پیر ‘ 3؍ شعبان 1435ھ ‘ 2 جون 2014ء

پیر  ‘  3؍ شعبان   1435ھ ‘  2 جون 2014ء

لاہور میں بیروزگار شخص کھمبے پر چڑھ گیا۔ شاید اس نوجوان نے ’’چڑھ جا بیٹا سولی پہ رام بھلی کرے گا‘‘ والا محاورہ سن رکھا ہو گا۔ تبھی تو کسی بھلے مانس کی توجہ حاصل کرنے کے لئے اس نے یہ حربہ استعمال کیا۔ اب وہ اور اس کے گھر والے واپڈا کو دعائیں دیں کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کی برکت سے اس احمق شخص کی جان بچ گئی۔ ورنہ جس طرح وہ اوپر چڑھا تھا اگر بجلی آ رہی ہوتی تو وہ بنا کسی زحمت کے ’’اوپر ہی چلا جاتا‘‘ اور پھر گھر والے ہاتھ ملتے اور روتے دھوتے اسے اٹھانے کے لئے آتے اور حکمرانوں میں سے ذرانرم طبع لوگ اس کے گھر تعزیت کے لئے آتے اور یوں پس مرگ اس کے اہل خانہ کو چند لاکھ روپے امداد کے نام پر غم تقسیم کرنے کے بہانے مل جاتے۔ اور جو بے چارہ خود چند روپوں کی خاطر اپنی جان گنوا بیٹھا اس کی روح عالم بالا میں…؎
مر جائے جو انسان تو بڑھ جاتی ہے قیمت
زندہ ہو تو جینے کی سزا دیتی ہے دنیا
والا شعر دہرا کر اپنا غم ہلکا کرنے کرنے کی کوشش کرتا۔ ویسے بھی اب یہ توجہ حاصل کرنے کا انداز خاصا مقبول ہو چکا ہے۔ جس کا کوئی مسئلہ ہوتا ہے وہ اسے مشتہر کرنے کیلئے کھمبے پر چڑھ جاتا ہے۔ یہ تو شکر ہے کہ لوگ لوڈشیڈنگ کے نظام الااوقات سے آگاہ ہو چکے ہیں اور بچے بچے کو ازبر ہے کہ ہر گھنٹے کے بعد بجلی جاتی ہے۔ یوں ہر گھر میں اس کے مطابق ٹائم ٹیبل بنتا ہے اور کام کاج نمٹائے جاتے ہیں۔ سو اسی طرح یہ عقل مند خودکشی کے شوقین بھی بجلی بند ہونے کے وقت ہی کھمبے پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ بجلی آ رہی ہو توکوئی بھی اس شریف چپ چاپ کھڑے کھمبے سے پنگا لینے کا سوچتا بھی نہیں کیونکہ اس میں جان کا خطرہ ہوتا ہے۔
٭…٭…٭…٭…٭
نواز شریف جی ٹی روڈ کی سیاست چھوڑ دیں، سندھ سے زیادتی برداشت نہیں کریں گے،شرجیل میمن۔ بالکل درست فرمایا سندھ کے وزیر اطلاعات نے سو فیصد درست کہا۔ بھلا ان کے ہوتے ہوئے کس میں اتنی جرات کہ سندھ سے زیادتی کرے۔ خیر سے یہ کام خود پیپلز پارٹی کی حکومت نہایت احسن طریقہ سے انجام دے رہی ہے۔ تو کسی کو کیا پڑی ہے کہ اس میں مداخلت کرے۔ جو سراسر زیادتی ہوگی۔ اس وقت سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے باعث امن چین خوشحالی کا دور دورہ ہے اور اس نیک کام میں اس کو اپنے قریبی اتحادی یعنی ایم کیو ایم کا بھرپور اور نیک تعاون بھی حاصل ہے تو نواز شریف یا مسلم لیگ ن والے کون ہوتے ہیں۔ اس پرامن صوبے کے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ ڈالیں۔ کراچی سے لے کر جیکب آباد تک ،تھر سے لے کر لاڑکانہ تک ،شاہ لطیف بھٹائیؒ، سچل سرمستؒ اور لعل شہباز قلندرؒ کی دھرتی سے بیروزگاری، بھوک، افلاس، بیماری اور جہالت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ سکول اور کالج آباد ہیں۔ کھیت کھلیان سونا اگل رہے ہیں۔ ہر بچہ صحت مند اور بیماریوں سے محفوظ ہے۔ ان حالات میں سندھ کے حکمرانوں کا حق ہے کہ وہ اس کی طرف میلی نظر ڈالنے والوں کے آنکھ نوچ لیں۔ مگر کیا کریں ان آنکھوں کا جو کچھ دیکھتی ہیں وہ سچ بیان کرتی ہیں۔ بقول شاعر…؎
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
جی ٹی روڈ کی سیاست کرنے والوں نے حقیقت میں جی ٹی روڈ کو قسمت کی ریکھا میں بدلنے کی 100 فیصد نہیں تو 50 فیصد ضرور کوشش کی ہے۔ یہاں اگرچہ سندھ جیسی خوشحالی امن اور ترقی تو نہیں آ سکی مگر تھوڑی بہت تبدیلی ضرور آئی ہے۔ شاید اسی لئے ابرارالحق نے بھی کہا تھا…؎
جی ٹی روڈ تے بریکاں لگیاں
نی بلو تیری ٹور ویکھ کے
شرجیل میمن کو اگر کبھی موقع ملے تو وہ بھی سندھ میں ایک پنجاب جیسی جی ٹی روڈ بنوا دیں جس کے کنارے لہلہلاتی فصلوں، کارخانوں، تجارتی مراکز اور غلہ منڈیوں کی ریل پیل ہو تو شاید وہ سڑک بھی وہاں کے لوگوں کی قسمت کی ریکھا بن جائے۔
٭…٭…٭…٭…٭
سگریٹ نوشی کے خلاف دن زوروشور سے منایا گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ افراد سگریٹ نوشی کے باعث جہان فانی سے گزر کر عالم جاودانی میں پہنچ جاتے ہیں۔ یوں آبادی کنٹرول میں رہتی ہے۔ یوں سگریٹ نوشی اور موت کے فرشتے کی بروقت کارروائی کی بدولت ہمارے ملک میں آبادی کا تناسب زیادہ بگڑنے نہیں پاتا۔ ویسے بھی ہمارا ملک خوش قسمت ہے کہ یہاں جس تیزی سے افرائش نسل ہوتی ہے اسی رفتار سے زیر زمین آبادیاں بسانے والوں کی تعداد میں بھی برابر نہ سہی معقول حد تک اضافہ جاری رہتا ہے۔ قدرتی آفات، بیماریاں، زچہ وبچہ کی اموات، سگریٹ نوشی، ناقص غذا، آلودہ پانی یہ سب مل کر خاندانی منصوبہ بندی والوں کے کام کو آسان بنانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں اور ہماری بڑھتی ہوئی آبادی میں تھوڑی بہت کمی ہوتی رہتی ورنہ جس تیز رفتاری سے ہماری آبادی بڑھ رہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کے عوام کا پسندیدہ کام صرف اور صرف خاندانی منصوبہ بندی کے دعوے اور پروگرام ناکام بنانا ہی رہ گیا ہے۔ اب کوئی لاکھ سر پیٹے ،حقائق سے آگاہ کرے۔ ہمارے ہاں چھوٹے خاندان کی افادیت کوئی نہیں سمجھتا سب بڑے خاندان اور وہ بھی صرف لڑکوں پر مشتمل گھرانے کو خاندان کی شان سمجھتے ہیں اور بیٹوں کے لائو لشکر کو پسند کیا جاتا ہے۔ چاہے وہ سب مدفوق، مریل، بیمار ہی کیوں نہ ہوں اور بعد میں نہ انہیں اچھی تعلیم ملتی ہونہ خوراک ۔اس کی کسی کو پرواہ نہیں۔ اس لئے ہمارے معاشرے میں جہالت، بیروزگاری اور جرائم کا دور دورہ ہے۔ اب سنا ہے حکومت سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے تو دعا ہے کہ اس اقدام کے بدولت ہی اس خوفناک انسان دشمن شوق میں مبتلا افراد کی تعداد میں کمی آئے کیونکہ اس کے دھوئیں کی نازک سی لکیر کے اس پار موت کی وادی ہے۔ جہاں زندگی بھینٹ چڑھتی ہے۔