حکومت ڈرون حملے روکے‘ صلیبی جنگ سے نکلے‘ طالبان سے مذاکرات کئے جائیں : ختم نبوت کانفرنس

چنیوٹ (نامہ نگار) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام مرکز ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں منعقدہ دو روزہ ”آل پاکستان سالانہ ختم نبوت کانفرنس“ ناموس رسالت اور تحفظ ختم نبوت کے لئے تجدید عہد اور حرمین شریفین کے تحفظ کی رقت آمیز دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔ کانفرنس کی مختلف نشستوں سے خطاب میں مقررین نے کہا کہ قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے سے ارتدادی ایوان لرزہ براندام ہو گئے۔ امپورٹڈ خلیفہ مرزا مسرور ”ایم ٹی اے“ چینل پر حواس باختگی کے عالم میں ارکان پارلیمنٹ کو بازاری زبان میں تنقید کا نشانہ بنارہا ہے حالانکہ مرزائیوں کو غیرمسلم قرار دینے کے مطالبے نے علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے افکار کی روشنی میں مسلمانوں میں پذیرائی حاصل کی۔ عقیدہ¿ ختم نبوت کے ارد گرد پوری ملت وشریعت اور پوری انسانیت گھومتی نظر آتی ہے۔ سول اور فوج کی کلیدی آسامیوں پر فائز قادیانی ملکی سلامتی استحکام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ ملکی سلامتی کو طالبان نہیں انڈیا کے قادیان سے شدید ترین خطرہ ہے۔ مقررین نے کہاکہ علماءپر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ عقیدہ¿ ختم نبوت اور اسلام کے بنیادی عقائد وتعلیمات سے نوجوانوں کے لئے تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کریں اور تمام قادیانی مصنوعات کے بائیکاٹ پر مسلمانوں کو آمادہ کریں اور معروضی حالات کے پیش نظر قادیانیت کے طریقہ واردات کا فہم وادراک کرتے ہوئے جدید اور قدیم انداز میں فتنہ¿ قادیانیت کا محاسبہ کریں۔ مختلف نشستوں کی صدارت پیر ناصر الدین خاکوانی، مولانا عبداﷲ، پیرجی عبدالحفیظ رائے پوری، مولانا عبدالغفور، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد، حاجی عبدالرشید مولانا عبدالمجید لدھیانوی نے کی۔ مولانا فضل الرحمن، مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا عزیزالرحمن جالندھری، مولانا اﷲ وسایا، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا اعجاز مصطفی کراچی، مولانا عبدالمالک، سید ضیاءاﷲ شاہ بخاری، علامہ زبیر احمد ظہیر، ڈاکٹر عبدالسمیع، مولانا امجد خان، مولانا مفتی کفایت اﷲ، مولانا رشید احمد لدھیانوی، مولانا مفتی محمدعثمان، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا عبدالحمید ل±نڈ، ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی، مولانا محمد ایوب خان ڈسکوی، حافظ مبشر محمود، مولانا الیاس گھمن، ڈاکٹر دین محمد فریدی اور سید سلمان گیلانی نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ یہودیت کی طرح قادیانیت کا وجود بھی سراپہ سازش اور اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کا خطرناک منصوبہ ہے۔ فضل الرحمن نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل ڈرون حملوں کو جنگی جرائم قرار دے چکی ہے۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کو بھی ڈرون حملوں کے خلاف سخت نوٹس لینا ہو گا۔ طالبان سے مذاکرات میں تاخیری حربے ملک کو تباہی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہیں۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ مسلمان عملی اعتبار سے کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو حرمت رسولﷺ پر کٹ مرنے کو سعادت دارین تصور کرتا ہے۔ مولانا سید ضیاءاﷲ شاہ بخاری نے کہا کہ ہماری فکری و نظریاتی اور بے حسی کا عالم یہ ہے کہ سیکولر لابی میڈیا اور بیوروکریسی میں اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑ کر دینی مدارس، نظریہ پاکستان اور اسلامی سزاﺅں کے خلاف شرمناک کردار ادا کر رہی ہےں۔ علامہ زبیر احمد ظہیر نے کہا کہ امتناع قادیانیت ایکٹ پر عملدرآمد نہ کروانا قانون نافذ کرنے والوں کی غفلت اور آئین سے سنگین مذاق ہے۔ ڈاکٹر عبدالسمیع نے کہا کہ مرزا قادیانی نے مالی مفادات کے حصول کیلئے خادم اسلام کا روپ دھار کر بہشتی مقبرے کا ڈھونگ رچایا، مفتی کفایت اﷲ نے کہا کہ قادیانیت کا فتنہ یورپی ممالک کا تربیت یافتہ ، اسرائیل کا ایجنٹ اور صیہونی قوتوں کے سیاسی مفادات کیلئے پیدا کیا گیا۔ مولانا میاں محمد اجمل قادری نے کہا کہ قادیانیوں کا حرمین شریفین میں داخلہ روکنے کے لئے ضروری ہے کہ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈوں میں مذہب کے خانہ کا اضافہ کیا جائے تاکہ مسلم اور غیرمسلم کی شناخت میں آسانی ہو سکے۔ مولانا امجد خان نے کہا کہ پاکستان میں افغانستان جیسی صورتحال پیدا کرنے کے لئے آئی ایس آئی پر الزامات لگائے جارہے ہیں۔ مفتی محمد طیب نے کہا کہ قادیانی دین اسلام اور پاکستان کے خلاف مسلسل سازشوں میں مصروف ہیں۔ مولانا عبدالحمید ل±نڈ نے کہا کہ سامراجی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں اپنی صفوں میں نظم ونسق اور اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی نے کہا کہ اقلیتی استحصالی اور جاگیرداری کے بدبودار نظام نے ملکی استحکام کو خطرے میں ڈالا ہوا ہے۔ مولانا محمد الیاس گھمن نے کہا کہ میڈیا اسلام مخالف قوتوں کو اہمیت دیتا ہے۔ ڈاکٹر دین محمد فریدی نے کہا کہ ختم نبوت کی پاسبانی کرنے والوں پر اﷲ تعالیٰ کی خاص رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ کانفرنس سے مولانا عبدالوحید قاسمی، مولانا نورالحق، مولانا مفتی محمدطیب، قاری محمد عثمان مالکی، قاری احسان اﷲ فاروقی، مولانا احمد حسن عباسی، مولانا مجیب الرحمن قریشی، مولانا مسعود احمد سومرو، مولانا عبدالرشید سیال، مولانا محمد ریاض، مولانا مختار احمد، مولانا محمدخالد، مولانا محمد عارف، مولانا محمد قاسم، مولانا محمد زاہد وسیم، مولانا محمدطیب فاروقی، مولانا مفتی محمدخالد میر، مولانا عبدالرزاق مجاہد، مولانا محمد انس، مولانا محمد احمد بہاولپوری، مولانا محمد شاہد، مولانا محمد امین، مولانا محمد الیاس، مولانا محمد اقبال، مولانا شفیق الرحمن سمیت متعدد علمائے کرام اور دینی جماعتوں کے رہنماﺅں نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں منظور کی گئی قراردادوں میں کہا گیا ہے کہ یہ اجتماع جرمنی کی وفاقی ریاست ہیسن میں قادیانی جماعت کو ریاستی سطح پر دی گئی قانونی حیثیت کے خلاف جرمن حکومت سے شدید احتجاج کرتا ہے حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستانی سفارتخانے کے ذریعے جرمن حکومت کو قادیانیوں کی اسلام وملک دشمن سرگرمیوں سے آگاہ کیا جائے۔ یہ اجتماع ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف انسانیت سوز مظالم کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔ پرویز مشرف سمیت ان تمام افراد کو عدالت کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ اجتماع طالبان سے مذاکرات اور ڈپلومیسی طریقہ کار کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ملکی استحکام اور سلامتی کے لئے قوم کو صلیبی جنگ سے باہر نکالا جائے۔ یہ اجتماع پاکستانی حدود میں ہونے والے ڈرون حملوں کو پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کے خلاف سمجھتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ڈرون حملوں کو روکنے کے لئے تمام تقاضوں کو پورا کیا جائے، ملک میں ہونے والی دہشت گردی، قتل وغارت، اغوا و ڈکیتی اور افراد کے لاپتہ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے، یہ اجتماع ملک میں ہونے والی دہشت گردی اور تخریبی کاروائیوں میں قادیانیوں کے کردار کو شک وشبہات کی نگاہ سے نہیں بلکہ حق ویقینی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں مرتد کی شرعی سزا کے اجراءونفاذ کا فی الفور اعلان کیا جائے۔ کانفرنس کا یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ قادیانی اسلحہ بردار اور ڈیتھ سکواڈ دہشت گرد تنظیمیں خدام الاحمدیہ، انصار اﷲ، لجنہ اماءاﷲ، تحریک جدید اور تنظیم اطفال الاحمدیہ پر مکمل طور پر پابندی عائد کی جائے۔ ملک کا اسلامی ونظریاتی تشخص برقرار رکھنے کے لئے تعلیمی نصاب میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت پر مشتمل اسباق شامل کئے جائیں۔
ختم نبوت کانفرنس