پیر ‘15 شوال ، 1433ھ‘ 3 ستمبر 2012 ئ

پیر ‘15 شوال ، 1433ھ‘ 3 ستمبر 2012 ئ

 عالمی ثالثی عدالت نے کشن گنگا ڈیم کے خلاف حکم امتناعی برقرار رکھا۔ بھارتی وکلاءکو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور ثالثی عدالت نے تفصیلی فیصلہ محفوظ کرلیا۔ سچ ہے کہ حرکت میں برکت ہے۔ پاکستان نے عالمی ثالثی عدالت میں کشن گنگا ڈیم کا معاملہ اُٹھا کر حکم امتناعی حاصل کرلیا اور یہی اُس کا حق بھی تھا اب کشن ،گنگا میں ڈبے میں بند تیر تا ہی رہے گا کسی کنارے نہیں لگے گا۔ پاکستانی وکلاءکو سندھ طاس معاہدے کے ہتھیار کو نہایت کامیابی سے استعمال میں لانا مبارکباد کا مستحق ہے۔ اگر باقی بھارتی ڈیموں کو بھی سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے دیکھ کرعالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا جائے تو یہ بھارتی آبی جارحیت روکی جاسکتی ہے، بہت سے فتنے حکمت و دانائی اور اپنے حق پر خاموش نہ رہنے سے ٹل جاتے ہیں،بنیئے سے کہاجائے کہ....
 اتنی نہ بڑھا پاکی¿ ” دھوتی“ کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ
 ہمارے سارے دریا کشمیر سے نکلتے اور ہمارے حلق کو تر کرتے ہیں،بھارت بھی ان سے مقدور بھر استفادہ کرتا ہے لیکن شکم لبھو رام بھی تغارِ خدا ہے کہ لاکھ بھرو بھرتا نہیں۔ پاکستان کو سکیڑنے والے یہ مت بھولیں کہ ان پر اقلیت میں ہونے کے باوجود ایک ہزار سال حکومت کرنےوالا مسلمان آج بھی پھیلے گا اب وہ ایٹمی قوت ہے۔یہ پھیلے گا ۔عالمی سطح پر بھارت کی یہ پہلی ناکامی ہے۔اگر تھوڑی اور ہمت کی جائے تو غاصب کو کئی پلیٹ فارموں پر الٹی قلا بازی لگانا ہوگی،کشن گنگا ڈیم ایک بڑا ڈیم ہے لیکن اب یہ بھارت کا ڈیم فول ہے،اس پیش رفت پر حکومت لائق تحسین ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭
سینئر قانون دان ایس ایم ظفر نے کہا ہے: نثار کے نام لئے بغیر بعض صحافیوں کے رقم لینے کے بیان سے صحافیوں کی عزت غیر محفوظ ہوگئی۔ اپوزیشن لیڈر رشوت لینے والے صحافیوں کے خلاف شواہد پیش کریں یا بیا ن واپس لیں۔ اگر اپنی ناک کے نیچے ہی پھوڑا ہوتو پھر دوسروں کے پھوڑے نہیں چھیڑنے چاہئیں،آج ہر سیاستدان کو کوئی نہ کوئی پیسہ خور صحافی اسلئے بھی مل جاتا ہے کہ وہ اُسکی تلاش میں ہوتے ہیں،کسی بھی طبقے گروہ جماعت میں کالی بھیڑیں ہوا کرتی ہیں بلکہ اب تو ایسے ہنر مند بھی ہیں جو کالی بھیڑوں کا رنگ سفید کردیتے ہیں،سینئر قانون دان ایس ایم ظفر اور اپوزیشن لیڈر نثار دونوں میں قدر مشترک کے باوجود کافی فرق ہے،اچھی بات ہے کہ ظفر صاحب کی بات پر دھیان دیاجائے اور اپوزیشن لیڈر ایک مسبوط فہرست رشوت خور صحافیوں کے بارے پیش کردیں اور ساتھ دلائل بھی دیںتاکہ اس ملک سے کرپٹ سیاستدان بھلے ختم نہ ہوں کم از کم کرپٹ صحافی تو متعارف کردئیے جائیں، تاکہ لوگوں کو کالی چٹی خبریں ملنے کا سلسلہ بھی ختم ہو، نثار چند صحافیوں کی کالی اون دیکھ کر ہزاروںبے داغ صحافیوں پر قذف لگا گئے یہ تو شکر کریں کہ یہاں شرعی نظام نافذ نہیں ورنہ وہ خود اپنے اوپر نثار ہوجاتے ، دریائے انتخابات میں کودنا اور صحافیوں سے بے گناہ بے خطا بے ثبوت بے نام بیرر رکھنے سے تو اچھا تھا کہ موصوف بیر چنتے اور کہیں سے اُنکی جوانی کو آواز آتی....ع میری بیریوں کے بیرمت توڑو کوئی کانٹا لگ جائے گا۔ بہتر ہے ایس ایم ظفر کے صائب مشورے پر عمل کرلیاجائے تاکہ مسلم لیگ ن کی روائے سفید خود اپنوں کے ہاتھوں داغدار تو نہ ہو، وہ اپنا بیان واپس لینے کے ساتھ ہی قوم کو رشوت خور صحافیوں سے بھی نجات دلائیں۔ عین نوازش ہوگی۔
٭....٭....٭....٭....٭
 رحمن ملک کہتے ہیں:2ہفتے خطر ناک ہیں، لاہور کراچی کوئٹہ میں دہشت گردی ہوسکتی ہے اگر پکڑنے والے مخبر بن جائیں تو نادان ملک مخبر کس کو قرار دینگے،اس سیدھے سوال کا درست جواب دیدیں ۔ وہ وزارت داخلہ کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرلیں گے۔ اس سے پہلے بھی وہ دو یا تین خطرناک ہفتوں کا ذکر کرچکے ہیں مگر ہفتوں کا تعین نہیں کیا اسلئے عوام بے چارے گو مگو میں یہی کہہ سکتے ہیں....
غضب کیا ترے وعدے کا اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
 ا س ملک میں جہاں کہیں دہشت گردی کا شائبہ بھی ہوتا ہے،رحمن ملک کو پہلے سے خبر ہوتی ہے، پھر بھی دہشتگردی ہوجاتی ہے تو قوم ہی بتائے کہ لائق کون ہوا؟ اور نا اہل کون؟صدر زرداری بڑے اپدیشک ہیں،”لائق“ لوگوں کو باتوں ہی باتوں میں اچک لیتے ہیں،شاید یہ ہنر انہوں نے حضر ت مشرف علیہ ما علیہ سے سیکھا ہے اُن کے اردگرد جان نثار دانشمندوں کی کمی نہیں ایک جائے تو دوسرا تیار ملتا ہے۔بہر حال یہ بیچ میں صدر گرامی قدر کا ذکر کہاں سے نکل آیا، بات تو اُن دو غیر معینہ ہفتوں کی ہورہی تھی جن میں بقول رحمان ملک دہشت گردی کا خطرہ ہے جبکہ انکے عمل سے دہشت گردی کو کوئی خطرہ نہیں....ع ڈھونڈ لاﺅ کوئی ملک میرے ملک کے برابر۔ یہ وزراءیہ جہازی سائز کی کابینہ، یہ لمبے چوڑے دستر خوان، کیا اس لئے ہیں کہ قوم کو بتائیں کہ کس نے کب کہاں مرنا ہے،اگر لاہور کراچی کوئٹہ میں دہشت گردی ہوسکتی ہے پھر باقی تو امریکہ میں موجود اُن کا لگژری فلیٹ ہی رہ جاتا ہے ، واہ رے واہ تیریاں آنیاں تے جانیاں۔
٭....٭....٭....٭....٭
 ملازمت سے فراغت پر ڈرائیور،نواز شریف کے گھر کے سامنے کھمبے پر چڑھ گیا اور مطالبہ منوا کر نیچے آگیا۔ سینکڑوں لوگ دیکھنے کیلئے جمع ہوگئے۔اگر وطن عزیز میں ظلم، محرومی ، گرانی، بیروزگاری، ڈاکہ زنی، اجتماعی زیادتیوں، عدم تحفظ اور کرپشن کا یہی عالم رہا تو ایک روز آئےگا کہ حکمران اپنا شکار زمین پر تلاش کرینگے اور اٹھارہ کروڑ عوام کھمبوں پر چڑھے ہونگے ۔ اسلئے اب ظالموں کو بھی اپنے ہتھکنڈے آزمانے کیلئے نئے طور طریقے اپنانے ہونگے۔کل کوئی چار پانچ ڈگریوں کا ہار پہن کر کھمبے پر چڑھا ہوگا اور نوکریاں زمین پر رُل رہی ہوں گی کیونکہ کسی نے تو اُن کا مُل دیا ہوگا۔ یہ کھمبا کلچر اب زور پکڑتا جائےگا اور شاید لوگ اسی طرح ہی بھارتی کلچر سے بھی باز آجائینگے ایک وقت تھا کہ کھسیانی پلی کھمبا نوچتی تھی ، بلیاں تو اب بھی ہیں اور زیادہ خوبصورت ہیں مگر اُن کو کھسیانی بننے کا موقع ہی نہیں ملتا، کھمبا نوچنے کی باری تو بعد میں آتی ہے اب تو یہ کھمبوں پر چڑھ کر اپنے مطالبے منوانے والے تب اترینگے جب حضرت عیسیٰؑ جامع دمشق کے شرقی منارے سے اترینگے پھر انصاف ہوگا ، بجلی کھمبوں کے بغیر گھروں میں پہنچے گی،انصاف کا بول بالا ہوگا ہمارا مشورہ ہے کہ جملہ مطالبہ کنندگان کھمبوں پر چڑھنے سے احتراز کریں مبادا یہ کھمبے اُن پر چڑھ جائیں اور نزول مسیح سے پہلے ہی کام آجائیں اللہ نہ کرے۔