’’وسائل کی متنازع تقسیم‘‘ حکومت ہمیشہ این ایف سی ایوارڈ کے اعلان میں مشکلات کا شکار رہی

لندن (نیٹ نیوز) پاکستان میں قومی وسائل کی تقسیم کا کوئی متفقہ فارمولا نہیں ہے جس وجہ سے قومی مالیاتی کمشن کے اعلان میں وفاقی حکومت ہمیشہ مشکلات کا شکار ہی رہی ہے۔ صوبوں کے مابین وسائل کی تقسیم پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اور اب حکومت کا کہنا ہے کہ اس سال این ایف سی کا اعلان ضرور کر دیا جائے گا۔ بی بی سی کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکز صوبوں کو زیادہ وسائل دینا نہیں چاہتا‘ پنجاب آبادی کی بنیاد پر ہی وسائل کی تقسیم چاہتا ہے اور باقی تین صوبے ٹیکسوں کی وصولی‘ پسماندگی اور غربت کو فارمولے کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ آخری قومی مالیاتی کمشن کا اعلان 1996-97ء میں کیا گیا تھا اور یہ اعلان ہر پانچ سال بعد کرنا ہوتا ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں صرف ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جو ماہرین کے مطابق آئینی طور پر باقاعدہ این ایف سی ایوارڈ نہیں کہا جا سکتا۔ اس بارے میں صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے سابق سیکرٹری ترقیاتی و منصوبہ بندی فضل اللہ قریشی نے کہا مجھے امید نہیں ہے کہ اس مرتبہ بھی وفاقی حکومت یہ مسئلہ حل کر پائے گی۔ صورتحال جوں کی توں ہی رہے گی۔ اگر آبادی کی بنیاد پر نوے فیصد وسائل تقسیم کئے جائیں اور باقی دس فیصد پسماندگی‘ غربت اور ٹیکسوں کی وصولی کی بنیاد پر تقسیم ہوں تو اس سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ سنیٹر حاجی محمد عدیل نے کہا کہ پچاس فیصد آبادی اور باقی وسائل غربت‘ پسماندگی اور ٹیکسوں کی وصولی کی بنیاد پر تقسیم کئے جا سکتے ہیں۔ اگر سندھ ٹیکسوں کی وصولی کو اپنا ایک مطالبہ سمجھتا ہے تو سرحد اور بلوچستان کا اس میں کیا قصور ہے کہ وہاں وفاقی حکومت نے بڑے منصوبے قائم ہی نہیں کئے جن کی بنیاد پر ان دونوں صوبوں میں ٹیکس کی وصولی ہوتی۔