صوبے متاثرین آپریشن کیلئے دروازے کھولیں‘ آئین کی خلاف ورزی نہ کریں‘ خیبر پی کے اسمبلی کی متفقہ قرارداد

پشاور (اے پی پی) خیبرپی کے اسمبلی نے ایک متفقہ قراردادکے ذریعے وزیرستان آپریشن کے متاثرین کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پنجاب سمیت تمام صوبوں پر زور دیا ہے وہ ان متاثرین کیلئے اپنے دروازے کھولیں اور انکی مشکلات اور قربانیوں کے پیش نظر انکے کھانے پینے اور رہائش کیلئے مناسب اقدامات کئے جائیں۔ متفقہ قرارداد اپوزیشن لیڈر مولانا لطف الرحمن، قومی وطن پارٹی کے سکندر حیات شیرپائو، جماعت اسلامی کے محمد علی، مسلم لیگ (ن) کے سردار اورنگزیب، پی پی کے محمد علی شاہ  اور تحریک انصاف کے شوکت علی یوسفزئی نے ایوان میں پیش کی۔ قرارداد میں ان اطلاعات پر افسوس کا اظہار کیاگیاکہ بعض صوبوں نے متاثرین آپریشن کے داخلے پر پابندی عائد کی ہے جو آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔ قرارداد میں کہاگیا چونکہ فاٹا پاکستان کا حصہ ہے اسلئے وہاں سے آنیوالے متاثرین کا تمام صوبوں پریکساں حق ہے۔ قرارداد میں کہا گیا خیبر پی کے  اسمبلی قبائلی عوام کی عظیم قربانیوں کو مدنظررکھتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ مزید برآں خیبر پی کے اسمبلی نے 58 مطالبات زر پر مشتمل 404 ارب 80 کروڑ 50 لاکھ روپے کے بجٹ کی منظوری دیدی۔ اپوزیشن ارکان نے داخلہ، جیل خانہ جات پولیس اور عدل و انصاف کے متعلق امور پر شدید تنقید کی۔ اپوزیشن کی جانب سے جے یو آئی کے اعظم درانی نے کہا محکمہ داخلہ تاحال بھتہ خوری کے خاتمے کیلئے ناکام ہو چکا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ستار خان نے کہا 2002ء میں پبلک سیفٹی کمیشن جس مقصد کیلئے بنایا گیا تھا وہ اپنی افادیت کھو چکا ہے اور پبلک سیفٹی کمیشن خزانے پر ایک بوجھ ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا انہیں خود پبلک سیفٹی کمیشن کا پتہ نہیں یہ خزانے پر بوجھ ہے تو اسے ختم کردیا جائیگا لیکن اس سے کچھ کام لیا جا سکتا ہے تو اسے دوبارہ فعال کیا جائیگا۔ بعد میں سینئر صوبائی وزیر سراج الحق نے فنانس بل پیش کیا جس میں اپوزیشن نے مختلف ترامیم پیش کی تھیں تاہم حکومت نے عددی اکثریت کی وجہ سے انہیں مسترد کیا۔
خیبر پی کے اسمبلی