جمعۃ المبارک‘ 13؍جمادی الثانی 1436ھ ‘ 3؍ اپریل 2015ء

 جمعۃ المبارک‘ 13؍جمادی الثانی 1436ھ ‘ 3؍ اپریل 2015ء

پٹرولیم کی قیمت میں اضافہ۔ برائلر، دالیں، سبزیاں مہنگی گڈز ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ گئے۔ 

جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں کمی ہوتی ہے اس وقت تو کہیں سے بھی کسی چیز کی قیمت میں کمی کا غلغلہ سنائی نہیں دیتا۔ اس وقت یہ ناجائز منافع کمانے والے عناصر چپ سادھ لیتے ہیں۔ مگر جیسے ہی چند روپے اضافہ کی اطلاع ملتی ہے۔ یہ سب مل کر گیڈروں کی طرح چلانے لگتے ہیں اور قیمتوں میں من مانا اضافہ کر لیتے ہیں۔ بہانہ یہ ہوتا ہے کہ تیل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھانا ناگزیر ہو گیا ہے۔
اب سارا نزلہ غریبوں کے کچن پر گرے گا۔ جہاں چار دن کی چاندنی کے بعد پھر اندھیری رات کا دور شروع ہونیوالا ہے۔ دالیں، سبزیاں ہر گھر کے کچن کی بنیادی ضروریات میں شامل ہیں کیونکہ اب عام پاکستانی کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اسکے گھر میں دال یا سبزی کا رونق میلہ لگا رہے جس میں کبھی کبھی برائلر بھی اپنے کرتب دکھانے چلا آتا ہے۔ گوشت کو تو بھولے ہوئے انہیں عرصہ ہو گیا۔ وہ یہ صرف عید قربان پر ہی غریبوں کے دستر خوان کو زینت بخشتا ہے۔ یا پھر غریب غربا اسے دکانوں پر لٹکتا دیکھ کر اپنا ایمان تازہ کرتے ہیں اور آئندہ عید قربان پر ذبح ہونیوالے گائے اور بکروں کا تصور جی میں لا کر خوش ہوتے ہیں۔اب ہمارے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ناجائز منافع کمانے والے مافیا کو چھٹی کا دودھ یاد دلائے اور انکے گرد شکنجہ کسے‘ اور اشیائے خورد و نوش کی سرکاری ریٹ پر فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اب ’’ایک پٹرول سب پہ بھاری‘‘ پڑنے لگے۔اور بجلی و گیس کی طرح پٹرول بھی عوام کو سڑکوں پر آنے کیلئے اکسانے لگے۔
٭…٭…٭…٭
بارات جتنے منٹ لیٹ اتنے سو روپے جرمانہ، بھارتی گائوں کے پنچائیت کا فیصلہ۔
یہ ہوئی نہ بات وقت کی قدر کرنیوالے لوگ ایسے ہی فیصلے کرتے ہیں ورنہ بھارت ہو یا پاکستان ہمارے ہاں شادی بیاہ کے علاوہ اب تو مرنے والے کے کفن دفن اور آخری رسومات کے موقع پر بھی گھنٹوں تاخیر کرنا فیشن بن چکا ہے۔ اگر ایسا ہی خوبصورت فیصلہ ہمارے ہاں بھی ہو جائے تو مزہ دوبالا ہو جائیگا۔یہ تو 10 بجے شادی ہال بند کرنے کے حکم کی مہربانی ہے کہ شادی کی تقریبات رات 10 بجے تک بادل نخواستہ ختم کرنا پڑتی ہیں۔ مگر جو لوگ گھروں میں یہ تقریبات منعقد کرتے ہیں یا نجی فارم ہائوسز میں وہاں تو وہی پہلے والے دن اور پہلی والی راتیں ہوتی ہیں۔ہر کام میں تاخیر کرنا عادت بد کی طرح ہمارے معاشرے میں رچ بس گیا ہے۔ کارڈ پر ہو یا زبانی یاددہانی مقررہ وقت کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ تقریب میں جانیوالے لوگ اس وقت تیار ہونا شروع کریں یا گھروں سے روانہ ہوں۔ باقی سب تو چھوڑیں۔ خود میزبان بھی اپنے دیئے وقت کی پابندی نہیں کرتے اکثر وقت کے پابند لوگ جب مقررہ وقت پر شادی ہال پہنچتے ہیں تو وہاں ہو کا عالم طاری ہوتا ہے اور مہمان کو شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے اب ہمارے ہاں بھی اگر مقررہ وقت سے تاخیر پر آنے والوں پر جرمانہ عائد کر دیا جائے تو بہت سے گم راہ‘ راہ راست پر آ سکتے ہیں۔
چودھری نثار کی نواز شریف سے ناراضگی کی افواہیں۔
یہ وزیر داخلہ اور وزیراعظم کی ناراضگی بھی ماں بیٹی کی ناراضگی محسوس ہونے لگی ہے۔ بچوں کی طرح بات بات پر ناراض ہونے کی عمر اب میاں صاحب کی ہے نہ چودھری صاحب کی۔ یہ دونوں ملک کے اہم ترین عہدوں پر فائز ہیں۔ ہاں اگر دل لگی مقصود ہے تو پھر یہ روٹھنا اور منانا تو یاروں دوستوں میں چلتا رہتا ہے۔ ایسی باتوں کے لئے ہی کسی نے کیا خوب کہا ہے…؎
یہ ادا یہ ناز یہ انداز آپ کا
دھیرے دھیرے پیار کا بہانہ بن گیا
یہ چھوٹی چھوٹی باتیں دل لبھانے والی ہوتی ہیں۔ مگر مخالفین اس پر بھی ایسی شُرلیاں چھوڑتے ہیں کہ عوام کو لگتا ہے۔ چودھری صاحب اس بار نہیں مانیں گے اور حاسدین و مخالفین حکومت کے جانے کیلئے الٹی گنتی گننا شروع ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ وہ کچھ نہیں ہوتا جو مخالفین نے سوچ رکھا ہوتا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ چودھری صاحب کو میاں صاحب سے شکایات ہیں یا میاں صاحب کو چودھری صاحب سے۔ وجہ جو بھی ہو اسے اچھے دوستوں کی طرح مل بیٹھ کر طے کرنا چاہیے۔ کیونکہ ’’تم روٹھو اور میں منائوں ایسی تو کوئی بات نہیں‘‘۔ سعودی عرب اور یمن کی طرح باہمی جنگ و جدال سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اس لئے اپنی پارٹی اور حکومت کو نقصان سے بچانے کیلئے نثار نواز بھائی بھائی کے نعرے کو فروغ دینا پڑے گا۔ ایک بار پھر امید ہے میاں شہباز شریف ریفری بن کر میدان میں کودینگے اور مقابلہ برابر قرار دے کر ختم کرائیں گے۔
٭…٭…٭…٭
کرپشن کے باعث معاشرے پر سستی طاری ہوئی ہے۔ صدر ممنون حسین۔ محترم صدر کے ان خیالات سے ہم اتفاق نہیں کرتے کیونکہ اس وقت معاشرے میں جاری تیز رفتاری، چستی اور چہل پہل اس کرپشن کی کرامت ہی تو ہے۔ اگر کرپشن سے سستی طاری ہوتی تو کرپٹ افراد کاہل ہوتے مگر جناب ایسا ہرگز نہیں بلکہ جو کام سست رفتاری اور کاہلی کی نذر ہو رہا ہے اس کام میں کرپشن کا پرزہ فٹ کر دیں پھر دیکھیں وہ کام کیسے پھرتی اور تیز رفتاری سے گھنٹوں نہیں منٹوں میں ہو جاتا ہے۔ یہ ساری پھرتی اسی کرپشن کے سبب اس تن مردہ میں نئی جان پھونکتی ہے اور کرپشن کی گنگا میں ڈبکی لگانے والے سست الوجود اور کاہل سے کاہل اشخاص جو سرکاری ہوں یا غیر سرکاری یکدم چاق و چوبند ہو جاتے ہیں۔ انکی پھرتیاں اور برق رفتاری قابل دید ہوتی ہے۔رہی بات معاشرے کی تو وہاں بھی جب یہ کرپشن کا مال گھروں میں آتا ہے بیوی بچے اور والدین کے جیب اور بٹوے نوٹوں سے بھر بھر جاتے ہیں تو ان کا بوجھ ہلکا کرنے کیلئے یہ سب بازاروں شاپنگ سنٹروں اور تفریحی مقامات کا رخ کرتے ہیں۔ ہوٹلوں اور ریستورانوں کا کاروبار انہی کے دم سے چلتا ہے۔اگر کرپشن کی گہما گہمی اور رونق نہیں ہوتی تو یہ ہمارا معاشرہ بے رنگ اور پھیکا ہی رہتا کیونکہ رزق حلال کھانے والے ان عیاشیوں اور ٹھاٹھ باٹھ کا تصور بھی نہیں کر سکتے وہ البتہ اپنی سعد عادات کی وجہ سے خود بھی کاہلی کا شکار نظر آتے ہیں اور معاشرے کو سست رفتار بنانے کے طعنے سہتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭