ہفتہ‘ 16 محرم الحرام ‘ 1434ھ ‘یکم دسمبر 2012 ئ

ہفتہ‘ 16 محرم الحرام ‘  1434ھ ‘یکم دسمبر 2012 ئ


 ایلیٹ کلاس کی وجہ سے خودکش بمبار پیدا ہورہے ہیں: پشاور ہائیکورٹ
 پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ ناک کی ” سیدھ“ جیساہے،ایلیٹ کلاس اگر تعلیم میں تفریق نہ ڈالتی تو آج ہر بچے کے ہاتھ میں کلاشنکوف کی بجائے قلم ہوتا،تعلیم اسقدر کمرشلائز ہوچکی ہے کہ غریب آدمی کتابیں خرید سکتا ہے نہ ہی فیس دینے کی سکت رکھتا ہے جس طرح کونسلر کرائے کے مکان میں ہوتا ہے لیکن پانچ سال کے بعد اس کے اپنے کئی مکان کرائے پر ہوتے ہیں ،ایم این اے اور ایم پی اے کا حساب تو وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں ہماری سوچ ختم ہوتی ہے،سیاست اور تعلیم دونوں منافع بخش کاروبار ہیں۔ آج اگر خیبر پی کے قبائلی علاقہ جات،بلوچستان اور سندھ کے ہاریوں کیلئے معیاری کریکولم کے ساتھ ساتھ تعلیم مفت ہوتی تو کوئی بھی اپنی جان کے درپے نہ ہوتا۔
امریکہ نے جس قدر افغان اور عراق جنگ پر پیسہ بہایا اگر وہ اس پیسے سے ان علاقوں میں تعلیم کو عام کرتا تو یقین جانیے ایک ایسا انقلاب آتا جو امریکہ کی آنے والی نسلوں کو بھی خیر سگالی کا پیغام دیتا لیکن امریکہ نے تعلیم کے بجائے بارود کو عام کیا۔ آگ پر پانی برسانے کے بجائے تیل چھڑکا جس کے باعث دنیا کا امن تباہ ہوچکا ہے اب اگر انتہا پسندی پر قابو پانا ہے تو اس کیلئے "Education For ALL" پر عمل کرنا ہوگا،غریب آدمی کا حال تو بہادر شاہ ظفر کے اس شعر جیسا ہی ہوتا ہے ....
عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
 دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
٭....٭....٭....٭
 روجھان:60 سالہ بوڑھوں نے ایک دوسرے کی کم سن بیٹیوں سے شادی کرلی،پولیس کو رخصتی کے 3روز بعد علم ہوا۔
 دونوں بوڑھوں نے ”وٹہ سٹہ “ کرلیا ہے یہ تو کانٹوں کو ”ململ“ کیساتھ باندھنے والی بات ہے ۔روجھان پولیس کو چاہئے کہ اب اپنا ” مخبر“ بدل لے کیونکہ اکثر و بیشتر کام تو مخبروں کی اطلاع پر ہی ہوتے ہیں۔ پولیس کا اپنا کام تو ماسوائے چوروں اور ڈکیتوںکو بھگانے کے اور کچھ نہیں ہوسکتا۔روجھان کے 60 سالہ ”بابوں“ نے ”چن“ چڑھایا لیکن ”پلسیے“ دیکھنے سے محروم رہے،نور جہاں کی زبان میں ہم تو یہی ”نوحہ“ کرسکتے ہیں....
 لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم
میں نہ لگاﺅں گی ہاتھ رہے
چاند سے مکھڑے کو ناگن زلفیں
 چاہئے ڈسیں ساری رات رے
13 اور9سال کی بچیاں اپنا نوحہ کس کے سامنے جا کر سناتیں کیونکہ پولیس سو رہی تھی اور میڈیا کو بھی خبر نہ ہوئی ورنہ تو وہ شام غریباں ضرور برپا کرتے،60سالہ بابوں کی ٹانگیں قبر میں ہیں لیکن وہ اپنی جوانی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں‘ نہ صرف یہ لیکن اتنی کم عمر بچیوں کی شادی قانونی طور پر گھناﺅنا جرم ہے۔ دو معصوم بچیوں کے ساتھ ایسی زیادتی اور کسی کو کانوں کانوں خبر تک نہ ہوئی؟
٭....٭....٭....٭
 شہباز شریف کا موڈ3اجلاسوں کے باوجود خوشگوار رہا،حافظ نعمان کو”پارکنگ منسٹر“ کی بتی دکھا دی۔
 خادم پنجاب کا موڈ کبھی کبھی ”آف“ ہوجاتا ہے اور پھر جناب پٹڑی سے اترتے ہوئے ”آﺅ دیکھتے ہیں نہ تاﺅ“ بس جو سامنے آتا ہے اسے ایک انگلی کے اشارے سے چلتا کرتے ہیں بہت سارے لوگ ان سے ملنے کی تمنا رکھتے ہیں لیکن جب وہ سامنے آتے ہیں تو سب بھول جاتے ہیں اور پھر گِٹار پکڑ کر یوں گویا ہوتے ہیں....
 ہزار باتیں ہیں دل میں جو اس سے کہنی ہیں
 مگر وہ ملنے کے انداز میں ملے تو سہی
 کاش اتنے خوشگوار موڈ میں ہمارا بھی ان سے آمنا سامنا ہوتا اور ہم بھی ان کے روبرو بیٹھ کر کچھ عرض کرتے....
 عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب
 دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک
 ویسے کچھ لوگ غصے میں ہی اچھے لگتے ہیں لیکن شہباز کی پرواز تو ہر طرح لا جواب ہوتی ہے،غصے کے وقت انکے چہرے پر لالی اور پیشانی پر خاص قسم کے بل پڑتے ہیں جس طرح شیشم کا گھنا درخت کسی عمارت کے حسن کو داغدار کرتا ہے بعینہ وہ ”بل“ شہباز کی ذردی کو بھی گہنا کردیتے ہیں ویسے کوئی مانے یا نہ مانے ہم تو یہی کہیں گے کہ مسلم ٹاﺅن پل اور ٹھوکر نیاز پل کا قلیل مدت میں بننا اسی غصے کا مرہونِ منت ہے جس طرح بجلی میں ایک ٹھنڈی تار ہوتی ہے دوسری گرم اسی طرح (ن) لیگ میں بڑے میاں ذرا ٹھنڈے لیکن چھوٹے میاں گرم جب دونوں ملتے ہیں تو کرنٹ صحیح جگہ پہنچتا ہے جس کی بنا پر روشنی پھیلی رہتی ہے۔خادم پنجاب ایم پی اے حافظ میاں نعمان کو جس بتی کے پیچھے لگاگئے ہیں اب تو میاں نعمان کو اس خوشی میں نیند بھی نہیں آئے گی۔
٭....٭....٭....٭
1990ءمیں ہی اسلام قبول کرلیا تھا،جاپانی پہلوان انوکی کا انکشاف
 انوکی کو روشنی کی وہ کرن نظر آئی جو بڑے بڑے پہلوان کو دو آنکھیں ہونے کے باوجودنظر نہیں آتی۔
ایک دور تھا انوکی کا وہ ”تالہ“ جو اس نے اکرم عرف اِکی پہلوان کو لگایا وہ بڑا مشہور ہوا تھا ۔جاپان کے سوما پہلوان تو بڑے مشہور ہیں جو ایک گوشت کے پہاڑ ہوتے ہیں، پاکستان کے تین چار پہلوان تو ویسے ہی انکے شکموں میں سماجاتے ہیں بہرحال ہمیں انوکی کے پاکستان آنے اور اس کے قبول اسلام کی خبر سننے پر دلی خوشی محسوس ہوئی،احسان اللہ ثاقب کی زبان میں انوکی کو یوں گنگناناچاہئے....
تری خوشبو سے جل تھل ہوگیا ہوں
ادھورا تھا مکمل ہوگیا ہوں