اتوار 2 اگست 2009ء

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ توقع تھی کہ ایسا ہی فیصلہ آئیگا‘ اپنے اقدامات کا ہر فورم پر دفاع کروں گا۔
ایک ’’اچھے مجرم‘‘ کی یہی پہچان ہے کہ جب وہ جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اسے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا انجام کیا ہو گا‘اس لئے سابق صدر پرویز مشرف کو بھی سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہی توقع تھی۔
جہاں تک اپنے اقدامات کا تعلق ہے جن کا دفاع وہ ہر فورم پر کرنا چاہتے ہیں‘ تو وہ اقدامات صرف انکے طوطا چشم یار امریکہ کی نظر میں تو جائز ہو سکتے ہیں ‘ مگرآج کی آزاد عدلیہ اور سولہ کروڑ عوام کی عدالت میں ہرگز نہیں‘ جس کا ثبوت پوری قوم کا وہ بھنگڑا ہے جو اس نے سپریم کورٹ کا فیصلہ سن کر ڈالا اور مٹھائیاں بانٹیں۔
اب پرویز مشرف کھسیانی بجلی کی طرح کھمبا نوچتے رہیں اور واویلا کرتے رہیں کہ انہوں نے جو کچھ کیا ملک و قوم کی بھلائی کیلئے کیا‘ مگر ان کی بدقسمتی کہ ملک کے حالات بھی ان کا ساتھ نہیں دے رہے‘ وہ بھی چیخ چیخ کر انکے خلاف گواہی دے رہے ہیں۔ وہ اپنے کس کس اقدام کا دفاع کریں گے‘ کہیں آئین کی شکنی تو کہیں مارشل لاء کا نفاذ‘ کہیں لال مسجد کی دیواریں رو رو کر آہ و زاری کر رہی ہیں تو کہیں شمالی علاقہ جات کے بلاجواز آپریشن۔ یہ سب ایسے اقدامات ہیں‘ جو گواہ بن کر انکے گلے کا پھندا بن رہے ہیں ۔
آج پوری قوم صرف ایک ٹیلی فون کال کا نتیجہ بھگت رہی ہے‘ کاش اس رات مشرف جلدی سو گئے ہوتے اور سارے ٹیلی فون تھوڑی دیر کیلئے مر (ڈیڈ) گئے ہوتے۔
٭…٭…٭…٭
جماعت اسلامی پنجاب کے قیم اور سابق رکن قومی اسمبلی میاں محمد اسلم نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت سستی روٹی کا ڈرامہ بند کرے۔
خادم پنجاب نے اپنے عوام کو سستی روٹی دینے کا منصوبہ بنایا تاکہ عوام کو کہیں سے تو ریلیف ملے‘ سستی روٹی کی چاندنی چار دن تو رہی‘ مگر اب پھر ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ کہیں پر روٹی تین روپے میں دستیاب ہے تو کہیں ساڑھے تین میں۔ اگر کہیں قسمت کی ماری دو روپے میں مل بھی جائے تو وہ اتنی پتلی ہوتی ہے کہ دس روٹیاں کھا کر بھی پیٹ نہیں بھرتا۔ بہرحال شہباز کو اپنی پرواز کو خیرباد نہیں کہنا چاہئے‘ کوشش لازم فرض ہے۔
پچھلے دنوں خبر آئی تھی کہ حکومت مکینکل تنور متعارف کرائے گی۔ ہم حکومت سے گزارش کریں گے کہ عوام کو مٹی کے تنور کی روٹی ہی دے دے تو غنیمت ہے‘ انہیں سائنسی روٹی نہیں چاہئے اور نہ ہی وہ سائنس سے تیار کردہ روٹی کھا کر سائنس دان بنیں گے۔
سائنسی طریقے تو تب اپنائے جائیں جب ملک میں روٹی وافر ملتی ہو۔ ایک طرف لوگ بھوک سے تنگ آکر خودکشی کر رہے ہیں‘ کبھی اپنے بچے بیچ رہے ہیں‘ تو کبھی انہیں موت کی نیند سلا رہے ہیں دوسری طرف حکومت روٹی فراہم کرنے کے سائنسی طریقے ایجاد کر رہی ہے۔
حکومت کو چاہئے کہ ملک میں مہنگائی پیدا کرنے والے عناصر کو کنٹرول کرے ‘ زراعت پر خاص توجہ سے تو روٹی خود بخود سستی اور وافر ہو جائیگی۔ میاں محمد اسلم صاحب صبر سے کام لیں‘ قوم ساٹھ سال سے ڈرامے ہی ڈرامے دیکھ رہی ہے‘ جہاں ملک بھر میں اتنے ڈرامے ہو رہے ہیں‘ وہاں روٹی کا ایک ڈرامہ اور سہی۔
٭…٭…٭…٭
خبر ہے کہ عالمی طاقت کے خواب میں ’’مدہوش‘‘ بھارت تیزی سے دنیا کا ’’ہنگر کیپٹل‘‘ (بھوک کا دارالحکومت ) بن رہا ہے۔
لطیفہ مشہور ہے کہ ایک گائوں کا چودھری مر گیا‘ میراثی کے بیٹے نے اپنے باپ سے پوچھا:
ابا! اب گائوں کا چودھری کون بنے گا؟
اس نے جواب دیا‘ چودھری صاحب کا بھائی یا بیٹا۔ بیٹے نے پوچھا اگر وہ بھی مر جائیں تو پھر؟
اس نے کہا بیٹا تو فکر نہ کر‘ سارا گائوں مر جائے ‘ تو چودھری پھر بھی نہیں بنے گا۔
یہی حال بھارت کا ہے‘ ایک طرف وہ طاقت کے نشے میں مدہوش ہوکر دنیا کا طاقتور چودھری بننے کے خواب دیکھ رہا ہے ‘ جس کیلئے وہ اپنے عوام کا پیٹ کاٹ کر اور انہیں بھوکا مار کر اسلحہ جمع کر رہا ہے‘ جدید ایٹمی آبدوزیں خرید رہا ہے‘ یہاں تک کہ اسے دنیا کی مارکیٹ میں جو بھی نیا مہلک اسلحہ نظر آتا ہے‘ اسکی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اسے ہر قیمت پر خرید لے ۔ ہمیں تو خدشہ ہے کہ کہیں وہ اس شوق میں بچوں کے کھلونا پستول بھی نہ خرید لے۔بھارت جس طرح اسلحے کے ڈھیر لگا رہا ہے‘ ایک وقت آئیگا ‘ دنیا اسے بارود ی ملک سے پکارے گی اور یہ سارا بارود اسکی تباہی کا سبب بنے گا۔
خطہ میں اسلحہ کی دوڑ سب سے پہلے بھارت نے شروع کی جو ہنوز جاری ہے۔ بھارت کو چاہئے کہ وہ جو دولت اسلحہ کی خریداری پر خرچ کررہا ہے‘ وہ اپنے ان غریب عوام پر خرچ کرے جو بے چارے بھوکے مر رہے ہیں‘ نہ ان کے پاس کھانے کو روٹی ہے‘ نہ پہننے کو کپڑا‘ وہ طاقتور چودھری ہرگز نہیں بن سکتا۔
بھارت کو یہ اچھی طرح سوچ لینا چاہئے کہ اگر وہ اسلحہ کی دوڑ جاری رکھے گا تو اسکے ہمسایے ملک بھی اپنے دفاع کیلئے اس دوڑ میں شامل ہو جائیں گے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس دوڑ میں بھارت سے آگے نکل جائیں اور وہ اس خطے کا بڑا چودھری بننے کے بجائے نِکا چودھری بن کر رہ جائے۔