جمعرات ‘ 29 صفر المظفر 1435ھ 2 جنوری 2014ئ

نئے سال کی آمد پر دنیا بھر میں جشنِ آتش بازی، لاہور اور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں بھی بھنگڑے اور ہوائی فائرنگ !
ہر نیا سال نئی اُمیدیں لیکر آتا ہے دنیا بھر کے لوگ گزشتہ سال کی تلخ یادوں اور نقصانات کو بھول کر ایک نئے جذبے اور اُمنگ کے ساتھ نئے سال کو گزشتہ سے بہتر بنانے کے عزم کے ساتھ زندگی کی کتاب کا نیا باب شروع کرتے ہیں۔ سالِ نو کی شب دنیا رنگ و نور اور خوشبوﺅں میں بسے ہنستے مسکراتے چہروں اور جذبوں کے ساتھ زمین تا آسمان جگمگا اُٹھتی ہے، دنیا کروڑوں انسان اس لمحہ کو مسرت کے ساتھ خوش آمدید کہتے ہیں جب گھڑی کی ایک ٹک کی صدا کے ساتھ کیلنڈر کروٹ بدلتا ہے اور اربوں انسانوں میں سے کسی کی عمرِ عزیز کا ایک سال بڑھ جاتا ہے اور کسی کا ایک برس کم ہو جاتا ہے۔ سچ کہتے ہیں اسی اُتار چڑھاﺅ‘ مدو جزر کا نام زندگی ہے۔
بدقسمتی دیکھ لیں ہم اس مسرت کی شب کو بھی اپنی ناقص حکمتِ عملی کے سبب شہریوں کیلئے عذاب میں بدل دیتے ہیں اور سڑکوں کو بند کر کے ناکے لگا کر رات 12 بجے کچھ دیر کیلئے سڑکوں پر ہَلہ گُلہ کرتے، ہنستے مسکراتے، قہقہے لگاتے شہریوں کی تذلیل کرتے ہیں۔ جنہوں نے بدمستیاں کرنی ہوتی ہیں وہ سڑکوں پر نہیں بڑے بڑے کلبوں، گھروں، ہوٹلوں اور فارموں میں یہ جشنِ طرب نہایت سکون و اطمینان سے حکومتی سکیورٹی کے سائے میں ناﺅ نوش اور ساز و آواز کے ساتھ مناتے ہیں۔ اس کے برعکس عوام الناس کو خواری اٹھانا پڑتی ہے۔ بے شک سڑکوں پر بدتمیزی اور بدتہذیبی کرنے والوں کو لگام ڈالنا ضروری ہے، ان کی تعداد بھی تھوڑی ہوتی ہے ان کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے اور اس بہانے اپنے پھیکے رنگ و نور سے محروم، خالی خولی تمناﺅں کے خون سے لتھڑے ہوئے اگر چند لوگ اپنے غم سڑکوں پر ”ہیپی نیو ائیر“ کے نعرے لگا کر مٹاتے ہیں انہیں تو غم غلط کرنے دیا جائے ان میں جینے کی کوئی اُمنگ رہنے دی جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس گھٹن کے باعث یہ لوگ ہاتھوں میں مشعلیں لیکر حکومت کے ایوانوں کا رخ کرلیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
بھارتی فوج کا خوف، آزاد کشمیر سے آنے والے آوارہ کتوں کو بھی در انداز قرار دیدیا !
یہ بھی بھارتی فوج کا حُسنِ نظر ہے کہ انہوں نے ایک وفادار جانور کو بھی اپنے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے انہیں در انداز قرار دیا ہے اور اب بھارتی فوج کی ایک ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے اور وہ ان کتوں کو پکڑ لیتی ہے جو سرحد پار کر کے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوتے ہیں حالانکہ ان کو تو خوش ہونا چا ہئے کہ یہ بے زبان معصوم سا وفادار جانور ان سے اظہارِ محبت کیلئے بھائی چارے کے جذبے کے تحت ان سے ملنے چلا آتا ہے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر۔
اب بجائے اس کی خاطر مدارت کی جاتی، انہیں خوش آمدید کہا جاتا، ان کا سواگت کیا جاتا، ان بیچاروں سے مہمان کی بجائے ملزمان والا سلوک کیا جاتا ہے اور پکڑ کر معلوم نہیں نظربند کیا جاتا ہے یا فی الفور گولی مار کر ”خس کم جہاں پاک“ کے فلسفے پر عمل کیا جا رہا ہے حالانکہ اھنسا کے فلسفے پر عمل کرنے والوں کے نزدیک کسی بھی جاندار پر ظلم غلط ہے مگر یہی بھارتی افواج مقبوضہ کشمیر سمیت آسام، ناگا لینڈ، میزو رام اور بہار میں کتوں کو تو چھوڑیں انسانوں تک کا بیدردی سے قتل عام کر رہی ہیں اور ان علاقوں کے کتے بھی ”بھاگ ورنہ آدمی کی موت مارا جائے گا“ کے مصداق اپنی جانیں بچانے کیلئے اِدھر اُدھر چھپتے پھرتے ہوں گے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کم ہو گئی!
ایسی خبر پڑھ کر ہمارے سامنے اپنے ملک میں پٹرول کی قیمت میں اندھا دھند اضافے کا گراف آ جاتا ہے اور ہماری آنکھوں تلے اندھیرا چھا جاتا ہے۔ دروغ برگردنِ راوی ہماری حکومتیں پٹرول کے فی لیٹر پر 45 روپے کے لگ بھگ اضافی رقم وصول کر کے اپنا خزانہ یا جیبیں بھرتی ہیں اور عوام کی جیبیں کاٹ رہی ہیں۔ اگر خدا نہ کرے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تیزی سے دو چار مرتبہ بڑھ بھی جائے تو بھی ہمارے ہاں پٹرول کی قیمت زیادہ ہے۔
دنیا بھر میں حکومتیں عوام کو رعایت دیتی ہیں اور ہمارے ہاں اُلٹا عمل ہے، یہاں خواص فوائد سمیٹ لیتے ہیں اور عوام کے حصے میں نقصان، مہنگائی، غربت اور بیروزگاری آتی ہے۔ کیا خیال ہے حکومت پٹرول کی قیمت میں اضافہ کی سمری روک کر ہم پر احسان کر رہی ہے یا اسے عوام کا غریبوں کا خیال ہے۔ تو نہیں جناب، اس کا عوام سے کوئی تعلق نہیں اگر ایسا ہوتا تو حکومت عوامی رائے عام کو ترجیح دیتی تو تیل کی قیمت میں کمی کرتی اور عالمی منڈی کے ساتھ اس میں اتار چڑھاﺅ کرتی، مگر ہماری حکومتوں نے ہر چیز میں اپنا حصہ نکالنا ہوتا ہے چاہے اس سے عوام کی رہی سہی جان بھی کیوں نہ نکل جائے۔ اس لئے حکومت سے پٹرول کی قیمت میں کمی کی توقع رکھنا عبث ہے خواہ عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت کتنی ہی کم کیوں نہ ہو، مجذوبہ کشمیر لاللہ دید نے کیا خوب کہا تھا ”بھیڑ ذبح ہو یا بکرا‘ ہمارے نصیب میں تو پتھر سوامیہ ہی ہے۔ہاں اگر ذرا سا بڑھ جائے تو فوراً ہمارے ملک میں پٹرول کی قیمت بڑھا دی جاتی ہے کہ جی یہ اضافہ تو عالمی منڈی کی قیمت کا اثر ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭