ہفتہ‘ 22 ؍ شوال‘1431 ھ 2 اکتوبر 2010ء

مٹی کا تیل 23پیسے مہنگا، پٹرول 27اور ڈیزل78 پیسے فی لٹر سستا ہوگیا۔
آخر شرم بھی کوئی چیز ہے اور سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم بخیلیِ ہے یہ رزاقی نہیں ہے حکومت نے چند پیسے پٹرول ڈیزل سستا کرکے حاتم طائی کی قبر پرلات نہیں ماری بلڈوزر چڑھا دی ہے اگر سستا ہی کرنا تھا تو کم از کم روپوں میں تو کرتے حکومت شہبازوں کو چڑیوں اور کیڑے مکوڑوں کی خوراک دے کر یہ سمجھتی ہے کہ اُس نے ارزانی کی برکھا کردی ہے،’’ تفو برتواے’’ حکومتِ دوراں‘‘ تفو‘‘ اس فارسی جملے کا ترجمہ قارئین یوں کرلیں کہ اے حکومتِ وقت تجھ پر تَف ہے، ایک طرف حکومت کے اخراجات میں اضافہ اورعوام کیلئے خالی لفافہ، کیا حیرت انگریز نوید سنائی گئی ہے عوام کو، خدا جانے آگے چل کر وہ اُنہیں مشرف والا مکا دکھائے جس کے لہرانے سے ملک کا کباڑا ہوگیا اور مکا نہ رہا امریکیوں کا باڑہ بن گیا۔اس وقت چینی120 روپے کلو بھی آسانی سے دستیاب نہیں اس لئے کہ تمام چینی کی ملیں حکمرانوں کی ہیں یا سیاستدانوں کی، اب ایسے میں غریب لوگوں کیلئے غالب کا یہ شعر ہی رہ گیا ہے جینے کو…؎
جب توقع ہی اُٹھ گئی غالب
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
مٹی کا تیل، پٹرول، ڈیزل اور گیس کی گرانی کا یہ عالم کہ حکومت کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے …؎
جس نے سب پر گرانی کی
اس کو یہ ظالم اُٹھا لایا
٭…٭…٭…٭
لاہور میں جسم فروشی انڈسٹری بن گئی، پولیس خاموش ہے جبکہ شہری سراپا احتجاج ہیں، یہ قبیح کاروبار کرنے والے لڑکیوں کی تصاویر وزٹنگ کارڈز کے ذریعے گیسٹ ہائوسز اور ہوٹلوں میں مارکیٹنگ کرتے ہیں۔ لاہور میں جو کبھی برجوں کا شہر تھا اب’’…‘‘ کا شہر بن گیا ہے۔ ذہین لوگ چاہیں تو خبر کی نوعیت جان کر خالی جگہ پُر کرلیں۔ سچ کہا تھا ساحرؔ نے …؎
جس کوکھ نے تم کو جنم دیا اُس کوکھ کا کاروبار کیا
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اُسے بازار دیا
اگر لاہور میں جسم فروشی انڈسٹری بھی وجود میں آچکی ہے تو پولیس کے تو وارے نیارے ہوگئے، اس لئے اُسے خاموش ہی رہناچاہئے تاکہ یہ کاروبار پولیس کے مفاد میں خوب چمکے جو لڑکیاں جسم فروشی کے کاروبار میں ملوث نہیں یا اُنہیں اس میں گھسیٹا جا رہا ہے ان کے بارے میں ہم شارع علیہ السلام کے اس قول کے سوا کیا کہہ سکتے ہیں ! ’’ کادالفقران یکون کفرا‘‘ (وہ دن دور نہیں جب محرومی و تنگدستی کفر کی سرحدوں میں جا ملے) یہ گناہ اُن دلالوں کا ہے جو بڑے بڑے ہوٹلوں، گیسٹ ہائوسوں اور محلات جا پہنچے ہیں لڑکیوں کے پتے تصاویر اور فراہمی کے سامان کا اہتمام کرتے ہیں ظاہر ہے رزق حلال تو کبھی اس کاروبار میں استعمال نہیں ہوسکتا، یہ رزق حرام کی جلوہ سامانیاں ہیں جو لاہور باغوں، بہاروں، عالموں، شاعروں اور فنکاروں کا شہر تھا اور ہر شہر کیلئے شہر نگاراں تھا مگر آج کرپشن کا پیسہ اتنا عام ہوچکا ہے کہ دلال صاحب صنعت بے روزگاروں نے جسم فروشی کو اپنا روزگار بنا لیا ہے ، وزیراعلیٰ پنجاب عصمت لاہور کو تحفظ فراہم کریں اور جسموں کو جسم رہنے دیں بکائو گوشت نہ بننے دیں۔
٭…٭…٭…٭
مشرف نے کہا ہے: آرمی چیف زرداری حکومت کا تختہ اُلٹ سکتے ہیں ،ایک شخص کو مشہور ہونے کا بڑا شوق تھا کافی سوچ بچار کے بعد اُس کے پلید ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ کسی مسجد میں بول و براز کیاجائے بہر حال لوگ آئے اور اُسے مارنے کیلئے بڑھے تو اُس نے کہا یہ میرے ہاتھ میں چھڑی ہے اگر کسی نے قریب آنے کی کوشش کی تو میں یہ چھڑی اس بول و بزار میں پھیر کر اس سے بھی بڑا گند کروں گا۔ مشرف جو دراصل پرویز ہیں، اس نے اپنی پرویزیت کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنی طرف سے یہ سمجھا ہے ، گویا جنرل کیانی اتنے بچے ہیں کہ وہ جوکہیں گے کیانی صاحب کر گذریں گے، جنرل کیانی خالصتاً ایک جنرل ہیں اور اُن کے بارے میں پرویز مشرف کا یہ کہنا کہ وہ حکومت کا تختہ الٹ دینگے اس کی سوائے اس کے اور کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ چونکہ اُن کے پاس کوئی تختہ نہیں اس لئے وہ جھوٹ کے سمندر میںٹامک ٹوٹیاں مار رہے ہیں، لوگوں میں تو وہ اتنے ’’ مقبول‘‘ ہیں کہ وہ اُن کی آمد کے منتظر ہیں، مگر وہ ہیں کہ آنا توکجا ٹیلی فونک خطاب بھی نہیں کرتے، اُن کے چند نام لیوا یہاں موجود ہیں اور اُن کے ساتھ نتھی رہنے کی سزا بھگت رہے ہیں بلکہ اندر ہی اندرکڑھ رہے ہیں…ع ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔ اس کے بعد مشرف صاحب کا ستارا ’’ شہرت‘‘ ہفت آسمان پر پہنچ جائے گا۔
٭…٭…٭…٭
کرکٹر آصف نے ثنا حلال سے شادی کرلی ہے، دعوت ولیمہ کل تھی جبکہ وینا ملک اس سے پہلے کہہ چکی ہیں کہ وہ اس شادی کو کامیاب نہیں ہونے دے گی کیونکہ آصف پہلے میرے ساتھ نکاح کرچکا ہے۔
گویا آصف کی یہ دوسری شادی ہے اور بقول وینا ملک یہ کامیاب نہیں ہوگی آصف نے بھی کیا قسمت پائی ہے اگر خدانخواستہ ثنا حلال کے ساتھ شادی حرام بھی ہوجاتی ہے تو وینا ملک سٹینڈ بائی ہے ہمارا یہ خیال ہے کہ وینا ملک کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اوراُس کے بعد ثناء حلال سے شادی ہوئی ہے، وینا اس ملک کی ایسی اداکارہ ہے جس کا جسم ہی نہیں زبان بھی خوبصورت ہے اس کی ادائیگی اور اداکاری واقعتاً فنکاری ہے ممکن ہے آصف کے پاس بھی بڑے دلائل ہوں مگر بقول وینا ایک نکاح کے بعد دوسرا نکاح کرنا اگرچہ ناجائز نہیں تاہم اس لحاظ سے ظلم ضرور ہے کہ آصف نے پہلے وینا کا دل چھینا پھر ثنا کو اپنے لئے حلال کرکے اس سے نکاح کرلیا ممکن ہے آصف نے وینا سے نکاح نہ کیا ہو مگر کوئی عورت کیوں نکاح سے انکارکرے گی یہ تو یوں ہے کہ آصف نے وینا ملک کی زمین پر محل تعمیر کرلیا ہے اگر وینا ملک اس شادی کو ناکام بناتی ہے تو شائقین سوچیں کہ وہ کیا حربہ استعمال کرسکتی ہے یہ جھگڑا یوں حل ہوسکتا ہے کہ آصف ثنا اور وینا دونوں کو اپنی دلہن تسلیم کرکے ایک ٹکٹ میں دو مزے لے سکتے ہیں۔ بشرطیکہ وینا اس کے منہ پر لات نہ ماردے۔