خانہ کعبہ میں سیلاب زدگان کیلئے خصوصی دعائیں

ریاض نامہ ۔۔۔ گل محمد بھٹہ
رمضان المبارک جسے ماہ صیام بھی کہا جاتا ہے، برکتوں کا مہینہ ہے جس کے پہلے دس روز رحمتیں سمیٹنے کیلئے مختص کر دیئے گئے ہیں جبکہ اگلے دس روز مغفرت اور آخری عشرہ جہنم سے آزادی کیلئے مقرر کر دیا گیا ہے۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی مرحوم رمضان المبارک کے آغاز میں اپنے خطبات میں کہا کرتے تھے کہ رمضان المبارک نیکیاں کمانے کا سیزن ہے جبکہ اس ماہ مقدس میں اللہ رب العزت رمضان کے آغاز میں بڑے اور چھوٹے شیطانوں کو جکڑ دیا کرتے ہیں اور پورا ماہ رمضان وہ جکڑے رہتے ہیں تاکہ مسلمان زیادہ سے زیادہ ماہ مقدس میں نیکیاں اکٹھی کر سکیں اور اپنے گناہوں کی اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو کر معافی مانگ سکیں۔ رمضان المبارک چونکہ ایسے وقت میں آیا ہے جب قوم سیلاب میں گھری ہوئی ہے اور دو کروڑ انسان اس سے متاثر ہو چکے ہیں اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحثیت مجموعی اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں۔ اس مبارک مہینے میں ہر نیکی کو 70 سے ضرب دے دی گئی ہے۔ ایک مسلمان کوایک نیکی کرنے پر رمضان میں 70 نیکیوں کا ثواب ملتا ہے اس لئے مسلمان بھائیوں بہنوں کو چاہئے کہ وہ رمضان المبارک کی برکتوں اور مبارک ساعتوں کو سمیٹنے کیلئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کریں کیونکہ کیا معلوم آئندہ برس میں یہ ماہ مقدس اس کی زندگی میں دوبارہ آئے گا یا نہیں اس لئے اسے ہی آخری رمضان گردانتے ہوئے اس کے برکات و فیوضات کو حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہو جائیں۔
ماہ صیام میں صرف ہم پر روزے ہی فرض نہیں کئے گئے جبکہ اس میں قرآن کریم نازل کیا گیا ہے۔ اس کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ایک رات ایسی بھی ہمیں عطا کی گئی ہے جو کہ ہزار مہینوں کی راتوں سے بھی اعلیٰ درجہ رکھتی ہے لہٰذا ہمیں چاہئے کہ رمضان کی برکتوں کو سمیٹنے کا صحیح معنوں میں اہتمام کریں۔ چونکہ رمضان میں مسلمانوں کے دل نرم ہو جاتے ہیں اور وہ صدقات و خیرات کرنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں اس لئے ہمیں چاہئے کہ ملک اور قوم آج جس قدرتی آفت، سیلاب سے نبرد آزما ہو رہی ہے اپنے صدقات و خیرات کا رخ اس کی جانب موڑ دیں۔ سعودی حکومت نے اپنے پاکستانی بھائیوں کی مدد کیلئے سامان کے متعدد جہاز بھی پاکستان بھجوائے ہیں جبکہ کروڑوں ڈالر جمع کر کے حکومت پاکستان کے حوالے کر دیئے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر سعودی عرب کے تمام شہروں میں سعودی شہریوں سے عطیات اکٹھے کئے جا رہے ہیں۔ مملکت سعوی عرب نے اعلان کر دیا ہے کہ یہ سلسلہ آخری رمضان تک جاری رہے گا۔سیلاب میں گھرے ہوئے ہم وطنوں کیلئے خادم الحرمین الشریفین نے 2 لاکھ ریال جبکہ وزیراعظم سعودی عرب نے 1 لاکھ ریال اور وزیر داخلہ نے 50 لاکھ ریال عطیہ کر دیئے ہیں۔ اگر بغور پوری دنیا کے ممالک کا احاطہ کیا جائے تو سعودی عرب پاکستان کو سامان اور نقد عطیات دینے والا پہلا ملک بن کر سامنے آیا ہے جس نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ جب بھی وطن عزیز پاکستان پر کوئی ناگہانی آفت یا مصیبت آئی ہے سعودی عرب نے بڑھ چڑھ کر پاکستان کی مدد کی ہے۔ جہاں سعودی حکومت اور شہری پاکستان کے مصیبت زدہ بھائیوں کیلئے دل کھول کر مدد کر رہے ہیں اسی طرح پاکستان کی مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتیں (جو سعودی عرب میں قائم ہیں) بھی اپنے اپنے پلیٹ فارموں سے متاثرین سیلاب کیلئے فنڈز اکٹھے کر رہی ہیں جبکہ سفارتخانہ پاکستان الریاض نے بھی چندہ مہم شروع کر رکھی ہے۔ اسی طرح پاکستان انٹرنیشنل سکول ریاض (الناصریہ) میں بھی ہم وطنوں نے کپڑے اور کھانے پینے کا سامان جمع کروانا شروع کردیا ہے جس کی پہلی کھیپ سکول انتظامیہ نے گذشتہ ہفتے سفیر پاکستان کے حوالے کی تھی جبکہ یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ سعودی عرب میں آج کل سکولوں میں چھٹیاں ہیں۔ اس لئے عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ سالانہ تعطیلات کے دوران لوگ حرمین شریفین کی زیارت اور ادائیگی عمرہ کیلئے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ چلے جاتے ہیں جبکہ متعدد لوگ اپنے اپنے ممالک کو روانہ ہو جاتے ہیں لیکن ملک کے سیلاب کی تباہ کاریوں کا احاطہ کرتے ہوئے چند درد دل رکھنے والے پاکستانیوں اور برادر اسلامی ممالک کے دیگر تارکین وطن نے عمرہ کی ادائیگی ترک کر کے یا چھٹیوں میں اپنے ملک جانے کی بجائے ان مدّ میں خرچ ہونے والی رقوم کو سیلاب فنڈ میں جمع کروایا ہے۔ ملک سے کوسوں دور بھی پاکستانیوں کا اپنے ہی مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کیلئے جذبہ ایثار پر دوسری اقوام بھی رشک کرتی نظر آرہی ہیں۔ خانہ کعبہ اور روضہ رسول پر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پاکستانیوں کے علاوہ دنیا کا ہر مسلمان پاکستانی متاثرین سیلاب کیلئے دعائیں کرتا دکھائی دے رہا ہے جبکہ امام کعبہ اور امام مسجد نبوی جمعة المبارک کے اپنے اپنے خطبات میں بھی خصوصی طور پر متاثرین سیلاب اور سیلابی تباہ کاریوں کا ذکر کر کے تمام نمازیوں سے اپیل کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ اجتماعی دعائیں کریں تاکہ یہ مصیبت ٹل جائے۔
شہر ریاض میں خواتین اور بچے بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ وہ بھی اپنی اپنی بساط کے مطابق چندہ مہم کو بڑھاوا دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ بچوں کی اکثریت نے اپنے جیب خرچ اس میں عطیہ کر دیئے ہیں جبکہ خواتین نے اپنے زیورات اور کپڑے بھی متاثرین سیلاب کیلئے جمع کروائے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ عام مزدور، کار مکینک اور دوسرے ہنرمند پاکستانی بھی اس چندہ مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں غرضیکہ ہر پاکستانی اس درد کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے اپنے تئیں کام کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ہر گروہ یا تنظیم اپنا اپنا ٹارگٹ مکمل ہونے پر جمع ہونے والا فنڈ سفارتخانہ پاکستان کے حوالے کرتی جا رہی ہے۔ بیرون ملک یہ جذبہ ایثار پاکستانیوں کا اپنے ہی بھائیوں کیلئے انتہائی قابل دید و قابل رشک ہے۔ اس سے قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی یاد تازہ ہو رہی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ بیرونی ممالک خصوصاً سعودی عرب سے بھجوائی جانے والی یہ خطیر رقم صحیح معنوں میں متاثرین سیلاب تک پہنچ جائے گی۔ ##