سپریم کورٹ کا فیصلہ، شریف برادران نااہل، پنجاب حکومت تحلیل کردی گئی

سپریم کورٹ کا فیصلہ، شریف برادران نااہل، پنجاب حکومت تحلیل کردی گئی

سپریم کورٹ نے میاں برادران اہلیت کیس میں سابق وزیراعظم اورمسلم لیگ نون کے قائد میاں محمد نواز شریف اور ان کے بھائی وزیر اعلیٰ پنجا ب میاں محمد شہباز شریف کو نااہل قرار دے دیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے جسٹس موسیٰ خیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپنے مختصر فیصلے میں میاں برادران کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نا اہل قرار دیتے ہوئے تمام درخواستیں خارج کردیں۔ عدالت نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی انتخابی کامیابی کانوٹیفکیشن کالعدم قراردیتے ہوئے ان کی پنجاب اسمبلی کی رکنیت منسوخ کردی، اس فیصلے کے ساتھ ہی شہبازشریف وزیر اعلیٰ پنجا ب نہیں رہےاور ان کی بھکر سے نشست اب خالی ہوگئی ہے۔ آج اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ نے سپریم کورٹ میں اپنے دلائل میں کہا کہ شریف برادران اہلیت کیس میں چیف سیکرٹری اور سپیکر پنجاب متاثرہ فریق نہیں۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ تمام ججوں نے آئین کے تحت حلف اٹھا رکھا ہے، عبوری آئین کا حلف غیر متعلقہ بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے تجویزو تائید کنندہ اس وقت فریق بن سکتے جب عدالت انہیں اجازت دے۔ تجویز اور تائید کنندہ کا فریق ہونا ضروری نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالتی بینچ کی دستبرداری کا فیصلہ جج کی صوابدید پرہوتا ہے اسے کوئی دستبردار ہونے کی ہدایت نہیں کرسکتا۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد کچھ دیر کا وقفہ دیا گیا اور بعد میں شریف برادران اہلیت کیس نمٹاتے ہوئے تین رکنی بنچ نے نواز شریف اور شہباز شریف کونااہل قراردیا۔ فیصلے کے موقع پر مسلم لیگ نواز کے کارکنان کی بڑی تعداد سپریم کورٹ کے باہر موجود تھی جو شریف برادران کے حق میں نعرے بازی کرتی رہی۔ سپریم کورٹ نےانتخابی اہلیت کے حوالے سے کیس کی سماعت گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری رکھی ہوئی تھی جبکہ گزشتہ ایک ماہ سے روزانہ سماعت کی جا رہی تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل ہی اسلام آباد میں سکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی تھی۔ جناح ایونیو،راول ڈیم اور شاہراہ کشمیر پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی۔