وفاقی حکومت کے دبائو پر واپڈا‘ پیپکو نے بھی کالاباغ ڈیم منصوبہ ختم کردیا

لاہور (ندیم بسرا سے) وفاقی حکومت کے دبائو پر واپڈا اور پیپکو نے بھی کالاباغ ڈیم کا منصوبہ مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ اس منصوبے پر کام کرنے والے 2385 انجینئروں اور دیگر عملے کو اس پر کام کرنے سے مکمل طور پر روک دیا ہے جس کی وجہ سے مستقبل میں یہ منصوبہ منظر سے غائب ہو جائے گا۔ ذرائع کے مطابق واپڈا نے 1990ء میں 485 سینئر انجینئروں سمیت 1900 انجینئروں،سپر وائزروں، سروے اپ ڈیشن اہلکاروں کو اس منصوبے پر کا م تیز کرنے کی ذمہ داری دی تھی۔ جنہوں نے 1990ء سے لیکر 2001ء تک اس پر کام کیا اور 4 مختلف فیزیبلٹی کنسلٹنٹس سے اس پر فیزیبلٹی بھی کرائی‘ مجموعی طور پر 28 برسوں میں کالاباغ ڈیم کی فیزیبلٹی، واپڈا ملازمین کی تنخواہوں، سڑکوںکی تعمیر پر 80 ارب روپے خرچ ہوئے۔ موجودہ حکومت نے آتے ہی اس منصوبے کو ناقابل عمل قرار دے کر بالکل ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے مرحلے کے طور پر واپڈا ہائوس اور سنی ویو میں اس کے 18شعبے ختم کیے اور انجینئروں کو دوسرے شعبے کی ذمہ داریاں دے دی گئیں۔ انسٹی ٹیویشن آف انجینئرز پاکستان کے صدر انجینئر آفتاب اسلام آغا، انجینئر حسنین احمد صدر پاکستان انجینئرنگ کانگرس اور ورلڈانجینئر فیڈریشن پاکستان کے نمائندے انجینئر چودھری رشید نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم کا منصوبہ سب سے قابل عمل ہے‘ اس کی تعمیر فوری طور پر شروع کی جاسکتی ہے۔ سیاستدان کالاباغ ڈیم پر سیاست کرنا چھوڑ دیں کیونکہ آج بجلی کا بحران کالاباغ ڈیم نہ بنانے کی وجہ سے ہی ہے۔