بھارتی فوج ماو نوازوں کیساتھ تصادم میں بچوں کو تحفظ دے: ہیومن رائٹس واچ

نیویارک (ثناءنیوز ) انسانی حقوق تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت فوج اور ماﺅ نواز علیحدگی پسندوں کے مابین تصادم میں بھارت کو بچوں کے تحفظ کے لئے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ تنظیم نے یہ معاملہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی جاری کردہ ایک رپورٹ کی بنیاد پر اٹھایا ہے ۔ سلامتی کونسل کو پیش کی گئی سیکرٹری جنرل کی رپورٹ میں بھارت میں طویل عرصہ سے جاری ماﺅ نوازوں کے ساتھ تصادم کا پہلی بار ذکر ہوا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ بھارت کے ماﺅ نوازوں کے خلاف مہم کے لئے سکولوں پر قبضہ کرنے کی ریاستی حکومتوں کی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہئے ۔ حقوق انسانی تنظیم نے ماﺅ نوازوں سے بھی کہا ہے کہ وہ بچوں کی بھرتی اور انہیں استعمال کرنا اور اسکولوں پر حملے کرنا بند کردیں ۔ ہیومن رائٹس واچ میں بچوں کے حقوق پرکام کرنے والے بیڈے ٹیپرڈ نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت میں سلامتی دستے اور ماﺅ نواز دونوں بچوں کا استحصال کر رہے ہیں اور انہیں نقصان پہنچا رہے ہیں ان کے تعلیمی اداروں کو تباہ کر رہے ہیں ۔ جس سے ان کی زندگی پر منفی اثر پڑے گا ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ اس المناک صورت حال کی طرف بین الاقوامی برادری کی توجہ مبذول کرائے گی ۔
سیکرٹری جنرل کی رپورٹ میں اس کاذکر ہے کہ کس طرح سے ماﺅ نواز لڑکے اور لڑکیوں کی بھرتی کر رہے ہیں اور منظم طریقے سے سکولوں اور سرکاری عمارتوں کو تباہ کر رہے ہیں تاکہ مقامی باشندوں میں خوف پیدا کیا جا سکے ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سرکاری سیکورٹی فورسز چھتیس گڑھ اور جھار کھنڈ میں سکولوں پر قبضہ کر رہی ہیں ۔ 2009 ءمیں سلامتی دستوں نے اس طرح سے بہار اوربنگال میں سکولوں پر قبضہ کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل عالمی سطح پر بھارت کی امیج کو خطرے میں ڈال رہا ہے ۔ انسانی حقوق ادارے نے بتایا ہے کہ جھاڑ کھنڈ میں 36 اور بہار میں16 سکولوں کو ماﺅ نوازوں نے نذر آتش کر دیا ۔ ایسے واقعات بھی ہیں کہ سیکورٹی فورسز نے مہم کے دوران سکولوںپر قبضہ کر لیا ہے۔ اس رپورٹ پر سلامتی کونسل میں جون میں بحث کی جائے گی ۔ انسانی حقوق تنظیم نے کہا ہے کہ ماﺅ نوازوں نے 6 سے 12 سال عمر کے بچوں کی تنظیمیں بنائی ہیں ۔ جنہیں بال سنگم کا نام دیا گیا ہے انہیں مخبروں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ 12 سال کے بعد بچوں کو بندوق چلانے اور بارودی سرنگ دھماکوں کی بھی تربیت دی جا رہی ہے ۔ مسلح گوریلا سکواڈ میں شامل بچے سیکورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی میں استعمال کئے جا رہے ہیں۔