اتوار‘ 23 ؍ شوال‘1431 ھ 3؍ اکتوبر 2010ء

وفاقی وزیر قانون و انصاف ایک ایسی گاڑی استعمال کرتے ہوئے پائے گئے‘ جس کی نمبر پلیٹس ہی موجود نہیں‘ لاکھوں روپے مالیت کی بغیر نمبر پلیٹ لینڈ کروزر میں وہ پارلیمنٹ گئے۔
یہ تو مشرف فارمولا ہے کہ بڑے گناہوں کو چھوٹے گناہوں کے ذریعے چھپالو۔ نمبر پلیٹ کا نہ ہونا ایک وزیر قانون کے دامن پر دھبہ ضرور ہے مگر اس سے بھی بڑا داغ وہ بیش قیمت لینڈ کروزر ہے جس پر ایران کا صدر بیٹھ سکتا ہے‘ نہ بھارت کا وزیراعظم جو اپنی موروتی کو مورتی کی طرح لئے پھرتا ہے۔ ہمارے ہاں سیاست دانوں‘ حکمرانوں کی صلاحیت انکی گاڑی سے ماپی جاتی ہے اور عوام کا مزاج بھی لگ بھگ یہی ہو گیا ہے کہ وہ بڑی قیمتی گاڑی والے وزیر سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور بے چارے سڑک کنارے یہ کہتے رہ جاتے ہیں…؎
سانوں وی لے چل نال وے بائو سوہنی گڈی والیا
مگر حکومتی گاڑیاں کب قوم کو ساتھ لے کر چلتی ہیں‘ تو آج بابر اعوان کے پاس لینڈ کروزر کے بجائے سوزوکی کار ہوتی۔ جہاں تک سیکورٹی کا مسئلہ ہے‘ تو موت کی آندھی بڑھی منہ زور ہوتی ہے‘ اکثر بڑی گاڑیوں ہی سے ٹکراتی ہے‘ کل کسی نے کہا کہ ایرانی صدر اقوام متحدہ میں آٹھ روز کے دوران احمدی نژاد نے اقوام متحدہ میں آٹھ روز کے دوران ایک ہی سوٹ پہنے رکھا اور مزید یہ کہ وہ اپنے کھانے کا ٹفن گھر سے لے کر جاتے ہے‘ بہرحال وزیر قانون کے نمبر پلیٹ کا نہ ہونا اور باقی سب گناہوں کا ہونا زیادہ بڑا گناہ ہے۔
٭…٭…٭…٭
بی بی سی نے سوال کیا ہے‘ بابری مسجد کیس کا فیصلہ قانون‘ تاریخ یا عقیدے کی بنیاد پر ہوا؟
بابری مسجد کا فیصلہ ایک طے شدہ فیصلے پر ہوا‘ اس لئے بی بی سی کو اطمینان ہونا چاہیے کہ یہ فیصلہ قانون‘ تاریخ یا عقیدے کی بنیاد پر نہیں ہوا‘ یہی فیصلہ مقبوضہ کشمیر کے بارے میں ہندو نیتائوں نے اس وقت کیا‘ جب نہرو اقوام متحدہ میں قراردادوں پر دستخط کر آئے تھے کہ کشمیر کا فیصلہ رائے شماری کے تحت کیا جائیگا۔ مسلمانوں نے اپنے ہزار سالہ دور حکومت میں کبھی کسی مندر کو مسجد نہیں بنایا‘ پھر بابر کو کیا سوجھی تھی کہ وہ ایک فرضی اور من گھڑت رام کی جنم بھومی پر اتنی عالیشان مسجد تعمیر کرتے جو فن تعمیر کا نادر نمونہ ہے اور کیا وہ یہ چاہتے تھے کہ فرضی رام کی جنم بھومی پر مسلمان خدائے واحد کے سامنے سجدہ ریز ہوں؟ البتہ ہم یہ ضرور کہیں گے کہ بابری مسجد پر قبضہ کرکے اسے متنازعہ بنانے کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے اور اگر ہندو جو کچھ کر سکتے‘ وہ پچیس کروڑ مسلمان بھی کر سکتے ہیں‘ جو بھارت کے اندر ایک نیا پاکستان کھڑا کر سکتے ہیں۔ یہ نہ ہو کہ وبال ٹھاکرے جیسے انتہا پسندوں کو تاریخ دہرا کر ہی ٹھنڈ پڑے۔
پچیس کروڑ مسلمانوں کو برافروختہ کرنا بھارت کو دونیم کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے اس لئے بھارتی حکومت مسلمانوں کو ان کا مقدس ورثہ واپس کرے‘ وگرنہ بہت کچھ واپس کرنا پڑ جائیگا۔
وفاق کا خیبر پی کے اسمبلی کے 134 ارکان کو مفت پلاٹ دینے سے انکار‘ ارکان نے مطالبہ کیا تھا کہ صوبے میں انہیں خطرات ہیں‘ اسلام آباد میں مفت پلاٹ دیئے جائیں۔
اس کا ایک جھٹکا حل تو یہ ہے کہ خیبر پی کے اپنا نام اسلام آباد رکھ لے‘ وہ محفوظ بھی ہو جائینگے اور مفت پلاٹوں کا احسان بھی پٹھان ہونے کے ناطے نہیں اٹھانا پڑیگا۔ دراصل اس ملک میں حکمران‘ سیاست دان اور دیگر ارکان حکومت مفت خورے ہو گئے ہیں‘ مفت پلاٹ سے اچھا نہیں تھا کہ وہ چینی کا کوٹہ مانگ لیتے تو کم از کم مفت خورے کے بجائے شکر خورے تو کہلاتے۔ اگر فرض کیا 134 ارکان کو مفت پلاٹ دے دیئے جائیں تو خیبر پی کے کو بھی اسلام آباد شفٹ کر دیا جائے اور جب 134 پلاٹ اسلام آباد سے منفی ہونگے تو اسلام آباد کے مفت خوروں کیلئے کیا بچے گا۔ حیرانی تو اس امر پر ہے کہ اسمبلی خیبر پی کے میں ہو اور ارکان اسمبلی اسلام آباد میں یہ تو ڈر کے مارے گیدڑوں کا اسلام آباد کی طرف رخ کرنا ہے۔ ویسے خیبر پی کے ارکان نے جس بزدلی کا مظاہرہ کیا ہے‘ اسکے جواب میں اگر مفت پلاٹ مل بھی جائیں تو یہ بزدلی کا داغ کیسے مٹے گا‘ اس ملک میں ارباب حکومت و ارکان اسمبلی اور سیاست دان ووٹ لے کر نکلتے ہی مفت خوری کی تلاش میں ہیں۔ ویسے بیک وقت 134 ارکان اسمبلی کا اسمبلی سے اسلام آباد کی طرف دوڑ لگانا ہماری مفت خوری کی تاریخ کا نادر واقعہ ہے۔
٭…٭…٭…٭
وفاقی وزیر تعلیم سردار آصف احمد علی نے اپنی تعلیمی اسناد تصدیق کیلئے پنجاب یونیورسٹی کو بھیجنے سے انکار کردیا۔
کیا بہتر نہ تھا کہ وفاقی وزیر‘ وزارت سے بھی انکار کر دیتے کیونکہ تعلیمی اسناد تصدیق کیلئے بھیجنے سے انکار ایک طرح سے وزیر تعلیم ہونے سے انکار ہے۔ اگر وہ اقرار کرلیتے اور خوشی خوشی اپنی اسناد تصدیق کیلئے بھجوا دیتے تو لوگ انہیں واقعی وزیر تعلیم سمجھتے اور انکی وزارت مصدقہ ٹھہرتی۔ بہرحال سردار کسی بھی قسم کا ہو‘ سردار ہی ہوتا ہے‘ اس لئے سردار آصف احمد علی کو کیا ضرورت ہے کہ وہ اپنی سندات چیک کروائیں کیونکہ سردار تو اوپر سے تصدیق شدہ نازل ہوتے ہیں۔ اسکے بعد وہ فاضل ہوتے ہیں‘ تعلیم کا شعبہ اگر اوپر سے کوئی اچھی مثال قائم نہیں کریگا تو ملک میں موجود باقی فاضل وزیر بھی انکی سنت پر عمل کر سکتے ہیں اور سردار ہونے کا درجہ پا سکتے ہیں۔
ویسے اس بات سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وفاقی وزیر تعلیم بڑے پڑھے لکھے انسان ہیں‘ انکی اپنی وسیع لائبریری ہے‘ وہ کئی موضوعات پر وسیع علم رکھتے ہیں‘ اتنا علم حاصل کرنے کے باوجود وہ اپنے علم کی تصدیق سے کیوں خائف ہیں اس سے انکے ووٹروں اور عقیدت مندوں میں غیرمصدقہ افواہیں ضرور پھیل سکتی ہیں اس لئے سردارانہ نعرہ بلند کرتے ہوئے وہ اپنی اسناد تصدیق کیلئے پنجاب یونیورسٹی کو بھجوا دیں‘ اسی میں انکی سرداری پوشیدہ ہے۔