سرگود ھا: جمشید دستی کی ضمانت منظور‘ رہائی پر کارکنوں کا جشن

سرگودھا + لاہور (نامہ نگار+ ایجنسیاں+ وقائع نگار خصوصی) انسداد دہشتگردی کی عدالت کے حکم پر رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے موقع پر کارکنوں نے جمشید دستی کا پرجوش استقبال کیا اور حکومت کیخلاف شدید نعرے لگائے۔ مختلف اضلاع سے آئے ہوئے کارکن سرگودھا جیل کے باہر بھنگڑے ڈالتے رہے۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ قبل ازیں عدالت نے درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے جمشید دستی کو ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا۔ سماعت کے دوران جمشید دستی کی جانب سے 150 سے زائد وکلاء پیش ہوئے تھے۔ درخواست ضمانت پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم میں شامل بابر اعوان اور ان کے وکلا پینل نے دائر کی تھی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ رکن قومی اسمبلی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بناکر ان پر جھوٹے مقدمے عائد کئے جارہے ہیں۔ عدالت ضمانت منظور کرے۔ پی ٹی آئی اور مظفرگڑھ سے آئے جمشید دستی کے سینکڑوں حامیوں نے انکے حق میں اور حکومت مخالف مظاہرہ کیا، اس موقع پر مظاہرین نے عدالتی گیٹ کے قریب جانے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں روکا جس پر دن بھر پولیس کے ساتھ مظاہرین کی نوک جھونک جاری رہی۔ مظاہرین نے گو نواز گو سمیت حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں جمشید دستی نے کہا کہ حکمرانوں نے آمریت کی یاد تازہ کردی، جاگیرداروں کیخلاف جدوجہد پر جعلی مقدمات قائم کرکے حق کے خلاف آواز بلند کرنے کی سزا دی اور بھوکا، پیاسا رکھتے ہوئے ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، رہائی پر چیف جسٹس سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور سیشن جج سرگودھا کا مشکور ہوں۔ حکومتی ایما پر 7 جعلی مقدمات قائم کرکے سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت جاگیرداروں کیخلاف آواز بلند کرنے کی سزا دی جارہی ہے اور ممبر قومی اسمبلی ہوتے ہوئے بھی سڑکوں پر گھسیٹا جارہاہے تاکہ میری زبان بند کرائی جاسکے۔ حراست کے دوران انہیں کئی کئی دن تک بھوکا ، پیاسا رکھتے ہوئے ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا اور ان اذیتوں کو بڑھانے کے لئے سونے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی تھی، میں خصوصاً سیشن جج سرگودھا اور انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج کا شکر گزار ہوں جنہوں نے جیل کا دورہ کرکے مجھے بی کلاس کے احکامات جاری کرتے ہوئے جیل میں جاری اذیتوں سے نجات دلوائی اور یہ باور کروایا کہ عدلیہ کسی سیاسی قوت کے تابع نہیں اور آزادنہ فیصلوں کے حوالہ سے خود مختار ہے۔ یہ عدلیہ کی آزادی و خود مختاری کی علامت ہے کہ وقت کا وزیراعظم اپنے اہل خانہ سمیت عدالت کا سامنا کرنے پر مجبور ہے، پانامہ زدہ حکمران کسی بھی صورت قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ میرے ساتھ ظالمانہ سلوک پر قومی اسمبلی میں بھی سب ممبران اسمبلی نے آواز بلند کی مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے جمشید دستی پر جیل میں تشدد اور غیر انسانی سلوک کے الزام میں دائر درخواست پر آئی جی جیل خانہ جات سے رپورٹ مانگ لی ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ یہ اہم نوعیت کا معاملہ ہے۔