”پروٹوتھیراپی“ طریقہ علاج پاکستان میں مقبول ہو رہا ہے

ڈاکٹر سہیل فاروق مگوں کی نوائے وقت سے گفتگو
پرولوتھیراپی انگریزی زبان کا لفظ ہے، یہ پرولیفریشن کا مخفف ہے جس کا مطلب تعداد بڑھانا، افزائش کرنا ہے، اس طریقہ علاج کا باقاعدہ آغاز1990ءمیں امریکہ سے ہوا۔ پاکستان میں اس کا آغاز ڈاکٹر سہیل فاروق مگوں نے 2006 میں کیا جس سے اب تک سینکڑوں مریض فیض یاب ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر سہیل فاروق مگوں گزشتہ چھ سال سے اس طریقہ علاج سے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہم نے ان سے اس طرےقہ علاج کے حوالے سے گفتگو کی جو نذر قارئےن ہے۔
ڈاکٹر سہیل فاروق مگوں نے بتایا ” پرولوتھیراپی پہلے صرف امریکہ میں ہوتی تھی۔ اب پاکستان میں بھی پرولوتھیراپی ہو رہی ہے۔ پرولوتھیراپی ایک ایسی تیکنیک ہے جس کے ذریعے جسم کے ناکارہ ٹشو کو دوبارہ پیدا یا ان کی نشوونما کر سکتے ہیں۔ ہڈیوں اور جوڑوں کو ترتیب سے مضبوطی کے ساتھ قائم رکھنے والے ریشوں کو Ligaments کہتے ہیں۔ اور جو ریشے مسلز (پٹھوں) کو ہڈیوں سے آپس میں جوڑے رکھتے ہیں۔ انہیں Tendons کہتے ہیں جوڑوں کا درد انہی ریشوں یعنی لگامنٹس اور ٹینڈان کے متاثر ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ پرولوتھیراپی سے” ریشوں کو دوبارہ مضبوط اور فعال بنا دیا جاتا ہے جس سے جوڑوں کا درد ختم ہوجاتا ہے۔ پرولوتھیراپی سے ریشوں کی مضبوطی اور افزائش عمل میں آئی ہے۔ پرولوتھیراپی سے انسانی جسم کے مدافعاتی نظام میں موجود گروتھ ہارمونز ریلیز ہوتے ہیں جو Ligaments اور Tendons کے دوران خون کو نہ صرف بہتر بناتی ہیں بلکہ ان کی تعمیر نو کےلئے انتہائی ضروری فائبروبلاسٹ بھی وافر مقدار میں فراہم کرتے ہیں۔“
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا ” ایک تحقیق کے مطابق پرولوتھیراپی کے بعد Ligaments اور Tendons ،35 سے 40 فیصد بڑے اور مضبوط ہو جاتے ہیں اور ان کی یہ افزائش ہی دراصل متاثرہ حصے میں درد کے خاتمے کا باعث بنتی ہے۔ پرولوتھیراپی کے لئے Ligaments اور Tendons کی جڑوں میں چھوٹے چھوٹے انجیکشن لگائے جاتے ہیں۔ اس کے ہر سیشن سے ریشوں کی نشوونما تقریباً دو ہفتے تک جاری رہتی ہے۔ اس لئے اگلے سیشن کا وقفہ ایک سے چار ہفتے تک ہوتا ہے۔ پرولوتھیراپی دو دو ہفتے کے وقفے کے بعد 4 سے 6 دفعہ تاہم کچھ کیسز میں مناسب وقفوں کے بعد اسے جاری رکھنا بھی پڑ سکتا ہے۔ پرولوتھیراپی گنٹھیا، ایڈز اور نفسیاتی مریضوں کے لئے مناسب طریقہ علاج نہیں تاہم کسی بھی عمر کے لوگ اس سے مستفید ہو سکتے ہیں اور اس کے نتائج مستقل ہوتے ہیں۔“
پرولوتھیراپی کی عالمی افادیت کے حوالے سے ڈاکٹر سہیل فاروق مگوں نے بتایا ” امریکہ میں دواﺅں کو منظور کرنے والے ادارے FDA (فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن) نے پرولوتھیراپی میں استعمال ہونے والے بے ضرر انجیکشن مثلاًLidocaine,pehnol,Glycerine,Dextroese,Saline وغیرہ کو مختلف مقاصد کےلئے منظور کیاہے۔“
PRP کے حوالے سے ڈاکٹر سہیل فاروق مگوں نے بتایا ” یہ پلیٹلیٹ رچ پلازمہ کا مخفف ہے پلازمہ ہمارے خون میں شامل ایک سیال جزو ہے۔ ہمارے خون میں صرف دس فیصد پلیٹ لیٹ ہوتے ہیں۔ PRP کے ذریعے پلیٹلیٹ کا تناست 90 فیصد تک بڑھایا جاتا ہے جب ہم ایک مناسب مقدار میں PRP حاصل کر کے گروتھ ہارمونز کو متاثرہ جگہ پر انجیکشن کے ذریعے پہنچا دیتے ہیں تو اس سے متاثر حصہ تیزی سے صحت مند ہو جاتا ہے۔ PRP بنیادی طور پر مریض کا اپنا ہی خون ہوتا ہے جو موڈیفائی ہونے کے بعد اس قابل ہو جاتا ہے کہ وافر مقدار میں ہارمونز بہم پہنچا سکے۔ یہ تکنیک جوڑوں کے درد سے تادیر نجات حاصل کرنے کیلئے نہایت موثر ہے۔ اس طریقہ علاج کو نہایت تیزی سے اپنایا جا رہا ہے۔ یہ گھٹنوں، کندھوں، کولہے، ریڑھ کی ہڈی، پاﺅں کے تلوے، پیٹ کے نچلے حصے کے اندرونی جوڑوں کے درد اور ان کی کمزوری، کمر گردن، کلائی، اسپورٹس انجریز ، کہنی ٹخنے کے کچھاﺅ اور جوڑوں کے مخصوص ریشوں یعنی Ligaments اور Tendons کے لئے بہترین طریقہ علاج ہے۔ بہت سے طبی شعبوں یعنی دل کے امراض سے لے کر ہڈیوں اور جوڑوں کے علاج کے علاوہ گنجے پن کا خاتمہ اور صحت مند ہونے کےلئے بہترین علاج سمجھا جاتا ہے۔“
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ” PRP کے طریقہ علاج سے مریض کے جسم سے 10cc سے 60cc تک خون سے 1 سی سی سے 6 سی سی تک PRP حاصل ہوتا ہے۔ PRP کے طریقہ علاج زیادہ تکلیف دہ نہیں ہوتا بلکہ قابل برداشت ہوتا ہے۔ جسم کے متاثرہ حصے پر PRP کا عمل ایک سے تین بار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس کا انحصار انجری پر بھی ہوتا ہے کہ انجری کتنی بڑی ہے اور کتنے عرصے سے موجود ہے بعض مرتبہ یہ عمل چوتھی مرتبہ بھی کیا جاتا ہے اور چار سے چھ ہفتے بعد دہرایا جاتا ہے۔ اس طریقہ علاج کے ذریعے مریض کے جسم کی چربی یا بون میرو یا خون سے لیبارٹری میں اسٹیم سیل علیحدہ کئے جاتے ہیں۔ اسٹیم سیل بنیادی طور پر انسانی جسم کے مختلف اعضاءکو دوبارہ صحت مند بنانے کی اہلیت ہوتی ہے۔“
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا ” اسٹیم سیل ٹیکنالوجی کو اکیسویں صدی کا علاج بھی کہا جاتا ہے۔ جس میں وہ تمام امراض جیسے گنٹھےا، کولہے، کی ہڈی لب لبا، دل کی نسیں، دماغ کے سیل اور اس سے متعلقہ پیچیدہ بیماریوں کا علاج جدید ترین بنیادوں پر ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس پر کام شروع کیا جا سکتا ہے۔ جوڑوں کے امراض اور دیگر کئی لا علاج سمجھی جانے والی بیماریوں کیلئے اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ “