منگل ‘ 14؍ شعبان المعظم 1436ھ ‘ 2؍ جون 2015ء

 منگل ‘ 14؍ شعبان المعظم 1436ھ ‘ 2؍ جون 2015ء

یورپی یونین کی طرح مسلم ممالک کی یونین بنائی جائے: حافظ سعید

کیا خوب بات کہی ہے حافظ سعید صاحب نے بقول شاعر …؎
اس سادگی پہ کون مر نہ جائے اے اسد
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
ہم سے اس سے پہلے بنائی گئی مسلم امہ کی سب سے بڑی تنظیم او آئی سی سنبھالی نہیں جاتی تو یہ دوسرا بکھیڑا کون مول لے۔ 58سے زیادہ اسلامی ممالک کی یہ مردہ تن بے جان تنظیم جس کا کروڑوں کا سالانہ فنڈ ہے بڑے بڑے عالیشان دفاتر ہیں سوائے مذمتی بیان جاری کرنے کے آج تک کوئی کام نہیں کر سکی۔ یہی حال مرحومہ عرب لیگ کا ہے۔ اس وقت عالم اسلام جن مسائل کا شکار ہے امت مسلمہ داخلی اور خارجی انتشار میں مبتلا ہے۔ اس کا ابھی تک کوئی حل نکالا ہے۔ اس ’’او آئی سی کتھے گئی سی‘‘ جیسی تنظیم نے؟ ایران، عراق، شام، لیبیا، سعودی عرب، یمن اور ایران میں روزانہ سینکڑوں مسلمان کٹ رہے مر رہے ہیں اور یہ تنظیم پس مرگ واویلا کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتی۔ حتیٰ کہ بودھوں کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانیوالے انسانیت سوز مظالم پر بھی اسکے لب وا نہیں ہوئے۔
ایسے حالات میں جب خود مسلم ممالک ایک دوسرے کے درپے ہیں بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہو تو کسی کو کیا پڑی ہے یورپی یونین کی طرح فعال اور مضبوط تنظیم بنانے کا سوچے۔ یورپی یونین ایک برادری کی طرح رہتی اور کام کرتی ہے۔ تنظیم کے ہر فیصلے پر ہر ملک عمل کرتا ہے جس نے اپنی یورو کرنسی بھی رائج کرلی ہے۔ یہاں ہم نے اگر بنا بھی لی تو کیا گارنٹی ہے کہ کوئی ملک اس کے فیصلوں پر عمل کرے گا۔ او آئی سی کی مثال سامنے ہے اس کی اپیلوں تک کو ہم خودی ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے سوا اور کچھ نہیں کرتے تو فیصلوں پر عمل کرنا جان جوکھم کا کام ہے وہ کون کریگا اور سب سے بڑھ کر اس بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔ اور پھربے چاری او آئی سی کا کیا بنے گا۔
٭…٭…٭…٭
5ریلوے انجن بنانے کا پائلٹ پراجیکٹ 8 سال بعد بھی نامکمل
رسالپور فیکٹری میں سالانہ 5ریلوے انجن بنانے کا یہ منصوبہ یقیناً شیخ چلی ٹائپ کے کسی دماغ نے بنایا ہو گا کیونکہ جب فیکٹری میں اعلیٰ افسران اور کارکن کسی کام کے بغیر ہی ماہانہ تنخواہیں وصول کر رہے ہیں تو انہیں کیا پڑی ہے کہ وہ کام میں جت جائیں اور آرام کو چھوڑ کر محنت کریں۔ 8 سال قبل اس منصوبے کی مد میں کروڑوں روپے بھی جاری ہوئے مگر کام ایک پیسے کا نہ ہو سکا۔ 3ایم ڈی لوکو ورکس بدل گئے مگر منصوبے کی تقدیر نہیں بدلی اور یہ منصوبہ
آ دیکھ موہنجو دڈارو میں یہ بگڑی ہوئی تصویر میری
اس آس پہ اب تک زندہ ہوں بدلے گی کبھی تقدیر میری
کی تصویر بنا ہوا ہے۔
ایک طرف ہم ریلوے کے مردے کو دوبارہ زندہ کرنے کے دعوے کرتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ریلوے کو انجنوں اور بوگیوں کی قلت کا سامنا ہے مگر صرف ظاہری ٹیپ ٹاپ دکھا کر سرخی پوڈر کی لیپا پوتی کرکے ہم اس مردے کے چہرے پر زندگی کے آثار تو پیدا کر دیتے ہیں مگر اصل مسئلے پر توجہ نہیں دیتے۔ بیمار کا مکمل علاج نہیں کر رہے۔ اگر ریلوے کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے تو پھر ہمیں انجن بھی خود بنانے ہوں گے اور بوگیاں بھی۔ ان 8 برسوں میں 40 انجن اگر تیار ہو کر لائنوں پر دوڑ رہے ہوتے تو بوڑھے انجنوں کے ہاتھوں ٹک ٹک چلنے والی ٹرینیں بھی تیز رفتاری کے ساتھ سفر کرتی نظر آتیں مگر افسوس ایسا نہیں ہو سکا اور ہم آئے روز بوڑھے انجنوں کی کسی ویران مقام پر دم توڑنے اور مسافروں کے گرمی میں خوار ہونے کی خبریں پڑھتے رہتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
مغربی بنگال میں علامہ اقبال کو بعد از مرگ ’’ترانہ ہند‘‘ کے اعزاز سے نوازا گیا۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینر جی کے دل میں اردو کیلئے جو ممتا بھرا پیار موجود ہے اس سے اہلِ علم اور اردو زبان کے شیدائی پہلے سے واقف ہیں۔ مغربی بنگال میں اردو زبان و ادب کی آبیاری میں وہاں کے اردو دان طبقے کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ جو اس گئے گزرے دور میں جب پورے ہندوستان میں اردو کو مشرف بہ ہندی کیا جا رہا ہے۔ اچھی بھلی گنگا جمنی تہذیب کی وارث بولی میں زبردستی ہندی الفاظ داخل کرکے اسکی شکل بگاڑ رہے ہیں۔ اسکی مقبولیت میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں اگر مغربی بنگال کی حکومت نے …؎
سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستان ہمارا
جیسا ’’ترانہ ہندی‘‘ لکھنے والے اردو زبان کے عظیم شاعر کو اعزاز سے نوازا تو درحقیقت یہ اس اعزاز کیلئے اعزاز ہے کہ اسے اقبال جیسے عظیم شاعر اور فلسفی سے منسوب کیا گیا۔ اقبال کی یہ نظم آج تک بھارت کی تمام سیکولر ہو یا انتہا پسند حکومتیں سنا سنا کر دنیا بھر میں اپنا امیج بہتر بناتی ہیں۔ بہرحال ٹیگور جیسے ’’مہان کوی‘‘ کے دیس میں جہاں علم و ادب کا چلن عام ہے ایک عظیم اردو شاعر کی خدمت میں خراج عقیدت بہت بڑا اعزاز ہے۔ اب ڈر ہے کہ کہیں بی جے پی والے اردو دشمن ممتا بینر جی کی وزارت عالیہ کے پیچھے نہ پڑ جائیں اور ہندوستان ایک اعلیٰ دماغ اور سیکولر ذہن رکھنے والی وزیر اعلیٰ سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ رہی اردو کی بات تو اس کی تدوین اور ترقی میں صوفی، درویش اور اہل علم کا بڑا ہاتھ ہے۔ اسے ختم کرنے کا خواب دیکھنا بہت بڑی بھول ہے۔ داغ نے کیا خوب کہا تھا…؎
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے