پیر‘ 15 ؍ ربیع الاوّل 1439ھ‘4 ؍ دسمبر2017ء

پیر‘ 15 ؍ ربیع الاوّل 1439ھ‘4 ؍ دسمبر2017ء

مسلم لیگ (ن) کے منحرف ارکان کی ق لیگ میں شمولیت پر امریکہ کو تشویش

صوبائی وزیر ریونیو عطا مانیکا نے انکشاف کیا ہے کہ ان سے ایک ملاقات میں امریکی سفارتکاروں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے منحرف ارکان ق لیگ میں شامل ہو رہے ہیں۔ اب امریکی سفارتکار کی حیرت یا اظہار تشویش پر صوبائی وزیر عطا مانیکا کا ہاسا نکل گیا ہو گا جس پر امریکی سفارتکار کی تشویش اور بھی بڑھ گئی ہو گی کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو ایک سنجیدہ مسئلہ پر بھی ہنس رہے ہیں۔ اب امریکی سفارتکار کو کون بتلائے کہ انکی یہ تشویش بذات خود ایک لطیفہ ہے جسے سن کر کوئی بھی پاکستانی اپنی ہنسی روک نہیں پائے گا۔ مسلم لیگ (ن) سے اگر کسی نے جانا ہی ہے تو وہ تحریک انصاف میں جائے گا یا حد سے حد اپنی سیاست مزید خراب کرنے کے شوق میں پیپلز پارٹی میں جائے گا۔
یہ ق لیگ کا دم چھلا بننے کا تو کسی نے سوچا تک نہیں ہو گا کیونکہ اس وقت ملک میں مشرف کا دور نہیں ہے۔ ہاں البتہ امریکی سفارتکار کی تشویش کا ایک تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ کہیں اندر خانے ق لیگ کے احیا کی کوئی کوشش تو نہیں ہو رہی۔کیا ق لیگ والے کمزور دل حضرات کو سہانے خواب دکھا کر اپنی طرف راغب تو نہیں کر رہے تاکہ یہ کبوتر کسی دوسرے کے صحن میں اترنے کی بجائے ان کے آنگن میں غٹرغوں کرتے نظر آئیں حالانکہ تحریک انصاف کے پاس بھی وسیع صحن موجود ہے جس میں پہلے سے ہی ارد گرد سے اڑنے والے کبوتروں کی بڑی تعداد نہایت اطمینان سے دانا دنکا چگ رہی ہے تو ایسی صورت میں ق لیگ کے خالی سوکھے آنگن میں جہاں نہ دانہ ہے نہ پانی کوئی اندھا کبوتر ہی جا سکتا ہے۔
٭…٭…٭…٭
سعودی عرب میں بدعنوانی کے ملزمان سے مالی تصفیئے کے اقدامات کا آغاز
تو جناب لگتا ہے یہ این آر او یا کچھ لو کچھ دو کی پالیسی کامیابیوں کا سفر طے کرتے کرتے اب سعودی عرب بھی جا پہنچی ہے ،جہاں کچھ عرصہ قبل کرپشن کے خلاف ایک بڑا کریک ڈائون ہوا تھا۔ اس سخت ایکشن میں درجنوں ارب پتی عرب شہزادے، اعلیٰ عمائدین سلطنت و حکومتی اہلکاروں کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ کسی جاسوسی فلمی انداز میں گرفتار کر کے راتوں رات ایک اعلیٰ فائیو سٹار ہوٹل میں قید کر دیا گیا۔ ہمارے ہاں جس طرح گھر کو سب جیل قرار دیا جاتا ہے اسی طرح اس ہوٹل کو بھی سب جیل قرار دیا گیا ۔ جس کے بعد ان شہزادوں کی تمام حاصل شہزادگی یعنی مالی اثاثوں کی چھان بین ہوئی اور بتایا گیا کہ ان شہزادوں نے اربوں کھربوں ڈالر کے اثاثے بنائے ہیں۔ خیر دنیا کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی اس پر حیرانی کا اظہار کرنا پڑا۔ اب اس سے زیادہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ معاملہ آہستہ آہستہ ٹھنڈا پڑ رہا ہے کیونکہ یہ بااثر گرفتار شدگان بھی شاہی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں اور دنیا بھر میں ان کے کاروبار پھیلے ہوئے ہیں۔ اب اطلاعات ہیں کہ ان کا بھاری سرمایہ جو بقول حکومت غیرقانونی طریقے سے حاصل کیا گیا ہے وہ بحق سرکار ضبط کر لیا جائے گا اور اس کے بدلے ان کے باقی بچ جانے والے جان و مال کو امان مل جائے گی۔ سو یوں جان بچی سو لاکھوں پائے… یہ سب شکر ادا کریں گے۔ دولت پھر بھی ان کے پاس بے شمار بچے گی اس لئے ہمیں زیادہ پریشانی کی ضرورت نہیں یہ پھر بھی شہزادے ہی رہیں گے!
٭…٭…٭…٭
کوئٹہ میں خطاب سے قبل میاں نواز شریف نے ڈائس سے بلٹ پروف شیشہ ہٹا دیا۔
حالات اور واقعات نے میاں نواز شریف کو کچھ زیادہ ہی دلیر بنا دیاہے جبھی تو وہ بے خوف فیصلے کر رہے ہیں اور بیانات دے رہے ہیں مگر یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ بعض اوقات ذرا سی غلطی ، معمولی سی بھول چوک بھی کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ میاں صاحب مسلم لیگ (ن) والوں کا سب سے بڑا اور قیمتی اثاثہ ہیں۔ اسی سبب حکومت بلوچستان نے کوئٹہ کے جلسہ عام میں حفاظتی اقدامات کے تحت ڈائس پر بلٹ پروف شیشے کا شیڈ رکھا تھا مگر میاں صاحب نے تقریر سے قبل ہٹوا دیا۔ انہیں سکیورٹی رسک پر توجہ دینی چاہئے۔ اب جس طرح انہوں نے کوئٹہ جیسے سکیورٹی رسک خطرناک شہر کے جلسہ عام میں اپنے اور عوام کے درمیان حائل شیشے کی دیوار یعنی بلٹ پروف شیشہ اٹھوا دیا اس کے بعد بے شک عوام نے واہ واہ کے ڈونگرے برسائے ہوں گے مگر خدا ہی جانتا ہے کہ میاں صاحب کے بعد آنے والے مقررین نے کس طرح حوصلہ جمع کر کے تقریر کی ہو گی۔ وہ تو دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں گے میاں صاحب اپنے ساتھ ہماری بھی جان کے دشمن بن گئے ہیں۔ جلسے سے بے دھڑک ہو کر خطاب کرنا اپنی جگہ مگر دشمن کو واردات کا موقع فراہم کرنا بہادری نہیں حماقت ہے۔ بہرحال جو ہونا تھا وہ ہو چکا اب میاں صاحب ذرا احتیاط سے بہادری کا مظاہرہ کریں تو بہتر ہے۔ ویسے آج کل میاں نواز شریف کچھ زیادہ جذباتی ہو رہے ہیں۔ ان کے انداز میں، زبان و بیان میں عوامی رنگ نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ یہ رنگ یہ انداز عوام کو تو بہت پسند ہے مگر خواص اور بہت سے لوگ اسے زیادہ ہرگز پسند نہیں کرتے! یہ بات میاں صاحب کے علاوہ سب مسلم لیگ (ن) والے اچھی طرح جانتے ہیں!
٭…٭…٭…٭
شاہ زیب قتل کیس… دیت کے نام پر رقم نہیں لی۔ دبائو میں آ کر معاف کیا۔ چاہتا ہوں انصاف ملے: والد
جب ہتھکڑی لگے ملزمان جیل آتے جاتے نعرے لگاتے ہوں، وی کے نشان بناتے ہوں تو اس کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ سب کچھ خریدنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ یہی کچھ شاہ زیب قتل کیس میں ہوتا نظر آتا رہا ہے اور اب بھی نظر آ رہا ہے۔ شاہ زیب کے قتل میں ملوث جتوئی فیملی کے ہٹے کٹے چھ فٹے نوجوان کو کمسن ظاہر کرنے کی ساری کوششیں اس وقت ہی ناممکن نظر آ رہی تھیں جب اس کیس میں گرفتاری کے وقت اس ’’کمسن‘‘ کو اچھی طرح رگڑ رگڑ کر شیو کر کے، میک اپ کر کے نوعمر کمسن ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور یہ نوعمر مبینہ قاتل ڈر اور خوف سے سہما ہوا بالکل نظر نہیں آ رہا تھا۔ بہرحال پھر شور تھا کہ مقتول کے والدین نے کروڑوں روپے نقد، قیمتی پلاٹ اور آسٹریلیاکے ویزے دیت میں لے لئے ہیں صلح ہو گئی… جس پر سب چونک اٹھے کہ والدین روپے پیسے کے عوض اولاد کا خون نہیں بیچتے۔ شاہ زیب کے والدین بھی متمول تھے یہ کیا ہوا، اب لاہور کے کھوسہ کیس کی طرح جس میں مقتول نوجوان کی والدہ نے روتے ہوئے کہا تھا میری جوان بچیاں ہیں میں اپنا کیس اللہ پر چھوڑتی ہوں، شاہ زیب کے والد بھی پھٹ پڑے ہیں کہ میں نے دبائو میں آ کر معاف کیا تھا، میں چاہتا ہوں مجھے انصاف ملے، میں نے کوئی رقم نہیں لی، پاکستان میں ہی ہوں۔ اب 20 کروڑ پاکستانی قانون کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔سب کے ساتھ انصاف ہوتا نظر آنا چاہئے تاکہ والدین کے دکھ کا کچھ تو مداوا ہو…
٭…٭…٭…٭