گردشی قرضوں کی 28جون کو ادائیگی سے مالیاتی خسارے میں 16 فیصد اضافہ

اسلام آباد(آئی این پی) 322 ارب روپے کے گردشی قرضوں کی 28 جون کو ادائیگی کی وجہ سے 2012-13ءکے مالیاتی خسارے میں 16.1 فیصد اضافہ ہوگیا۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق 322 ارب روپے کے گردشی قرضوں کی مالی سال ختم ہونے سے دو روز قبل (28 جون 2013ئ) کو ادائیگی کی وجہ سے گذشتہ مالی سال کا مالیاتی خسارہ 2000 ارب روپے تک پہنچ گیا جوکہ جی ڈی پی کا 8.7 فیصد بنتا ہے اس کے برعکس حکومت اگر 322 ارب روپے کے گردشی قرضے یکم جولائی کو ادا کرتی تو مالی سال 2012-13ءکا مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 7.3 فیصد رہتا جبکہ مالیاتی خسارے کا مجموعی حجم 1678 ارب روپے رہتا۔ اس لحاظ سے 28 جولائی 2013ءکو گردشی قرضوں کی ادائیگی سے مالیاتی خسارے میں 16.1 فیصد اضافہ ہوا۔ اس حوالے سے اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی بجائے گردشی قرضوں کی ادائیگی یکم جولائی 2013ءکو کردیتی تو نئے قرضے کیلئے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں حکومت کو کافی آسانی رہتی اور ائی ایم ایف کے سامنے ملکی معیشت کی مقابلتاً بہتر تصویر پیش کی جاسکتی تھی جبکہ آئی ایم ایف کی اس حد تک کڑی شرائط سے بھی بچا جاسکتا تھا۔ دریں اثناءپیپلزپارٹی کے پانچ سالوں میں ڈالر 34 روپے اور نگران حکومت کے دور میں ڈالر کی قیمت ایک روپیہ بڑھی۔ اعدادو شمار کے مطابق موجودہ حکومت جسے اقتدر سنبھالے محض 54 روز ہی ہوئے ہیں اس دوران ڈالر کی قیمت 7 روپے بڑھ چکی ہے جوکہ اب بڑھ کر 103 روپے کا ہوگیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت نے 27 مارچ 2008ءکو اقتدار سنبھالا تھا تو اس روز ڈالر کی قیمت 63 روپے تھی اس کے برعکس 16 مارچ 2013ءکو جب پیپلزپارٹی نے اقتدار چھوڑا تو ڈالر 97 روپے کا تھا۔
مالیاتی خسارہ