اتوار ‘ 3 مئی 2009 ء

اعتزاز احسن نے ملک قیوم کی طرف سے سپریم کورٹ بار کے پیسے واپس ملنے پر علی احمد کرد کو دعوت کھلانے کا وعدہ کرلیا ہے۔
ممکن ہے کرد صاحب کو ماضی یاد آگیا ہو اور ایسے میں ملک قیوم بھی بری طرح یاد آگئے ہوں کیونکہ ملک صاحب کے کھانے کے بڑے تیز اور دکھانے کے بڑے کند ہیں‘ اسی لئے تو وہ بار کے پیسے کھا گئے اور ڈکار اس لئے نہیں لیا کہ مبادا اعتزاز سن نہ لیں مگر انکے کان بہت باریک ہیں‘ ہلکی سی بے اعتدالی بھی سن لیتے ہیں۔ یہ نہایت اچھا موقع ہو گا دعوت کا اگر ملک صاحب بار کے پیسے واپس کر دیں اور اس رزق حلال میں سے نہیں‘ اپنی جیب خاص سے اعتزاز صاحب کرد صاحب کو دعوت کھلا دیں‘ وعدہ تو کرلیا گیا ہے مگر لگتا ہے کہ یہ دعوت سر نہیں چڑھے گی کیونکہ ملک صاحب کے قبضے میں جو چیز آجائے‘ وہ اسے واقعی اپنی سمجھ بیٹھتے ہیں۔
اعتزاز صاحب نے یہ بیان اس لئے بھی دیا ہو گا کہ شاید اس طرح بدنامی کے ڈر سے پیسہ واپس مل جائیگا اور کرد کی داڑھ بھی گیلی کی جا سکے گی۔ کرد صاحب بڑے مہم جو ہیں‘ انہیں چاہئے کہ اعتزاز صاحب کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جائیں کہ وہ جلد از جلد دعوت کا اہتمام کریں وگرنہ وہ کالاکوٹ تحریک چلا دینگے۔
٭٭٭٭٭٭
امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے‘ پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت کی رائے میں تضاد ہے۔
ہیلری کو پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت کی رائے میں جو تضاد نظر آتا ہے‘ ہمیں ان کے اس بیان میں بڑا فساد نظر آتا ہے۔ ہیلری کے اس بیان کی تصدیق تو اوبامہ کی پریس کانفرنس میں بھی نظر آتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ دونوں پہلے آپس میں نوٹس کا تبادلہ کرلیا کرتے ہیں۔ امریکہ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت کی ہدایات پر ہی پاکستان کی فوجی قیادت عمل کرتی ہے کیونکہ یہی جمہوری و دستوری ترتیب ہے لیکن امریکہ کو ہمیشہ یہ شوق رہا ہے کہ وہ پاکستان میں فوجی آمریت کو برسر اقتدار دیکھے‘ اس کیلئے وہ گاہے بگاہے یہ شوشہ چھوڑتا ہے کہ پاکستان کی فوج نہایت اعلیٰ ہے جبکہ سویلین حکومت کوئی مقام نہیں رکھتی اور دونوں کے بیانات میں تضاد کا مطلب ہے کہ فوج سویلین حکومت کے تابع نہیں رہنا چاہتی حالانکہ اصل حالات اسکے برعکس ہیں۔
ہیلری ایک عرصے سے اس مشن پر کام کر رہی ہیں کہ کسی طرح پاکستانی فوج اور سویلین حکومت میں پھوٹ ڈلوائے تاکہ اس طرح پاکستان میں جمہوریت کا بیڑہ غرق ہو اور لوگ اپنے حکمرانوں پر فوجی قیادت کو ترجیح دیں۔ یہی بات اگر امریکہ کے بارے میں ہمارے وزیر خارجہ کہیں تو امریکہ کا ردعمل بہت شدید ہو گا۔ لگتا ہے اوباما نے ہیلری کے گورے پن کو خاصی چھوٹ دے رکھی ہے اسی لئے تو اوباما کا رنگ کسی قدر صاف ہوتا جا رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ گلاب کی جڑوں کی مٹی سے کسی نے پوچھا‘ تم میں اتنی خوشبو کہاں سے آئی‘ تو اس نے جواب دیا…؎
جمال ہم نشیں برمن اثر کرد
وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم
(ساتھی کی ہم نشینی نے مجھ پر اثر کیا ہے‘ وگرنہ میں تو فقط مٹی ہی ہوں)
٭٭٭٭٭٭
گزشتہ روز وزیراعظم گیلانی لاہور پہنچ گئے‘ گورنر اور وزیر اعلیٰ کے درمیان خوشگوار ماحول میں گفتگو ہوئی۔
جب دو سواریوں نے ایک ہی بس میں جانا ہو تو بس کے آنے تک دونوں میں بڑے خوشگوار ماحول میں گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ گورنر پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب دونوں ایک ہی ہستی کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ انہوں نے سوچا ہو گا کہ جب دونوں کا قبلہ ایک ہے تو پھر ہم عقیدہ بھائیوں کی طرح رہنے میں کیا حرج ہے۔ بہرصورت اب تو بڑا اچھا موسم ہے‘ گورنر ہائوس میں کوئی ایسی آواز وہاں سے نہیں اٹھتی جو سرتال میں نہ ہو بلکہ گورنر صاحب کی خوش گلوئی کا اثر وزیراعلیٰ پر بھی دکھائی دینے لگا ہے۔
گیلانی صاحب لاہور پہنچ گئے ہیں‘ وہ امریکہ کیخلاف اپنا ٹیمپو برقرار رکھیں‘ اس لئے کہ ان کا آج کے بیان سے قد اور بھی اونچا ہو گیا ہے۔ ان دنوں امریکہ کو اسہال کی بیماری لگی ہوئی ہے‘ گیلانی صاحب کو چاہئے کہ وہ اوباما کو پاکستانی مرحبا چھلکا کا تحفہ بھجوائیں تاکہ ان کے بیانات اور تقاریر میں تھوڑا توازن پیدا ہو۔
٭٭٭٭٭٭
چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے‘ حکمران امریکی ’’ڈومور‘‘ کو ’’نومور‘‘ میں تبدیل کردیں۔
چودھری صاحب نے اپنے عہد اقتدار میں ڈومور کو یس سر میں بدلے رکھا اور اب جب اقتدار کی ڈوری ہاتھ میں نہ رہی تو نومور کا مشورہ دے رہے ہیں۔ بہرحال ان کی نیک نیتی اب بھی اگر لوٹ آئی ہے تو اسے ویلکم کہتے ہیں۔ انہوں نے قوم پر بڑا احسان کیا ہے کہ امریکہ کیخلاف اٹھنے والی آواز میں اپنی لے شامل کرکے بہتر لے کاری کا ثبوت دیا ہے۔ اس وقت ملک جن حالات سے گزر رہا ہے‘ اس میں اس آمر کا حصہ اور چودھری صاحب کا قصہ بھی شامل ہے۔ امریکہ جس سنگھاسن پر چڑھ چکا ہے‘ وہ اسکے نیچے سے کھسکنے والا ہے۔ چودھری صاحب نے جس طرح ایک آمر کے احکامات کے مور اینڈ مور کا نعرہ بلند کئے رکھا‘ اب انکو واقعی زیب دیتا ہے کہ وہ حکمرانوں سے کہیں: ڈو مور کو نو مور میں تبدیل کر دیں۔