برسات کی آمد.... آشوب چشم وبائی صورت اختیار کر لیتا ہے

فرزانہ چودھری
 یہ وائےرل انفیکشن ہفتے ڈیڑھ میں ٹھیک نہ ہو تو پیچیدگی اختیار کر لیتا ہے
٭....آشوب چشم پچھلے سال کی نسبت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پروفیسر ندیم حفیظ بٹ
٭.... سٹرین (Strain) کے باعث اس مرتبہ آشوب چشم زیادہ شدت سے آ رہا ہے۔
٭....آنکھ میں خارش اور سرخی ہوتو ڈاکٹر سے رجوع کریں اور مریض کی چیزیں الگ رکھیں۔
٭.... آشوب چشم میں آنکھوں کی ٹھنڈے پانی سے ٹکور کرنے سے آفاقہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد سہیل
٭.... آشوب چشم کے وائےرل انفیکشن کے بعد بیکٹریا انفیکشن نظر کو متاثرکرتا ہے۔ڈاکٹر ایوب
٭.... آشوب چشم کا بروقت علاج ضروری ہے کیونکہ بیکٹریا انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے
٭.... وائےرل انفیکشن کے بعد بیکٹریا انفیکشن ہونے سے آنکھ کی پتلی پر داغ پڑ جاتے ہیں: ڈاکٹر ایوب
٭....آشوب چشم کے مریضوں میں ایک فےصد مریض بیکٹریا انفیکشن سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ہارون
٭.... آشوب چشم میں سٹیرائیڈ کا زیادہ استعمال آنکھ میں کالے موتیے کا باعث بن سکتا ہے۔ ڈاکٹرہارون
٭.... آشوب چشم کے لئے پرہیز ضروری ہے ‘ یہ انفیکشن دوسروں کو آسانی سے متاثرہ کرتا ہے: ڈاکٹر ہارون
بظاہر آشوب چشم سے ٹھیک ہوئے مریض کو ایک ہفتہ مزید احتیاط کرنی چاہئے: ڈاکٹر ہارون
 آشوب چشم مےں انٹی بائےوٹک ڈراپس کا استعمال بےکٹرےا انفےکشن سے بچاو¿ کے لےے کرواےا جاتا ہے پروفےسر ڈاکٹر اسد اسلم
٭٭٭٭٭٭٭
کئی امراض ایسے ہیں جو موسم اورآب و ہواکے تبدیل ہوتے ہی انسان کو گھیر لیتے ہیں ان کو وائیرل انفیکشن کہا جاتا ہے۔ موسم برسات اور گرم آب و ہوا میں پروان چڑھنے والا آشوب چشم کا وائیرس حملہ آور ہو چکا ہے جو آہستہ آہستہ وباءکی شکل اختیار کر رہا ہے گو کہ آشوب چشم سے متاثرہ شخص کو ہونے والا وائیرل انفیکشن ایک ہفتے میں ختم ہو جاتا ہے مگر بے احتیاطی سے یہ دوسروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ آشوب چشم سے بچاﺅ ، اس کے علاج اور حتےاط کے بارے مےں اپنے قارئین کو آگاہ کرنے کے لئے ہم نے چند ایک معروف ماہر امراض چشم سے بات چیت کی ہے جو قارئین کی نذر رہے۔
 ماہر امراض چشم پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلم( ستارہ امتےاز) نے بتایا ”آشوب چشم کا وائیرل انفیکشن جولائی اوراگست کے مہنےے میں ہوتا ہے کیونکہ برسات کے بعد اس کا وائیرس نشو و نما پاتا۔ جسں سے آشوب چشم ہوتا ہے۔ ہمارے پاس میو ہسپتال میں روزانہ 25 کے قریب آشوب چشم کے مریض آ رہے ہیں۔ ہر سال برسات کے بعد آشوب چشم وبائی شکل اختیار کرتا ہے۔ جب کسی کو آشوب چشم ہو جائے تو ان کو اےنٹی بائیوٹک ڈراپس آنکھوں میں استعمال کرنے چاہئیں۔ اس کے علاوہ ٹھنڈے پانی کے چھینٹے انکھوں مےں ماریں ‘ گلاسز لگائیں‘ کسی دوسرے سے ہاتھ مت ملائیں۔ اپنی ذاتی استعمال کی اشیاءکودوسروں سے الگ رکھیں تاکہ کسی دوسرے کو اس کا انفیکشن نہ ہو۔ مرض کی شدت اور درد پےش نظرمرےض کو اےنٹی بائیوٹک ڈراپس اس لےے تجوےز کےے جاتے ہےں تاکہ مرےض کو آشوب چشم کے وائیرل انفیکشن کے بعد بیکٹریا انفےکشن نہ ہو کیونکہ یہ انفےکشن آنکھ مےں پیچیدگی پیدا کر تا ہے۔ اس لےے اےنٹی بائیوٹک ڈراپس کے استعمال کے بعد سیکنڈ انفیکشن کا خطرہ نہیں ہوتا۔ آنکھوں میں خارش ہو تو آنکھ کو ملیں مت کیونکہ ملنے سے آنکھ کا کارینا متاثر ہو سکتا ہے۔“
 ڈاکٹر اسد اسلم نے کہا” آشوب چشم کے مرےض کا تولےہ اور استعمال کے برتن اور چےزےں الگ ہونی چاہےں تاکہ گھر کے دےگر افراد کو اپنی لپےٹ مےں نہ لے سکے کےونکہ احتےاطی تدابےر سے اس وبائی مرض سے بچا اور اس پر قابو پاےا جاسکتا ہے۔ “
جناح ہسپتال آئی شعبہ کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر ندیم حفیظ بٹ نے بتایا” آشوب چشم بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پچھلے سالوں کی نسبت اس مرتبہ آشوب چشم کی وباءمیں شدت دیکھ رہے ہیں ۔ میرے پاس آشوب چشم سے متاثرہ کچھ مریض ایسے آئے ہیں جن کا وائیرل انفیکشن تو ٹھیک ہو گیا مگر ان کودھندلا نظر آنے لگا جب میں نے ان کی آنکھوں کا معائنہ کیا تو ان کی آنکھوں کی کالی پتلی پر داغ تھے جس کی وجہ سے ان کو دھندلا نظر آنے لگا۔ اس وائیرس کے داغ کو نیو مولر کیراٹیٹس کہتے ہےں ۔اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ اس سٹرین (Strain) کے باعث آشوب چشم زیادہ شدت سے آیا ہے۔
 آشوب چشم مےں آنکھوں کی صفائی کے ڈراپس اور برف سے آنکھوں کی ٹکور سے بھی آنکھ کی سرخی اور سوجن کم نہ ہو ےعنی دو تین دن بعد بھی فرق محسوس نہ ہو تو مستند ماہر امراض چشم سے رجوع کریں۔ لوگ عام طور پر آنکھوں کی صفائی کے لئے گلاب کا عرق استعمال کرتے ہیں‘ میں ان سے یہ ضرور کہوں گا کہ آنکھوں کے لئے ان قطروں کے استعمال سے پہلے اس کا ےقین ضرور کر لیں کہ یہ خالص گلاب کا عرق ہی ہے۔ آنکھوں کے معاملے میں احتیاط بے حد ضروری ہے۔ صفائی کا خاص خیال رکھےں ۔ جو لوگ موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں وہ چشمے اور ہلمنڈ کا استعمال ضرور کریں۔ یہ وائیرس ایسے علاقوں میں شدت اختیار کر رہا ہے جہاں پر صفائی ستھرائی کا معقول انتظام نہیں ہے۔ پوش علاقوں میں یہ وباءابھی تک کنٹرول دکھائی دے رہی ہے۔ ان علاقوں سے آشوب چشم کے آنے والے مریضوں کی تعداد روزانہ تین سے چار ہے۔ آشوب چشم کے مرےض کو اپنا تولیہ، رومال، صابن اور بستر الگ رکھنا چاہئے۔ بستر کی چادر روز تبدیل کرنی چاہئے۔ جوٹشو پیپر استعمال کریں وہ فوراً پھینک کر دےں۔“
 مغل آئی ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ایوب نے آشوب چشم کے حوالے سے بتایا ”آشوب چشم“ پچھلے سال کی نسبت بڑھ رہا ہے۔ روزانہ تین چار مریض آشوب چشم کے آ رہے ہیں۔ یہ انفیکشن پانچ سے پندرہ دن کے اندر خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اس میں مریض کو صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطائق آئی ڈراپس اور آنکھوں کی برف سے ٹکور کرنی چاہئے۔ باہردھوپ میں کالا چشمہ لگانا چاہئے۔ اس میں سب سے اہم ہاتھوں کی صفائی ہے۔ آئی ڈراپس جب بھی آنکھوں میں ڈالیں تو ہاتھ دھو لیں۔ آشوب چشم ایڈنو وائیرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ وائیرس عموماً ماحول میں موجود ہوتا ہے مگر برسات اور آب و ہوا میں نمی ، حبس اور گندگی کی وجہ سے نشو و نما پاتا ہے۔ اس وقت آشوب چشم سے5 سے 10 فیصد لوگ متاثر ہےں۔ آشوب چشم کی علامات میں آنکھ سے پانی بہنا‘ خارش ‘ آنکھوں میں سرخی‘ چبن‘ اور صبح اٹھتے ہیں تو آنکھوں کی پلکیں آپس میں چپکی ہوئی ہوتی ہیں۔ علامات کے ظاہر ہوتے ہی ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ مرض میں پیچیدگی پیدا نہ ہو کیونکہ اگر یہ مرض بگڑا جائے تو آنکھ کی پتلی( کارنیا) پر چھوٹے چھوٹے داغ پڑ جاتے ہیں۔ جس سے آنکھ مےں دھندلا پن آ جاتا ہے اور نظر بھی کمزورہو جاتی ہے کیونکہ آشوب چشم کے وائیرل انفیکشن کے بعد بیکٹریا انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے بیکٹریا انفیکشن ہونے سے آنکھ کی پتلی پر داغ پڑ جاتے ہیں۔ آشوب چشم مےں احتےاط، پرہےز اور صفائی بہتر کرےں اس مرض سے گھر کے باقی افراد محفوظ ہو جائےں گے۔ ہائی جےنک بہتر ہونے سے وائےرس لو گرےڈ رہے گا۔ “
الاحسان ویلفیئر ہسپتال کے ڈاکٹر ہارون نے پھیلتے ہوئے آشوب چشم کے بارے میں بتایا ”آج کل آشوب چشم کی وباءپھیل رہی ہے ہمارے پاس ہر روز پانچ سے چھ مریض علاج کے لئے آ رہے ہیں۔ آشوب چشم کا وائیرس ایڈنو سال میں دو مرتبہ یعنی بہار اور برسات کے موسم میں نشو و نما پاتا ہے اور حملہ آور ہوتا ہے جب موسم سخت سردی سے سخت گرمی کی طرف جاتا ہے تب اس وائیرس کا انفیکشن ہوتا ہے اگرگھر میں کسی کو آشوب چشم ہو جائے تو احتیاط کی بہت ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ مرض ایک سے دوسرے کو فوری اور بآسانی سے لگتا ہے۔ آنکھ کا درد کم کرنے کے لئے مریض کو Milt سٹیرائیڈ ‘ آنکھ کی سرخی میں decongestaion اور آنکھوں کی سوجن ختم کرنے کے لئے Lubricantes دوائی دی جاتی ہے۔ اس وائیرس کی اےنٹی بائیٹک دوائی نہیں ہوتی۔ 99 فیصد آشوب چشم کے مریض ایک سے ڈیڑھ ہفتے میں ٹھیک ہو جاتے ہیں جبکہ ایک فیصد ایسے بھی مریض ہوتے ہیں جن کو Adeno وائیرس کے بعد بیکٹریا انفیکشن ہو جاتا ہے جس سے آنکھ کی پتلی متاثرہ ہوتی ہے اور آنکھ کی کارنیا کی سطح پر چھوٹے چھوٹے داغ پڑ جاتے ہیں۔ حاملہ خواتین کے علاوہ شوگر اور کینسر کے مریضوں کو آشوب چشم ہو جائے تو ان کو سٹیرائیڈ کا استعمال کم استعمال کرنا چاہئے۔سٹیرائیڈ کے زیادہ استعمال سے کالا موتیا ہونے کا اندےشہ ہوتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ آشوب چشم بظاہر تو ٹھیک ہو جاتا ہے مگر اس کے باوجود مریض کو ایک ہفتہ تک احتیاط کرنی چاہئے۔ کیونکہ بے احتیاطی سے یہ انفیکشن گھر کے ان افراد کو متاثر کرسکتا ہے جن کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے۔“
پرائمری آئی کیر پروگرام آفیسرڈاکٹر شاہد سہیل نے بتایا ” آشوب چشم “ کی ابتدائی علامات میں آنکھ میں خارش اور پانی نکلنے کے ساتھ آنکھ سرخ ہو جاتی ہے دوسرے تیسرے دن آنکھ کی سرخی بڑھنے کے ساتھ اس میں درد اور سوجن ہو جاتی ہے۔ اس لئے جب آنکھوں میں خارش محسوس ہو اور پانی بہنے لگے تو فوراً آنکھوں میں ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ماریں اپنا تولیہ الگ رکھےں چشم ضرور لگائیں۔ انشاءاللہ دوچار دن مےں آپ آشوب چشم مےں افاقہ محسوس کرےں گے۔ یہ موسمی وائیرس ہے ۔ ان دنوں برسات کا موسم ہے اور آشوب چشم کی وباءبھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ مختلف سرکاری اور پرائیویٹ کلینک اور ہسپتالوں میں دن بدن اس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔ اس وبائی مرض سے بچنے کے لئے صفائی کا خاص خیال خاص رکھیں اگرگھر میں کسی فرد کوآشوب چشم ہو چکا ہے تو اس کا تولیہ اور استعمال کے برتن اور دیگر استعمال کی چیزیں الگ رکھیں تاکہ گھر کے دوسرے لوگ اس وبائی مرض سے متاثر نہ ہوں۔ برسات کے موسم مےںصفائی کا خاص خےال رکھنا چاہےے کےونکہ برسات مےں حبس ، گرمی اور گندگی کے باعث آشوب چشم کا وائےرس پھےلتا ہے“