ یعنی اپنی وزارت کے اردگرد تارعنکبوت بنتا رہتا ہے، ہر سوال، سوال ہی کی صورت واپس آتا ہے،حقیقی جواب دیں، تو اُنہیں خود کو جواب ملنے کا اندیشہ ہوتا ہے اس لئے ملک قوم، وزارت اور اپنی کارکردگی کو چھپانے کیلئے وہ پورا پورا ہوم ورک کرکے آتے ہیں، ایک بریفنگ میںتین سوال نوائے وقت کے انداز میں کئے مگر جواب کی جگہ یہ جواب کہ یہ ڈش کھائیں یہ بڑی لذیذ ہے....
تھی خبر گرم کہ غالب کے اُڑیں گے پرزے ۔ دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشانہ ہوا
٭....٭....٭....٭....٭
اسلام آباد کے امریکی سفارتخانے میں ہم جنس پرستوں کا اجتماع ہوا،امریکی ناظم الامور نے پاکستانی ہم جنس پرستوں کو مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ حالانکہ کوئی ایسا خاص سیاق بھی نہیں بنتا مگر نہ جانے کیوں ہمیں نادر شاعری کے حامل شاعر شعیب بن عزیز یاد آگئے،اُن کا شعر ہے....
اب اداس پھرتے ہو سردیوںکی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
ابن عزیز نے بڑی مہارت اور ہنر مندی سے ہمیں یاد دلایا ہے کہ یہ جو تم نے امریکہ کو صرف کاغذوں کی خاطر یار بنالیا ہے اور اپنے گھر کا کیا حال کرلیا ہے، کہ پا کر بھی خالی ہاتھ اور اداس اداس سے ہو تو پریشانی کس بات کی،اور اس سے بڑھ کر یہ کہ حسین کاغذ کسی نے لئے اور اداس ساری قوم ہوگئی، جب ہم بستی کے ظالموں کے ہاتھ نہ روکیں گے، پھر وہی ہوگا جوشعیب ابن عزیز نے کہہ دیا،اور ایسا کہا کہ ہماری اداسی کو ضرب المثل بناکر اچھا نہ کیا وہ کچھ ایسا کہہ دیتے کہ ہم بھول ہی جاتے، اور ہماری شاموں میں بھلے لوڈشیڈنگ کے باعث دئیے جلتے مگر ہماری شامیں بایں طور اداس تو نہ ہوتیں، بہر حال ہم اُن سے یہ گلہ ضرور کریں گے....ع بہ عندلیب چہ فرمودئہ ای کہ نالان است، امریکی سفارتخانے نے پاکستانی ہم جنس پرستوں کو مکمل حمایت کا یقین دلادیا ہے گویا وہ اپنی گوری چمڑی سمیت یہاں اپنی سیاہ رنگ تہذیب بھی لانا چاہتا ہے، یہ ہم جنس پرستی تو فیملی یونٹ توڑنے کی سازش ہے،کیا ہم اس ساز کو بھی سن کر سردھنتے رہینگے، بریں عقل و دانش بباید گریست، کچھ حضرات تو اپنا کالم صرف ایک دعوت کی نذرکردیتے ہیں، ایسے لوگوں سے الحذر! اور ان کا ظاہری حلیہ یہ ہوتا ہے....
توو طوبیٰ و مصلیٰ و رہِ زہد وورع
من و میخانہ و ناقوس و رہ دیر و کنشت