لاہور ہائیکورٹ، فیضان اورفہیم کے لواحقین کی گمشدگی، سی سی پی او لاہور نےلاعلمی ظاہر کردی، ہوم سیکرٹری سے چارروز میں جواب طلب کرلیا گیا ۔

ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے موقع پر فیضان اورفہیم کے انیس لواحقین کی گمشدگی پر ایڈوکیٹ منصف اعوان نے لاہورہائی کورٹ نے درخواست دائرکی تھی جس کی سماعت لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس چوہدری افتخارحسین نے کی۔ سی سی پی او لاہوراسلم ترین نے عدالت میں پیش ہو کر لواحقین کے حوالے سے دو صفحات پر مبنی رپورٹ عدالت میں پیش کی ۔ جس میں کہا گیا کہ فیضان اور فہیم کے لواحقین کے گھروں کو تالے لگے ہوئے ہیں اور انکے محلہ دار معلومات دینے سے گریزاں ہیں ۔ سی سی پی او کی رپورٹ پرعدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے درخواست گزار کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے تاہم پولیس نے اسے سنجیدہ نہیں لیا ۔ اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ دیت کی رقم لینے کے بعد فیضان اور فہیم کے خاندان والے آزاد تھے اور انکا آئینی حق ہے کہ وہ جہاں مرضی جائیں ۔ انہوں نے بتایا کہ درخواست گزارمتاثرہ فریق نہیں جس پر ریمارکس دیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس افتخار حسین چودھری نے قراردیا کہ درخواست گزار فیضان اورفہیم کے لواحقین کے وکیل ہیں ، ہو سکتا ہے کہ لواحقین نے ان کی فیس ادا نہ کی ہو۔ جس کے بعد فاضل عدالت نے ہوم سیکرٹری پنجاب سے چار روز میں جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت اٹھائیس مارچ تک ملتوی کردی ۔ لاہورہائی کورٹ میں اس کیس کی مبینہ مس ہینڈلنگ کے خلاف بھی ایک درخواست دائر کی گئی ہے۔ جسٹس افتخارحسین چودھری نے درخواست کو سماعت کے لیے منظورکرتے ہوئے اسسٹنٹ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کو انتیس مارچ کے لیے نوٹس جاری کردیا۔