پیر ‘ 27 محرم الحرام ‘ 1435ھ ‘ 2 دسمبر 2013ئ

عمران خان بہادر ہیں تو اپنی حکومت کو ڈرون گرانے کا حکم دیں : الطاف حسین !
لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے قائد کا یہ مشورہ اگر عمران خان نے مان بھی لیا تو اس سے الطاف بھائی کو فائدہ نہیں نقصان ہو گا کیونکہ اس سے خان صاحب کی مقبولیت اور بڑھے گی جس کا لامحالہ اثر کراچی میں بھی ووٹروں پر ہو سکتا ہے جس کا اندازہ الطاف بھائی الیکشن میں کر چکے ہیں اور الیکشن کے بعد بھی، جس سے پتہ چلتا ہے کہ تحریک انصاف اب کراچی میں ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور اے این پی کے بعد چوتھی بڑی جماعت کے طور پر سامنے آ چکی ہے بقول شاعر ....
کون کرتا قد و قامت کا حساب
اک قیامت تھا وہ رفتار سمیت
اس لئے الطاف بھائی سے ہم پاکستانیوں کی درخواست ہے کہ وہ اتنی دور بیٹھ کر ہمیں نہ تڑپائیں بلکہ حب الوطنی اور عوام دوستی کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ اپنے وطن آ کر ان مشکل حالات میں اپنے عوام کی رہنمائی کریں تاکہ ملک و قوم کو ان مشکلات سے نکالا جا سکے۔ اگر ان کی راہ میں دوہری شہریت رکاوٹ بن رہی ہے تو وہ پاکستانیت کو ترجیح دیں اور برطانوی شہریت چھوڑ کر واپس پاکستان آئیں اور ملک و قوم کی رہنمائی کریں پاکستانی ان سے یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ جلد از جلد اپنے وطن آئیںورنہ حاسدین اور مخالفین اسی طرح ان کے بارے میں لغو بیانات جاری کرتے رہیں گے۔ کہتے ہیں ”کھڑکیاں اور دروازے تو بند کئے جا سکتے ہیں مگر مخالفین کے منہ نہیں“ --- اس لئے اب الطاف بھائی یہ دوری ختم کر کے واپس وطن واپس آ ہی جائیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
کابل میں پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے ایک گھنٹہ تک تنہا واک کی اور خوشگوار ماحول میں گفتگو کرتے رہے!۔چلو اچھا ہے اس بہانے دونوں رہنماﺅں کو دل کھول کر ایک دوسرے کے ساتھ دل کے پھپھولے پھولنے کا موقع ملا اور شکوے شکایات کے ساتھ ساتھ پرانے یارانے اور پُرلطف گزرے لمحات کی یادیں بھی تازہ کیں۔ کاش اس ملاقات کے بعد کرزئی کا دل صاف ہو جائے اور اس میں جو کدورت ہے عناد ہے وہ دُھل جائے اور وہ خود کہہ دیں ....
دل سے ملے دل دور ہوئی مشکل دل سے ملے دل
مشکل سے ملے پر مل ہی گئے ہیں آخر آج یہ دل
پاکستان اور افغانستان دو پڑوسی مسلم ممالک ہیں ان میں دین اور ثقافت سمیت بہت سی مشترکہ روایات اور بھائی چارے کی فضا موجود ہے جسے بعض حاسدین اور مخالفین نے گہنا کر رکھ دیا ہے ۔ اب اگر کرزئی آج تک مارگلہ کی واک کو پاکستان میں قیام کے گزرے حسین لمحات کو نہیں بھولے تو انہیں چاہئے کہ وہ کھلے دل کے ساتھ پاکستان کی طرف سے بڑھا دوستی کا ہاتھ تھام لیں اور پاکستان دشمن عناصر کو جھنڈی دکھا کر افغانستان کی سرزمین سے دور کر دیں اور یاد رکھیں پاکستان نے 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی ہی نہیں بھائی کی طرح بھرپور خدمت بھی کی ہے اور آج تک اس کا صلہ طلب نہیں کیا۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
بھارتی آرمی چیف کا نئے پاکستانی ہم منصب کیلئے نیک تمناﺅں کا اظہار !
خدا کرے ان نیک تمناﺅں کا اظہار صرف فوجی قیادت کے درمیان تک ہی نہ رہے بلکہ اس کا عملی مظاہرہ پاکستان اور بھارت کی سرحدوں پر بھی دیکھنے میں آئے جہاں آئے روز کوئی نہ کوئی نیا فتنہ حشر سامانیاں اٹھاتا نظر آتا ہے اور دونوں ممالک کی افواج میں چاند ماری کی مشق ہوتی رہتی ہے اس سے جانی نقصان بھی ہوتا ہے اور سرحدوں کے قریب آباد دیہات کا مالی نقصان توکسی شمار میں نہیں آتا، گھروں کے گھر تباہ ہو جاتے ہیں اور پھر ....
روز مانگیں یہ دعا خانہ بدوش
گھر نہ اُجڑیں در و دیوار سمیت
پاکستان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ سرحدوں پر امن رہے مگر بھارت کی طرف سے شرارت پر وہ بھی جوابی ایکشن پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کہیں اس کی امن پسندی کو بزدلی نہ سمجھ لیا جائے۔ بھارت کی انہی شرارتوں کی وجہ سے اور ارونا چل پردیش میں چینی سرحدی علاقے کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے پر چین نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سرحدوں پر صورتحال خراب کرنے سے باز رہے۔ اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کشمیر کنٹرول لائن پر پاکستان کس قدر صبر و تحمل سے کام لیتا ہے مگر یہ یکطرفہ امن کب تک قائم رہ سکتا ہے؟
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کی تقریب میں کارکنوں میں لڑائی جھگڑے !
کیک کی لوٹ مار اور شور شرابا دیکھ کر ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ پارٹی میں ابھی جیالا ازم زندہ ہے اور بلاول زرداری نے بھی سچ کہا ہے کہ جب تک جیالے زندہ ہیں پیپلز پارٹی کو کوئی ختم نہیں کر سکتا، باقی رہی بات پیپلز پارٹی کی تقریبات میں ہلڑ بازی کی تو یہ کوئی معیوب بات نہیں، وہ کہتے ہیں ناں ....
پلٹ کر جھپٹنا جھپٹ کر پلٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
اسی فلسفے کو مدنظر رکھتے ہوئے پارٹی کے جیالے جب کوئی تقریب دیکھتے ہیں تو اپنی قوت اور جوش و جذبے کا اظہار ضرور کرتے ہیں کیونکہ یہ ہماری سیاسی پارٹیوں کا خاصہ ہے کہ وہاں جی حضوریوں کی زبان چلتی ہے ، سرمایہ دار کا مال چلتا ہے، زورآوروں کی سفارش چلتی ہے مگر نہیں سُنی جاتی تو صرف غریب کارکنوں کی نہیں سُنی جاتی۔ اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے جیالے بہرحال زندہ و توانا ہیں کہ وہ ہر تقریب میں اپنا غصہ ضرور نکالتے ہیں اور اپنے لیڈروں کو انکی اوقات یاد دلاتے ہیں۔ جیالے صرف بھٹو خاندان کے نام سے ڈرتے اور اس پر مرتے ہیں اور آج تک پیپلز پارٹی کو ووٹ بھی بھٹو اور بے نظیر کے نام پر ملتا رہا ہے ورنہ ان جیالے مخلص کارکنوں کو نہ تو زندگی میں کچھ ملتا ہے نہ مرنے کے بعد۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭