مسئلہ کشمیر : پاکستانی حکام دس بار انگوٹھا ثبت کردیں تو بھی موقف کے برعکس حل قبول نہیں کریں گے : علی گیلانی

سری نگر (کے پی آئی ) کل جماعتی حریت کانفرنس چیئر مین سید علی گیلانی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ حق خودارادیت کے بغیر کوئی حل قابل قبول نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا”ہندوستان اور پاکستان آپس میں مل کر کوئی بھی حل کشمیر کا نکالیں ،چاہئے اس پر پاکستانی حکمرانوں نے دس دس انگوٹھے ثبت ہوںتاہم موقف کے خلاف کوئی بھی حل قبول نہیں ہوگا“ ۔ انہوں نے کہا ”کچھ لوگ منموہن سنگھ سے مذاکرات کی بات کرتے ہیں ،انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ 23مارچ1952سے اب تک130سے زائد بار مذاکرات ہوئے ہیں تاہم ان مذاکرات کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے“۔ حریت سربراہ نے کہا کہ”ہم بات چیت کے خلاف نہیں ،بات چیت کے ذریعے بھی مسائل حل ہوسکتے ہیں لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ بھارت واضح طور کشمیر کی متنازعہ حیثیت قبول کرنے کے علاوہ ریاست سے مکمل فوجی انخلاء،کالے قوانین کا خاتمہ اور تمام قیدیوں کی رہائی عمل میںلائے ۔ سرےنگر کے ہوٹل مےں ”مردم شمار اور رےزروےشن بل، مستقبل کو تارےخ بنانے کے اقدامات “کے عنوان سے منعقدہ سمےنار سے خطاب کرتے ہوئے سید علی گیلانی نے کہا کہ کچھ لوگ مجھے اس بات کر قائل کر رہے ہےں کہ شرائن بورڈ تحرےک2008ہڑتال واپس لےنے سے کمزور پڑ گئی لےکن مےں انہےں ےہ بتانا چاہتا ہوں کہ جن لوگوں نے اس تحرےک مےں آزادی کے حق مےں نعرہ لگاےا انہوں نے ہی بعد مےں الیکشن کا بگل بجتے ہی بجلی اور سڑکوں کا نعرہ بلند کرکے ووٹنگ مےں حصہ لےا جس سے عوامی جوش ٹھنڈا پڑ گےا۔