شیوسینا کا مساجد میں لاوڈ سپیکروں کے استعمال پر بھی پابندی لگانے کا مطالبہ

ممبئی + لاہور (اے این این + خصوصی نامہ نگار + لیڈی رپورٹر) بھارت میں ہندو انتہاءپسند تنظیم ” شیوسینا “نے مسلم خواتین کے برقعہ پہننے پرپابندی کے بعد اب مساجد میں لاﺅڈ سپیکروں کا استعمال روکنے کا مطالبہ کر تے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ اذان کی آواز سے لوگوں کی نیند اور بچوں کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے۔ ادھر مذہبی رہنماوں نے خواتین کے برقعہ پہننے پر پابندی کے مطالبے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بال ٹھاکرے کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پہلے اپنے مذہب میں موجود خامیوں پر نظر ڈالیں اور پھر دوسروں کو نصیحت کریں۔ شیوسینا کا مطالبہ دہشت گردی اور اسلام دشمنی ہے‘ دعویٰ نے سیکولر بھارت کا دعویٰ بے نقاب کر دیا ہے‘ مطالبے کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ بھارتی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے نے تنظیم کے ترجمان اخبار ”سامنا“ کے اداریے میں تحریر کیا کہ مساجد میں نصب لاﺅڈ سپیکروں کا استعمال لوگوں کےلئے پریشانی کا باعث بنتا ہے اس لئے لاﺅڈ سپیکروں کے استعمال کو روکا جانا چاہئے۔ دوسری جانب بھارتی علما مولانا ظہیر عباس رضوی‘ مولانا مستقیم اعظمی نے خواتین کے برقعہ پہننے پرپابندی سے متعلق بال ٹھاکرے مطالبے کو سیاسی دکان چمکانے کا ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ برقعہ پہننا ایک شرعی حکم ہے اس سلسلہ میں کسی کی بات سنی نہیں جائے گی۔ سید منور حسن نے کہا ایسے انتہا پسندانہ بیانات سے بھارت کا نام نہاد سیکولر چہرہ بے نقاب ہو گیا۔ پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ دہشت گرد تظنیمیں تو بھارت میں ہیں اس لئے مغرب ایسے ہندو انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف ایکشن لے۔ مولانا امجد خان نے کہا کہ شیوسینا اور اس کا سربراہ بال ٹھاکرے بھارت کے انتہا پسند ہی نہیں بلکہ دہشت گرد بھی ہے۔ ڈاکٹر زمرد یاسمین‘ دیبا مرزا‘ عافیہ سرور‘ نوشابہ احسن‘ بشریٰ شیریں‘ دیبہ کوکب‘ عمارہ‘ مریم اور دیگر نے کہا کہ ہنود و یہود مسلم خواتین کے حجاب‘ نقاب‘ برقعہ اور چادر سے دشمنی ترک کرتے ہوئے انہیں اسلامی شعائر کے مطابق زندگی بسر کرنے دیں۔