پشاور: سکول گیٹ پر رکھے پھولوں، موم بتیوں سے غمگین والدین کے حوصلے بڑھتے ہیں

پشاور (بی بی سی) طالبان کے ہاتھوں پشاور کے آرمی پبلک سکول کے بچوں کے قتل عام کے بعد ہلاک اور زخمی کئے جانے والے بچے اور ان کے خاندان کے افراد مختلف قسم کے جذبات سے گزر رہے ہیں۔ یہ جاننے کیلئے کہ اس سکول میں قتل عام ہوا ہے، آپ کو سکول کے آڈیٹوریم میں جا کر اسکے در ودیوار پر جمے ہوئے بے شمار خون کو بھی دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ آپ جیسے ہی سکول میں داخل ہوتے ہیں، آپکو خون کی بدبو اور وہاں سکتے کے عالم میں کھڑے والدین کے چہرے اور اپنے بچوں کی چیزوں کو گھورتی ہوئی آنکھیں یہ بتانے کیلئے کافی ہیں کہ گذشتہ منگل یہاں کتنی بڑی تباہی پھیلائی گئی تھی۔ سکول کے ہال میں کرسیوں اور ڈیسکوں کی ہر ایک قطار اسی بربریت کی کہانی سنا رہی ہے۔ جدھر نظر اٹھتی ہے آپ کو خون آلود کتابیں، گولیوں کی بوچھاڑ سے فرار ہونے کی کوشش میں پاو¿ں سے نکل جانے والے بچوں کے جوتے اور بکھرے ہوئے خون کے دھبوں والے کاغذ دکھائی دیتے ہیں جن پر بچوں نے اپنا ہوم ورک کیا ہوا ہے۔ ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں 13 سالہ سعید کے گھر والے اسکے بستر کے ساتھ ایک بینچ پر بیٹھے تھے۔ سعید ابھی تک سنبھل نہیں پایا تھا اور جو اس نے دیکھا اسکے بارے میں بات نہیں کر پا رہا تھا۔ سعید کی والدہ کا نام ناہیدہ ہے اور وہ آرمی پبلک سکول میں ہی پڑھاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا جوں ہی حملہ ہوا سعید ایک کرسی کے نیچے چھپ گیا اور وہاں سے فون کیا۔ مجھے ایک ایک آواز صاف سنائی دی رہی تھی۔ میرے بیٹے نے کہا ’مجھے گولی لگ گئی ہے، آئیں اور مجھے یہاں سے نکالیں“ لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں اس تک کیسے پہنچوں، میں بتا نہیں سکتی میری کیا حالت تھی۔ ان والدین میں اس 14 سالہ عبداللہ کے گھر والے بھی شامل ہیں جسے حملہ آوروں نے چہرے پر گولی مار کر ہلاک کیا۔ عبداللہ کے انکل نے کہا: ’وہ بہترین طالبعلم تھا، اسے پرندے بہت پسند تھے۔ گھر پر بھی اس نے پرندوں کا ایک جوڑا رکھا ہوا تھا۔ ایک پرندے نے کچھ ہی دن پہلے انڈے دئیے تھے۔ وہ دن گن رہا تھا کہ کب انڈوں سے چوزے نکلیں گے لیکن اس سے پہلے وہ خود ہی چلا گیا۔ منگل کے بعد ہر آنے والے دن میں سکول کے گیٹ پر جمع ہونے والے ہجوم میں اضافہ ہوتا گیا۔ بہت جلد ہی سکول کے گیٹ ایک مزار کا منظر پیش کر رہے ہیں جہاں جا بجا گلاب اور گیندے کے پھول، موم بتیاں اور مختلف پیغامات لکھے ہوئے پلے کارڈ پڑے ہوئے ہیں۔ ان کارڈوں پر لکھے ہوئے پیغامات میں دکھ کا اظہار بھی ہے اور مارے جانے والوں کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم بھی۔ ’چھوٹے جنازے سب سے زیادہ بھاری جنازے ثابت ہوتے ہیں۔‘ ’میرا بیٹا میرا خواب تھا۔ میرا خواب کو گولی مار کے ہلاک کر دیا گیا۔‘ قریب ہی آرمی پبلک سکول کے نوجوان طلبا کا ایک گروہ کھڑا تھا۔ یہ لوگ اپنا سکول یونیفارم پہنے ہوئے تھے۔ ایک سینئر طالبعلم عاطف عظیم نے جو کوٹ پہنا ہوا تھا اس پر ابھی تک خون کے دھبے لگے ہوئے تھے۔ یہ طالبعلم خود تو حملے میں بچ گئے لیکن انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے کئی ساتھیوں کو گولیاں کھا کر زمین پر گرتے دیکھا۔ میں ایک جنازے سے دوسرے جنازے میں گیا۔میں دو دن سے نہیں سو پایا۔ طالبعلم سے پوچھا گیا کہ سب کچھ دیکھنے کے بعد دوبارہ سکول جائے گا تو اس نے بتایا کہ ”اسی لئے تو میں آج یونیفارم پہن کر آیا ہوں“ اس نے کہا کہ جنہوں نے یہ حملہ کیا ان کیلئے یہ ایک پیغام ہے تم مجھ سے میرے دوست چھین سکتے ہو، تم مجھ سے میرے استاد چھین سکتے ہو لیکن میں آج بھی اپنا یونیفارم پہنے یہاں کھڑا ہوں میں سکول واپس جاﺅں گا۔
پھول/ موم بتیاں