اتوار ‘ 20 ربیع الثانی 1434ھ ‘ 3 مارچ2013 ئ

اتوار ‘ 20 ربیع الثانی 1434ھ ‘ 3 مارچ2013 ئ


 کینیڈا: برف میں پھنسے ہرن کو ہیلی کاپٹر کی مدد سے نکال لیا گیا۔
 ہمارے ہاں تو کسی انسان کو ہرن جتنا بھی مقام نہیں دیا جاتا بلکہ قسمت کا مارا اگر کوئی انسان کسی مصیبت میں پھنس جائے تو سبھی تماشہ دیکھنا شروع ہوجاتے ہیں کچھ روز قبل کراچی ایک بلڈنگ میں آگ لگی نوجوان جان بچانے کیلئے کھڑکی میں لٹک گیا بروقت اقدامات کرکے اسے اتاراجاسکتا تھا یا پھر زمین پر کوئی نرم چیزیں رکھی جاسکتی تھیں تاکہ موت کے منہ میں جانے سے روکاجاسکے،ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی بچایا جاسکتا تھا لیکن سب خاموش تماشائی بنے رہے اور نوجوان موت کے منہ میں چلا گیا۔
یورپی ممالک میں تو بلیوں کتوں تک کے حقوق ہیں جبکہ ہمارے ہاں انسانوں کے بھی نہیں،کراچی فیکٹری میں انسان جل کر کوئلہ بن گئے لیکن بے حس انتظامیہ تماشہ دیکھتی رہی،اس طرح ہزاروں مثالیں ہیں۔من حیث القوم ہمیں احترام انسانیت کیلئے کچھ کام کرناچاہئے اگر اسی طرح لاشیں گرتی رہیں تو پھر دوست بھی مشکل وقت میں ہمارا ساتھ چھوڑ جائیں گے او ر کچھ نہیں تو کم از کم ہرن جتنی تو انسان کو عزت دے دیں تاکہ وہ جان کی امان پا سکے۔
٭....٭....٭....٭
 تین،چار سو خودکش حملہ آور تیار ہیں ،الیکشن خونیں ہونگے:شیخ رشید
 شیخ رشید خبر تو ایسے دے رہے ہیں جیسے خودکش حملہ آور انہوں نے خود تیار کیے ہیں ،پیر پگارا بھی خونیں انتخابات کی بات کر رہے ہیں،سیاستدان الیکشن سے قبل حالات کی خرابی کا واویلا کرکے عوام کو راہ فرار پر مجبور کر رہے ہیں،اس دفعہ سیاستدان الیکشن سے خود نہیں بھاگیں گے بلکہ عوام ووٹ ڈالنے سے نکلیں گے ہی نہیں ہر سیاستدان نجومی بن چکا ہے،جناب آجکل تو نجومیوں پر بھی پتلے دن آگئے ہیں۔
چور مچائے شور جیسی صورتحال ہے۔ لگتا ہے سیاسی جماعتوں کے لیڈران الیکشن سے خود راہ فرار اختیار کررہے ہیں،ملکی حالات پہلے ہی خراب ہیں درجن بھر کے قریب لاشوں کی سلامی سورج کو پیش کی جارہی ہے،سیاستدان خود کش بمباروں کی بات کرینگے تو عوام ووٹ ڈالنے گھروں سے نہیں نکلیں گے۔ ماشاءاللہ کچھ صحافی حضرات بھی سرشام شام غریباں پڑھنے بیٹھ جاتے ہیں، انکے نوحوں سے نوٹوں اور بوٹوں کی بُو آرہی ہوتی ہے،کوئی طاہر القادری کے دوبارہ دھرنے کی صدائیں لگا کر الیکشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش میں ہے،کوئی چشمہ لگا کر خون کی نہریں دیکھ رہا ہے۔
احسا ن دانش نے کہا تھا....
نئی سحر کے بہت لوگ منتظر ہیں مگر
نئی سحر بھی جو کجلا گئی تو کیا ہوگا
وہ داستان جو مصائب میں دفن ہے اب تک
زبان خلق پہ جب آگئی تو کیا ہوگا
 سیاستدان ہوش کے ناخن لیں، خونیں حالات کی تسبیح پڑھ پڑھ کر عوام کو مت ڈرائیں۔
٭....٭....٭....٭....٭
 رحمن ملک”کلر فُل منسٹر“ ملکی معاملات سے نمٹنے کا خاص تجربہ نہیں:برطانوی اخبار
 ان کا کام ” ٹائیوں“ کی نمائش کرنا ہے لگتا ہے انہوں نے کسی کمپنی سے انکی ٹائیوں کی مشہوری کا معاہدہ کر رکھا ہے جس کے باعث دن میں وہ پانچ ٹائیا ں بدلتے ہیں۔برطانیہ نے ہی کلر فل منسٹر کو ہمارے گلے ڈالا ہوا ہے۔
آجکل پاکستانیوں نے قیام امن کیلئے بھینس پر وزیر داخلہ لکھ کر اس کے سامنے بین بجا نا شروع کر رکھی ہے۔ٹارگٹ کلنگ روک نہیں سکتے لیکن لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے لُچ تلتے ہیں کہ ٹارگٹ کلنگ میں مرنے والے اپنی بیویوں سے ناراض ہوتے ہیں۔ ایک بادشاہ نے کمہار کو دیکھا کہ اس کے گدھے لائن میں جارہے ہیں،لہٰذا اس نے اس ڈسپلن سے متاثر ہوکر امن و امان کیلئے کمہار کی خدمات حاصل کرلیں لیکن بادشاہ کے ملک کا امن اسقدر بگڑا ہوا تھا کہ کمہار بھی چند دنوں تک عوام جیسا ہوگیا اور ملک جوں کا توں ہی رہا۔بادشاہ نے کمہار سے پوچھا کہ حالات ٹھیک کیوں نہیں ہورہے ۔کمہار نے کہا جناب وہ گدھے تھے، انہیں مار کر سیدھا کرلیتا تھا لیکن یہاں تو مجھے گدھا بنادیا گیا ہے۔وزیرداخلہ لندن میں ہی سیکورٹی کمپنی چلا سکتے ہیں،اس کا مطلب قطعا ً یہ نہیں تھا کہ وہ پاکستان میں امن قائم کرسکتے ہیں۔جناب گدھوں کو سیدھا رکھنا اور بات ہے اور انسانوں کے ساتھ چلنا اور مسئلہ ہے۔
٭....٭....٭....٭
 حافظ آباد: پیپلز پارٹی کے مستعفی ایم پی اے ملک فیاض اعوان کیخلاف کارکنوں کا لوٹے اٹھا کر مظاہرہ۔
 آجکل لوٹوں کی مانگ بڑھ چکی ہے،ہر پارٹی میں لوٹوں کی بھر مار ہے،5سال تک ایک آدمی اقتدار کے مزے لیتا ہے پھر اچانک گرگٹ کی طرح رنگ بدل کر کہیں اور چلا جائے اسے خود بھی شرم کرنی چاہئے،پانچ سال تک اسے اس جماعت میں کوئی خرابی نظر نہ آئی اب خزاں کے دنوں میں وہ بہار کا انتظارکیے بغیر ہی اڈاری مارگیا۔
 سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں کو بھی ذرا ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، وہ لوٹوں کو ایسے لے رہے ہیں جیسے منڈی میں خربوزے لیے جاتے ہیں۔حافظ آباد کے عوام نے اگر ملک فیاض کے گھر کے سامنے لوٹوں کا ڈھیر لگادیا تو پھر کیا ہوگا۔صاف ظاہر ہے الیکشن لڑنے ملک فیاض کو گھر سے باہر تو نکلنا پڑے گا۔اگر ان کی آمد پر کارکنان نے لوٹوں سے استقبال کیا تو پھر نیا چن ہی چڑھے گا،لہٰذا پارٹیاں بدلنے والے لوٹے خیال کریں کیونکہ انہیں کارکنان نے ہی ووٹ ڈالنے ہیںاس لئے لوٹا بننے سے بہتر ہے کہ سیاست ہی چھوڑ دیں۔