منگل ‘ 20 جمادی الاوّل ‘ 1434ھ ‘ 2 اپریل2013 ئ

وڈے مولوی نے وڈا میلہ لگایا اور لُٹ کے بھی لے گئے۔ بادشاہی مسجد کے گرد و نواح میں ویسے تو وڈے وڈے میلے لگتے ہیں لیکن مولانا فضل الرحمن آ گئے تے چھا گئے۔ یقینی طور پر ان کا مجمع سونامی کو مات دے گیا ہے، بس فرق یہ تھا کہ سونامی میں ”لُڈی ہے جمالو پاﺅ“ کا بھی رنگ تھا جبکہ یہاں ٹوپیوں کا موسم بہار تھا۔ خان صاحب نے سوات میں جا کر جنگل میں منگل کا سماں باندھ دیا اور لگے ہاتھوں وہ خواب بھی سُنا گئے کہ میرے سارے خواب سچے ہوتے ہیں، اب کلین سویپ کا خواب دیکھا ہے وہ بھی سچا ثابت ہو گا۔ جناب اگر خوابوں میں کلین سویپ ہونا ہوتے تو پھر خوابوں والی سرکار منظور وسان نے تو پی پی کے کلین سویپ کی پہلے سے ہی بشارت دے رکھی ہے۔ مولویوں کے خواب تو اکثر سچے ہوتے ہیں، سچے نہ بھی ہوں تو خواب کا محل وقوع اس قدر بیان کرتے ہیں کہ انسان سچ ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ مولانا صاحب نے بھی گزشتہ رات کے جلسے کو دیکھ کر کوئی نہ کوئی خواب سوچ لیا ہو گا۔ ویسے خوابوں سے ووٹ ملتے تو آج علامہ طاہر القادری اس ملک کے وزیراعظم ہوتے، انہیں خواب گھڑنے میں یدِطولیٰ حاصل ہے، یوٹیوب پر ان کا مشہور زمانہ خواب رکھا ہے کبھی سُننے کی زحمت کرنا، ایسا خواب وہ بھی ”گھڑ“ سکتے ہیں کیونکہ اندھا اعتماد کرنے والے مریدین بے شمار ہیں۔ بہرحال اس الیکشن میں جو کچھ ہو گااسے یوں بیان کر سکتے ہیں .... اس الیکشن میں ہم نے کیا دیکھا اک انوکھا سا ماجرا دیکھا کچھ سمجھ میں نہ آ سکا محمودجیتنے والا ہارتا دیکھا بڑے بڑے بُرج الٹیں گے اور کئی نئے چہرے سامنے آئیں گے۔ ٭۔٭۔٭۔٭۔٭جمشید دستی گدھا گاڑی اور تحریک انصاف کے انجم اقبال گدھے پر بیٹھ کر کاغذات نامزدگی جمع کرانے آئے۔جمشید دستی اس قدر غریب تو نہیں تھا کہ گدھا گاڑی پر بیٹھنے کی نوبت آ جاتی لیکن اس نے غریبوں کی غربت کا تمسخر اڑایا ہے۔ پانچ سال اقتدار کے مزے لوٹنے کے باوجود وہ صرف گدھا گاڑی کی سواری کے قابل بنا ....ع”ایں خیال است و محال است وجنوں“بینظیر بھٹو فاﺅنڈیشن کی طرف سے ملی بسیں بھی تو جناب کے قبضے میں ہیں حالانکہ وہ بسیں عوام کو فری سفری سہولیات دینے کیلئے ہبہ کی گئی تھیں۔ دستی گدھا گاڑی پر ہی کمپین چلائیں تو غریب غربا انہیں آنکھوں پر بٹھائیں لیکن اگر اپنے مخالفین کی طرح غریبوں کی آنکھوں پر بیٹھنے کی کوشش کرینگے تو پھر غریب انکی پرچی پر بیٹھ جائینگے۔ ویسے دستی اگر انتخابی نشان گدھا گاڑی حاصل کر لیں تو انہیں مزید شہرت ملے گی۔ وڈیرے بھی کہیں گے گدھے نوں ووٹ دیو۔ دستی صاحب جعلی ڈگری کی طرح آپ نے گدھا گاڑی والا ڈرامہ بھی جعلی تو نہیں رچایا؟ کیونکہ جعلسازی میں آپ بڑے ماسٹر ہیں۔ اب فرد جرم عائد کرنے کا حکم آ چکا ہے۔ دیکھیں جمشید دستی جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے الیکشن کمپین چلاتے ہیں یا پھر گدھا گاڑی کا سہارا لیتے ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما انجم اقبال وڑائچ نے تو سستی شہرت حاصل کرنے کی حد ہی ختم کر دی۔ وکٹری کا نشان بنائے گدھے پر پارٹی پرچم لہراتے کاغذات جمع کروانے آ دھمکے۔ جناب یہ بھی نوبت آنی تھی کہ پارٹی کا پرچم گدھے کے کانوں پر لہرانا تھا۔ انجم اقبال وڑائچ کو دیکھ کر بے ساختہ وہ لطیفہ یاد آتا ہے کہ: ”کوئی وڈیرہ الیکشن میں کھڑا ہوا اسکی صندوقچی سے تین ووٹ نکلے، ایک امیدوار کا اپنا تھا دوسرا بیگم صاحبہ کا جبکہ تیسرا کسی اور نے ڈال دیا تو پھر امیدوار نے اپنی پنجابی زبان میں ایسا جملہ کہا جو ضرب المثل بن گیا۔ “کھوتے ریڑھے والے امیدواروں کے ساتھ کہیں ایسا نہ ہو اور کچھ نہیں تو انہیں کم از کم اپنی عزت بچانے کیلئے علاقے کے آوارہ لڑکوں کو ہی ساتھ ملا لینا تھا تاکہ گدھے کو بھی اپنے اکیلے پن کا احساس نہ ہوتا۔دونوں صاحب یوں گنگنارہے ہونگے ”آجا نی بہہ جا کھوتے تے“٭۔٭۔٭۔٭۔٭چوہدری احمد مختار اور چوہدری پرویز الٰہی کے مقابلے میں خواجہ سرا زاہد ریشم نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کروا دئیے۔ خواجہ سرا کو پتا ہی نہیں کہ دریا میں رہ کر مگرمچھ سے لڑائی مول نہیں لی جا سکتی۔ زاہد ریشم نے اگر گجرات میں رہنا ہے تو پھر خواہ مخواہ زور آزمائی پر اُتر آئی یا آئے ہیں۔ آپ کا حق تھا دونوں کی مشترکہ کمپین چلاتے لیکن آپ نے ٹھمکے لگانے کی بجائے دونوں کو فکریں لگا دی ہیں۔ چوہدری احمد مختار کے پاس کمپین چلانے کیلئے پارٹی کا کوئی شہید ہے نہ ہی بھٹو کی کوئی نشانی۔ حکومت کی قبل از وقت معزولی کا نوحہ بھی نہیں پڑ سکتے کیونکہ پانچ سال خوب مزے اڑائے ہیں۔ مشرف کو دس بار وردی میں منتخب کروانے والے چوہدری پرویز الٰہی کی پشت پر بھی پرویز مشرف کا ہاتھ ہے نہ ہی نواز شریف کا ساتھ، لہٰذا دونوں امیدوار اپنے اپنے زور پر ہی انتخابی اکھاڑے میں اتریں گے۔ خواجہ سرا نے اگر گلی کوچوں میں انتخابی مہم چلا دی تو پھر وڈے چوہدری صاحب پرویز کو زاہد ریشم کی حمایت حاصل کرنے کیلئے تیار کرینگے۔ زاہد ریشم بیشک جیت نہ سکے لیکن آزاد اور روشن خیال نوجوانوں کے ووٹ حاصل کرنے میں اسے ضرور کامیابی حاصل ہو جائیگی۔ دونوں پارٹیاں اگر زاہد ریشم کے پاس جائیں تو زاہد ریشم کو یہ شرط عائد کرنی چاہئے کہ جو امیدوار ٹھمکے لگانے کا مقابلہ جیت جائیگا‘ میںاسکے حق میں دستبردار ۔پھر دیکھئے گادونوں کا تگنی کا ناچ۔