آزاد کشمیر میں کالعدم تنظیمیں پھر متحرک ہو گئیں: پولیس کی خفیہ رپورٹ

اسلام آباد (بی بی سی ڈاٹ کام) آزاد کشمیر پولیس نے ایک خفیہ رپورٹ میں حکومت کو خبردار کیا ہے کہ حالیہ چند ماہ سے کالعدم تنظیمیں ریاست میں دوبارہ سرگرم ہو گئی ہیں۔ بی بی سی کو حاصل شدہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارچ میں جماعۃ الدعوۃ نے مظفر آباد کے قریب دولائی میں 65 کنال اراضی کرائے پر حاصل کرکے اس پر درجن بھرعارضی مکانات‘ مسجد‘ سکول اور ڈسپنسری تعمیر کر لی ہے۔ مظفر آباد میں جماعۃ الدعوۃ اور مقامی افراد میں زمین کے تنازعے میں ایک شخص ہلاک بھی ہو چکا ہے۔ ایک مرتبہ حکام کی مداخلت کے باعث تصادم رکا تھا۔ رپورٹ کے مطابق کالعدم جیش محمد نے نالہ شنوائی میں دفتر اور مدرسہ جبکہ کالعدم لشکر طیبہ نے بھی یہاں مدرسہ قائم کر رکھا ہے۔ تنولیاں میں کالعدم حرکۃ المجاہدین نے دفتر اور مدرسہ بنایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سرکاری اہلکاروں کو ان مدرسوں میں جانے کی اجازت ہے نہ ہی یہ مدرسے زیر تعلیم بچوں کے کوائف مہیا کرتے ہیں۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ان تنظیموں نے مدرسوں کی آڑ میں جہادی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں اور ان کی سب سے زیادہ سرگرمیاں کنٹرول لائن کے ساتھ وادی نیلم میں دیکھی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کنڈی شاہی میں ان تنظیموں کے دفاتر انتظامیہ کیلئے درد سر بن گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق مقامی آبادی ان تنظیموں کی یہاں سے منتقلی کیلئے اصرار کر رہی ہے۔