اتوار 6شوال المکرم ‘ 1435 ھ ‘ 3 ؍ اگست2014ء

اتوار 6شوال المکرم ‘ 1435 ھ ‘ 3 ؍ اگست2014ء

محترم مجید نظامی 1950ء سے 1955ء تک نوائے وقت کا معروف کالم ’’سرراہے‘‘ باقاعدگی سے لکھتے رہے جو ان کی حسِ مزاح اور فکاہیہ کالم میں پختگی کا بیّن ثبوت ہے۔ قارئیں کی دلچسپی کیلئے محترم مجید نظامی کے تحریر کردہ سرراہے کے منتخب ٹکڑے پیش کئے جا رہے ہیں۔ (ایڈیٹر)

کل سے کولمبو میں وزرائے خارجہ کی کانفرنس شروع ہے۔ اس میں برطانوی وفد کے قائد برطانوی وزیر خارجہ ارنسٹ بیون اور ہندوستانی وفد کے قائد ہندوستانی وزیر خارجہ پنڈت نہرو ہونگے۔ پاکستان کی قیادت پاکستان کے وزیر خزانہ آنریبل غلام محمد فرما رہے ہیں۔ انکے ساتھ وفد کے جو دوسرے ارکان گئے ہیں ان میں بھی مسٹر ممتاز حسین جائنٹ سیکرٹری فنانس، مسٹر مظفر ڈپٹی سیکرٹری فنانس اور ڈاکٹر نذیر احمد جائنٹ سیکرٹری اکنامک افیئرزشامل ہیں۔ پاکستان وفد کے ارکان کے اسمائے گرامی کی فہرست دیکھ کر یہ شبہ ہوتا ہے کہ کانفرنس وزرائے خارجہ کی نہیں وزرائے خزانہ کی ہے۔ ورنہ لیڈر نہ سہی ارکان ہی محکمہ خارجہ سے متعلق ہوتے!
اول تو ہماری سمجھ میں یہ بات ہی نہیں آتی کہ چودھری ظفراللہ اس کانفرنس میں شرکت کیلئے کولمبو کیوں نہیں پہنچ گئے اس میں زیادہ سے زیادہ دو دن صرف ہوتے۔ یو این میں ان دنوں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کو معلوم ہے کیا یہ بات ہے کہ حکومتِ پاکستان کی نظر میں کولمبو کانفرنس یو این کے اجلاس سے بھی گئی گزری اور فضول ہے؟ …آنریبل سردار بہادر خاں وزیر مواصلات ڈیڑھ سال نائب وزیر خارجہ رہے ہیں چودھری صاحب نہیں آ سکتے تھے تو انہیں ہی اس وفد میں شامل کر لیا جاتا، ان کے علاوہ موجودہ نائب وزیر خارجہ ڈاکٹر محمود حسین بھی ہیں انہیں کیوں نظر انداز کیا گیا؟ کیا وہ محض ’’درشنی پہلوان‘‘ ہیں؟
جن دنوں مسٹر فضل الرحمن انڈسٹری کے محکمہ کے وزیر تھے وہ اس مقصد سے یورپ کے دورہ پر تشریف لے گئے کہ دوسرے ملکوں کا صنعتی نظام دیکھیں گے اور اپنے علم و مشاہدہ سے پاکستان کو فائدہ پہنچائیں گے مگر جب وہ کئی ہفتے کے دورہ کے بعد ایک لاکھ کے لگ بھگ روپیہ خرچ کرنے کے بعد کراچی پہنچے تو ان کی بجائے چودھری نذیر احمد کو انڈسٹریز کے محکمہ کا وزیر مقرر کر دیا گیا۔ ممکن ہے ان کا ’’علم و مشاہدہ‘‘ ضرورت سے زیادہ بڑھ گیا ہو۔
ڈاکٹر محمود حسین غالباً ڈیڑھ سال تک نائب وزیر دفاع رہے جب انہیں اس محکمہ کا پتہ چل گیا تو انہیں اس سے ہٹا کر نائب وزیر خارجہ مقرر کر دیا گیا۔ ممکن ہے کہ اب انہیں کولمبو کانفرنس میں نہ لے جانے کی ایک وجہ یہی ہو کہ اب انہوں نے محکمہ خارجہ کا کام بھی سیکھ لیا ہو اور اب انہیں محکمہ خوراک میں نائب وزیر مقرر کرنا مقصود ہو!
( جمعرات 12 جنوری 1950)
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
طاہر القادری کے انقلاب لانگ مارچ کا اعلان آج ہو گا!
اس خبر میں کتنی صداقت ہے اس کا اندازہ بھی ایک دو روز میں ہو جائیگا ورنہ ابھی تک تو مولانا جب سے وطن واپس آئے ہیں انقلاب اور مارچ کی رفتار خاصی سُست ہو گئی ہے۔ مولانا اسی غصے میں ہر اجتماع کے بعد حتیٰ کہ نمازِ عید کے بعد بھی دعا میں ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر حکمرانوں کو ظالم، غاصب، فرعون و یزید کے القابات سے یاد کر کے جہنم کی بددعائیں دے رہے ہیں جس سے انکی ذہنی حالت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی ہم 65 برس سے ہر نماز کے بعد اسرائیل اور بھارت کیلئے بددعائیں کر رہے ہیں آج تک ان کا کیا بگڑا ہے۔
وزیراعظم میاں نواز شریف نے تو عمران خان کے لانگ مارچ سے نمٹنے کا کام اپنے بعض وزراء کو سونپا ہوا ہے جو محبت اور طاقت دونوں کی زبان میں عمرانی لانگ مارچ کو شارٹ مارچ میں بدلنے کیلئے کوشاں ہیں۔ انہیں اس وقت شاید مولانا کی آہیں اور بددعائیں سُننے کا وقت نہیں، بہتر ہے کہ وہ انکے نان سٹاپ ڈرانے اور دھمکانے والے انقلاب مارچ کے حوالے سے بھی ایک آدھ وزیر نہیں تو مشیر کی ہی ڈیوٹی لگا دیں جو کچھ عرصہ مولانا کو دامِ فریب میں الجھا کر انقلاب مارچ کو روکے رکھیں۔ ویسے خود مولانا بھی یہی چاہتے ہیں کیونکہ انہیں خود بھی اپنے انقلاب پروگرام کے انجام کا پتہ ہے اور جس طرح وہ ائر پورٹ پر گورنر کے آنے پر ہی پھسل گئے تھے اسی طرح کسی وزیر شذیر سے ملاقاتوں کے بہانے میں لانگ مارچ کی پٹڑی سے اُتر جائیں اور حکومت کو انکے بین اور کوسنوں سے نجات ملے۔ پیپلز پارٹی نے بھی تو اسلام آباد مارچ کا ’’کریا کرم‘‘ ایسے ہی درشنی وزیروں کے ذریعے کرایا تھا۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
چین سے خریدے گئے 20 نئے ریلوے انجن پاکستان پہنچ گئے۔ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق گزشتہ روز رم جھم ساون کی برسات میں بھیگتے ہوئے لاہور میں یوم آزادی کی تقریبات منانے کا افتتاح کر رہے تھے حالانکہ انہیں ان انجنوں کے استقبال کیلئے کراچی میں ہونا چاہئے تھا اور ٹھونک بجا کر وصولی کی رسید جاری کرتے۔ مگر لگتا ہے آجکل انکی توجہ وزراتِ ریلوے سے زیادہ وزارتِ داخلہ پر ہے اور اس لئے آئے روز 14 اگست کو اسلام آباد میں تحریک انصاف کے دھرنے کے حوالے سے ساون بھادوں کے بادلوں کی گھن گرج کی طرح کڑاکے دار بجلیاں گراتے، بیانات جاری کرتے رہتے ہیں۔ جس سے چاروں طرف موسلادھار جوابی بیانات کی بارش شروع ہو جاتی۔ ان اچانک حالات سے ہمارے کم گو خاموش طبع وزیر داخلہ چودھری نثار پر کیا گزرتی ہو گی اس کا شاید ان حملہ آور بیان بازوں کو اندازہ نہیں ہے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار جس آگ کو پانی ڈال کر بُجھانا چاہتے ہیں یہ پٹرول چھڑک کر اس کو تیز کر دیتے ہیں۔ اگر یہی حکومت کی پالیسی ہے تو پھر خواجہ صاحب کو وزرات داخلہ اور چودھری صاحب کو ریلوے کی وزارت سونپی جائے تو بہتر ہے۔ اس وقت پوری قوم کی نظریں 14 اگست پر جمی ہیں جو ہماری آزادی کا دن ہے، جس کی حرمت اور تقدس کا تقاضا ہے کہ ہم اسکو ایک زندہ قوم کی حیثیت سے شایان شان منائیں  کیونکہ …
ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں
ہم سب کی ہے پہچان پاکستان پاکستان
اور خواجہ صاحب جنگی نوعیت کے بیانات سے پرہیز کریں کہیں چودھری نثار پھر ناراض نہ ہو جائیں۔