جمعة المبارک ‘ 16 ذی الحج 1433ھ 2 نومبر2012 ئ

جمعة المبارک ‘ 16 ذی الحج 1433ھ 2 نومبر2012 ئ


 یورا گوئے کے درویش صدر موجیکا کچے مکان میں رہتے اور آمدنی خیرات کردیتے ہیں، ان کا کوئی بنک اکاﺅنٹ نہیں انہوں نے پیغام دیا کہ مثالی لیڈر بننے کیلئے اچھے کام کا آغاز کریں،لوگ پیروی کرینگے۔ یورا گوئے کے صدر تو یوں لگتا ہے کہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہیں جن میں تمام صدور کیلئے درس عبرت و نصیحت موجود ہے،ہم تو اور کسی صدر کی بات نہیں کرسکتے کہ پرایوں کی کیا بات کرنی، ہمیں خود ایسے صدر عطا کئے گئے ہیں کہ ....ع
 لانا پڑا تمہیں کو تمہارے جواب میں
 یورا گوئے کے درویش صدر اور ہمارے دولت میں پیش پیش صدر کا بڑا جوڑ بنتا ہے کیونکہ ہمارے صدر گرامی قدر کے پاس اللہ کا بذریعہ قوم دیا اتنا کچھ ہے کہ اگر خیرات کردیں تو پورا ملک خوشحال ہوجائے، اکاﺅنٹ تو ہمارے صدر کا بھی ملک کے اندر موجود نہیں،ویسے کوئی پتہ نہیں کہ وہ آنے والے انتخابات سے پہلے ہی اپنی دولت قومی خزانے میں جمع کرادیں اور ایک مثالی لیڈر بن کر جیت جائیں اور دولت دوبارہ نکال لیں، یہ ایک نیک ترکیب ہے جو کہ قابلِ عمل بھی ہے،صدر صاحب اس پر غور کرسکتے ہیں ،کچے مکان کا مشورہ ہم اس لئے نہیں دیتے کہ پھر وہ کہیں گے....
دیوار کیا گری مرے کچے مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنالئے
 وہ کہیں یورا گوئے کے وہ درویش صدر تو نہ تھے جن کے پاس سے ایک اور ملک کا بادشاہ گزرا اور کہا کبھی ہمیں بھی یادکیا؟ اور درویش صدر نے کہا ہاں اُس وقت یاد کیا جب میں خدا کو بھول گیا تھا۔
٭....٭....٭....٭....٭
عمران نے امریکہ سے وطن واپسی پر کہا:ائر پورٹ پر روکنا میری نہیں ملک کی توہین ہے۔
خان صاحب نے بالکل ٹھیک کہا لیکن شاید مکمل جملہ یہ ہوگا کہ ائر پورٹ پر روکنامیری ہی نہیں پورے ملک کی توہین ہے۔ پچھلے دنوں ایک بھارتی وزیر کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا تھا اور امریکہ کو معافی مانگنا پڑی تھی اور شنید ہے کہ ایک ملک نے تو اس طرح کے سلوک پر امریکی پروازیں بند کردی تھیں اور امریکہ کی نانی گٹے آگئی تھی، عمران خان نہ صرف ایک قومی ہیرو بلکہ ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ ہیں ،ٹورنٹو میں اُن کے ساتھ دو گھنٹے مسلسل بد سلوکی پر ہماری وزارت خارجہ نے خارجیوں کا کردار کیوں ادا کیا،کیا غلامی کی اس سے نچلی ڈگری بھی کوئی ہوتی ہے کہ ” ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم“ کی کیفیت کپکپی سمیت طاری ہوگئی،بلاشبہ ایک پاکستانی کی بے عزتی پورے پاکستان کی توہین ہے اور یہ تو پھر ہمارے سورما عمران خان ہیں جو لاکھوں پاکستانیوں کی جان ہیں ،کیا کبھی ہمارے کسی ائر پورٹ پر کسی عام امریکی شہری کے ساتھ بھی ایسا برتاﺅ کیا گیا؟ امریکہ کے ارباب بست و کشاد کو اس بد اخلاقی پر پاکستان سے معافی مانگنی چاہئے اور آئندہ کیلئے توبة النصوح کرلینی چاہئے، وگرنہ جواب آں غزل بھی پیش کیاجاسکتا ہے، پر کتھوں؟
ہماری پوزیشن امریکہ کی نظر میں ایسے ہی ہے جیسے اس شعر میں ستم ظریفی کا سماں باندھا گیا ہے....
میں نے کہا کہ بزم نازچاہئے غیر سے تہی
سن کر ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یُوں
٭....٭....٭....٭....٭
±ؑملتان میں ایک نوجوان کی آنکھوں سے آنسوﺅں کی جگہ موتی گرتے ہیں۔ ہمارے ہاں بات کا بتنگڑ اور افواہ سازی عروج پر رہتی ہے،بس ایک جملے کا افسانہ چاہئے ناول بنانے والے بہتیرے، اگر کوئی تحقیق کرناچاہے تو اُسے معلوم ہوگا کہ ایک دماغی مرض ہے جس میں ٹیومر ظاہر ہوتا ہے اور کچھ عرصہ بعد اُس کے اندر موجود مواد میں ایسا کیمیکل ری ایکشن ہوتا ہے کہ آنکھوں سے آنسوﺅ ں کی جگہ گول گول چمکیلے چاندی جیسے بالز گرتے ہیں تاہم یہ ایک تعجب خیز بیماری ہے اور اس کا ضرور یہاں یا بیرون ملک علاج بھی ہوگا بجائے اسکے کہ اسے کہانی کا رنگ دیکر طرح طرح کی دور ازکار تاویلات کی جائیں، حکومت اس مریض کا علاج کرائے ورنہ اگلے روز یہ خبر آئے گی کہ ملتان میں گیلانی صاحب کی مرغی پھر سے سونے کے انڈے دینے لگی ہے اور ایک کٹا پیدا ہوا ہے وطن عزیز میں جو سہگل کی آواز میں گاتا ہے....
پریتم آن ملو!
 یہ پاکستان اور بھارت جب نہیں بنے تھے تو پرانے مو¿رخین ہندوستان کو عجائب و غرائب کی سرزمین کہتے تھے وہ زندہ ہوتے تو اب بھی یہی ریمارکس دیتے،بہر حال پاکستان کی اب ایک الگ شناخت ہے اور اس کے چپے چپے سے اللہ ہُو کی صدا آتی ہے جیسے سلطان باہوؒ نے فرمایا تھا....
 الف اللہ چنبے دی بوٹی میرے من وچ مرشد لائی ہو
اندر بوٹی مشک مچایا جان پھلن پر آئی ہو
٭....٭....٭....٭....٭
 اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے اسرائیل کے ایران پر حملے سے عرب دنیا خوش ہوگی، میرا یقین ہے کہ حملے کے صرف 5منٹ بعد پورے خطے میں سکون کی لہر دوڑ جائیگی۔ بڑی مہربانی ہے نیتن یاہو کی کہ پہلے ہی بتادیا اور دنیا پر ظاہر کردیا کہ ایران پر جب بھی حملہ ہوگا وہ اسرائیل کی جانب سے ہوگا اور یہ بھی انکشاف کردیا کہ حملے کے صرف 5منٹ بعد پورے خطے میں سکون کی لہر دوڑ جائیگی،اب مسلم اُمہ اور پوری انسانی دنیا دیکھ لے اور سُن لے کہ اسرائیل شر کا فتیلہ ہے جسے جب بھی آگ لگانے کی غلطی کی جائیگی ،اس کا شر چار دانگِ عالم پھیل جائیگا۔ یہودی جو سازشیں صدیوں پہلے کرچکا ہے انہیں پھر سے دہرا رہا ہے حالانکہ یہ اب ازکار رفتہ ہیں، عرب و عجم کی آویزش پیدا کرنے کا کام اُس نے صدیوں سے جاری رکھا مگر وہ نہ ہوسکا جس سے اُسکے دل کی کلی کھل اُٹھتی ، ایران کے حق میں بھی یہ در فنطنی دوستانہ ہے کہ وہ پہلے سے غزہ کی پٹی پرسکون کی لہر دوڑانے کا بندوبست کرلے گا، اگر یہودی یہ سمجھتا ہے کہ عربوں میں ایران کی تباہی سے خوشی کی لہر دوڑے گی تو یہ ایک بھائی کی موت پر دوسرے بھائی کے ہنسنے جیسی بات ہے، جسے مالیخولیا کہاجاسکتا ہے۔یہودیوں کو چاہے اسرائیل نام کے چھوٹے سے ڈبے میں بند کررکھا ہے لیکن یہ اسرائیل کی ایران دشمنی دراصل اسلام دشمنی ہے اور 58ملکوں میں اسلام کا پرچم ہی لہراتا ہے اور یہ سب عرب و عجم کی تفریق سے آزاد ہیں۔
٭....٭....٭....٭....٭