جمعۃ المبارک‘ 10 ؍ربیع الاوّل 1436ھ‘ 2؍ جنوری 2015ء

جمعۃ المبارک‘ 10 ؍ربیع الاوّل 1436ھ‘ 2؍ جنوری 2015ء

بی بی سی پر موسم کا حال بتانے والی ریحام خان کیا مسز عمران بن چکی ہیں: برطانوی اخبار!
اس کا صحیح جوا ب تو عمران خان ہی دے سکتے ہیں جن پر ایک دو ماہ قبل شادی کا بھوت سوار تھا۔ مگر میرا جیسی دیگر پاکستانی خواتین کو دیکھ کر انہوں نے ارادہ ملتوی کر دیا تھا۔ اس وقت سے آج تک کہیں نہ کہیں عمران کی شادی کے حوالے سے کوئی نہ کوئی بات ضرور چلتی ہے۔ اب تو برطانوی اخبارات نے بھی بی بی سی پر موسم کا حال بتانے والی 2 بچوں کی ماں ریحام خان کے ساتھ عمران کی دوسری شادی کی بات چھیڑ دی ہے تو بقول شاعر …؎
دل کے افسانے نگاہوں کی زبان تک پہنچے
بات چل نکل ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے
فی الحال تو تصدیق و تردید سے ہٹ کر یہ نئی کہانی کافی دنوں تک مزیدار مرچ مصالحے لگا کر عوام کے درمیان چلے گی۔ اب میرا اور دیگر خواتین کا کیا ہو گا جو عمران سے شادی کے خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھی تھیں اب تو انہیں تعبیر میں مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا  کہ…؎
میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی
مجھ کو راتوں کی سیاہی کے سوا کچھ نہ ملا
باقی رہی بات مخالفین کی تو فی الحال مفاہمت کے نام پر کچھ دن ان کی زبانیں بند رہیں گی البتہ شیخ رشید کے بارے میں پتہ نہیں وہ کیا کہتے ہیں کیونکہ وہ تو عمران کی شادی میں ’’شہ بالا‘‘ بننے کا سوچ رہے تھے اب تو انکے بھی ’’دل کے ارماں آنسوئوں میں بہہ گئے‘‘ ہوں گے اور وہ ’’کلی میں کلی کوئی دیوے تسلی‘‘ والا گیت الاپ رہے ہوں گے۔
٭…٭…٭…٭
محبوبہ مفتی نے مقبوضہ کشمیر میں حکومت سازی کے لئے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا عندیہ دے دیا!
لگتا ہے لیلائے وزارت نے اپنی محبوبہ کو بھی ہوش و خرد سے بیگانہ کر دیا ہے۔ کل تک بی جے پی کو کشمیریوں کا دشمن نمبر ون ثابت کرنے والی ان کی جماعت پی ڈی پی اپنے آپ کو کشمیر اور کشمیریوں کے محافظ اور انکے غمگسار کے طور پر پیش کر رہی تھی اور آج نام نہاد اسمبلی میں حکومت سازی کے لئے وہ بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے در پر سجدہ ریز ہو رہی ہے۔ یہی کام گزشتہ 67 برسوں سے شیخ عبداللہ کا خاندان بھی کرتا آیا ہے اور اب مفتی خاندان بھی کرنے کو تیار ہے۔ سچ کہتے ہیں کہ…؎
شیخ برہمن ملا پانڈے
سب ہیں اک مٹی کے بھانڈے
یہ حقیقت اور کھل کر سامنے آئی ہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت کے چھتر چھایا تلے پناہ لے کر کشمیریوں کی اُمنگوں کو کچلنے والی ہر سیاسی جماعت دراصل کشمیر کی دشمن ہے ان کی شکلیں علیحدہ علیحدہ مگر مشن ایک ہی ہے۔ یہ کرسی کے پُجاری محبوب ہوں یا محبوبہ سب دہلی دربار کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ بی جے پی کی انتہا پسندانہ اور مسلم دشمن سوچ اور سیاست سے کون واقف نہیں اگر نہیں ہے تو صرف محبوبہ مفتی ہی واقف نہیں ہیں۔ شاید اسی لئے وہ کشمیر کی مسلم اکثریتی ریاست میں ہندو ازم کے نام پر سیاست کرنے والے بھیڑیے کو داخل کر رہی ہیں تاکہ وزارت اعلیٰ کا تاج ان کے والد یا ان کے سر سجے۔
کشمیری تو کئی روز سے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں اب دیکھنا ہے اس کٹھ پُتلی وزارت کے لئے محبوبہ کشمیریوں کا ہاتھ تھامتی ہے یا بی جے پی کا۔ اگر بی جے پی کشمیر میں آ دھمکی تو یہ تمام کشمیری جماعتوں کی سیاست کا آخری دن ہو گا اور کشمیر کی غلامی کے دنوں کو مزید بڑھا دے گا۔
٭…٭…٭…٭
مہنگائی کی شرح گیارہ سال میں کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے : وزیر خزانہ!
اگر یہ سچ ہے تو پھر جھوٹ کسے کہا جاتا ہے۔ اس بات کی سچائی خود اتنی مشکوک ہے جتنی وزیراعظم کی کل کی یہ گل فشانی کہ ’’آلو 20 روپے کلو مل رہا ہے۔‘‘ اب معلوم نہیں نواز شریف صاحب کو علم ہے یا نہیں وہ صرف فرضی رپورٹ سُنانے والوں کی ہی سُن کر بات کرتے ہیں۔ اس وقت شاید میاں صاحب کا سبزی والا انہیں جان کی امان پائوں کہہ کر یہ آلو 20 روپے کلو فروخت کرتا ہو گا یا ہو سکتا ہے انڈیا سے خیر سگالی کے طور پر یہ آلو وزیراعظم ہائوس کے لئے اس قیمت پر آ رہے  ہوں۔ عجب تماشہ لگا رکھا ہے حکومت نے، بجلی اور پٹرول کی قیمت میں کمی کے اعلانات کرتی جاتی ہے جبکہ کچن آئٹم کی قیمتیں آسمان کو چُھو رہی ہیں اور وزیر خزانہ مہنگائی کی شرح میں کمی کے شادیانے بجا رہے ہیں اور عوام بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ہاتھ خودکشیاں کر رہے ہیں ’’کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں۔‘‘
اگر مسلم لیگی حکومت کے کارپرداز کبھی کبھی اخبارات بھی پڑھ لیا کریں، ٹی وی پر اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں دیکھ لیا کریں تو انہیں پتہ لگ جائے گا کہ کمی کس میں ہوئی، یہاں تو سب کچھ مہنگا ہو رہا ہے مگر حال مست مال مست قسم کے حکمران حقیقت کے برعکس دعوے کرتے پھر رہے ہیں۔ کیا میاں صاحب یا ان کے وزیر بتا سکتے ہیں کہ نان اور روٹی کی قیمت کتنی کم ہوئی ہے، کیا دالیں، سبزیاں اور مرغی کتنی سستی ہوئی ہیں، ٹیکسی، ویگن اور رکشہ والے کیا کرایہ لے رہے ہیں۔ گوشت کی تو بات چھوڑیں یہ قیمت عید قربان پر ہی نصیب ہوتی ہے۔ اب سیکرٹری کو بُلا کر معلوم کرنے کی بجائے ذرا بازار جا کر قیمتیں معلوم کروا لیں تو سب دودھ کا دودھ پانی کا پانی سامنے آ جائے گا۔ بس شرط یہ ہے کہ یہ کام کسی سرکاری کارنر سے نہ کروایا جائے۔
٭…٭…٭…٭